#LondonBridge حملہ: عثمان خان کے خاندان کی لندن برج واقعے کی مذمت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لندن برج حملہ آور عثمان خان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعے پر ’شدید غم اور صدمہ ہے‘ اور وہ ان کے اس اقدام کی ’پرزور مذمت‘ کرتے ہیں۔
ایک بیان میں انھوں نے متاثرین کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا۔
عثمان خان 2012 میں دہشت گردی کے الزام میں برطانیہ میں سزا یافتہ تھے۔
25 سالہ جیک میرٹ اور 23 سالہ سیسکیا جونز نے جمعہ کو قیدیوں کے بارے میں ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ انھیں 28 سالہ عثمان خان نے چاقو سے حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں عثمان خان کے خاندان کا کہنا تھا کہ عثمان کی اس حرکت نے انھیں بہت دکھ اور صدمہ پہنچایا۔
بیان میں عثمان کے خاندان نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ انھیں اس مشکل مرحلے میں پریشان نہ کیا جائے۔
حملے میں زخمی ہونے والے ایک اور شخص، جنھوں نے عثمان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی، کہتے ہیں کہ وہ اب اس واقعے کی حقیقت کو قبول کرتے جا رہے ہیں۔
لوکاز فِش مونگرز ہال میں ملازمت کرتے ہیں جہاں عثمان نے اپنا حملہ شروع کیا تھا۔ لوکاز کے مطابق انھوں نے ’کچھ سوچے سمجھے بغیر‘ قریب پڑا ایک ڈنڈا اٹھایا کر حملہ آور کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔
'میرے بیٹے کی تصویر کو نفرت کے لیے استعمال مت کرو'
جیک میرِیٹ کے والد ڈیوڈ میرِیٹ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا سخت سزاؤں کے قانون کے خلاف تھا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جیک کے والد ڈیوڈ میرِٹ نے اُن برطانوی اخبارات پر کڑی تنقید کی ہے جو مجرموں کو اپنی سزائیں مکمل کرنے تک جیل میں رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
'اپنے ناپاک پراپیگینڈے کے لیے میرے بیٹے کی موت اور اُس کی اور اس کی ساتھی کی تصویروں کو مت استعمال کرو۔ جیک ہر اس بات کے خلاف تھا جس کی تم نمائندگی کرتے ہو یعنی نفرت، معاشرتی تقسیم، جہالت۔'
قاتل جس کی شناخت پولیس نے اٹھائیس برس کے عثمان خان کے نام سے کی، دہشت گردی کے واقعے میں ملوث ہونے کی وجہ سے سزا کاٹ رہا تھا۔ اسے گزشتہ برس دسمبر میں سزا یافتہ مجرموں کے ایک اصلاحی پروگرام کے تحت نصف سزا کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
اس سے پہلے کے ایک ٹویٹ پیغام میں ڈیوڈ میرِٹ نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا جیک 'کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی موت کو ظالمانہ سزائیں دینے یا قیدیوں کو غیر ضروری عرصے تک جیل میں رکھنے کے لیے ایک جواز کے طور پر استعمال کیا جائے۔'
تاہم اب یہ معاملہ برطانیہ کے عام انتخابات سے صرف دو ہفتے پہلے ایک موضوع بن گیا ہے۔ عام انتخابات 12 دسمبر کو ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کو طویل سزائیں دینے کے قانون کی ضرورت ہے۔
انھوں نے حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت کے زمانے میں ایسے قوانین متعارف کرائے گئے تھے جن کی وجہ سے بقول ان کے عثمان خان جیسے مجرم جلد رہا ہو گئے تھے۔
بورس جانسن نے کہا تھا کہ 'میرے خیال میں اس شخص جیسے خطرناک افراد کو صرف آٹھ برس کی سزا کے بعد جیل سے رہا کردینا حماقت ہے، یہ ایک گھناؤنا عمل ہے۔'
بجٹ میں کٹوتیاں
دوسری جانب بورس جانسن اور ان کی کنزرویٹو پارٹی پر اس معاملے کو انتخابات میں نمبر بنانے کے لیے سیاسی رسہ کشی کا موضوع بنانے پر تنقید ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دوران بورس جانسن کے مخالف امیدوار اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربِن نے کہا ہے کہ سزا یافتہ دہشت گردوں کے لیے قید کی سزا کا پوری میعاد تک جیل میں رہنا ضروری نہیں ہے۔
انھوں نے اس واقعہ کی وجہ حکمران جماعت کی بجٹ میں کٹوتیوں کی پالیسی کو قرار دیا ہے جس کی وجہ سے جیلوں سے عارضی رہائی، ذہنی بیماری کے علاج کے محکموں اور نوجوانوں کے لیے خدمات سرانجام دینے والے اداروں میں مالیاتی وسائل کی کمی ہو گئی ہے۔
جیریمی کوربِن نے مزید کہا کہ عراق کی جنگ اور اس قسم کی دوسری برطانوی پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔
لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربِن نے کہا کہ 'حقیقی سیکیورٹی صرف سخت قوانین اور بہترین انٹیلیجنس کی وجہ سے نہیں حاصل کی جاسکتی ہے، بلکہ یہ موثر قسم کی عوامی خدمات کے لیے مالیاتی وسائل مہیا کیے جانے کی وجہ سے آتی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیک میرِٹ کے والد ڈیوڈ میرِٹ نے ٹویٹر پیغامات کے تبادلوں کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ 'اصل مسئلہ نگرانی کے کام میں کمی اور رہائی کے بعد کے بحالی کے عمل میں کمی ہے، نہ کہ کم عرصے کی قید کی سزاؤں میں ہے۔'
'ان خدمات میں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے نتیجے میں ہم اب اور زیادہ غیر محفوظ ہیں۔'
لندن برج پر جمعے کے روز ہونے والے حملے میں تین اور افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک کو علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ دوسرے دو افراد کی حالت بہتر ہے اور وہ اب بھی زیرِ علاج ہیں۔


























