بی بی سی کی میزبان ناگا منشیٹی نے ٹرمپ پر تنقید کر کے ’قواعد کی خلاف ورزی کی‘

ناگا منشیٹی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

بی بی سی کی شکایات سیل نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ میزبان ناگا منشیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ طور پر نسل پرستانہ گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو بی بی سی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ بی بی سی کی میزبان ناگا منشیٹی نے جولائی میں امریکی صدر کے تبصروں کا معاملہ اٹھایا تھا جب انھوں (ٹرمپ) نے اپنے مخالفین کو کہا تھا کہ ’وہ جس جگہ سے آئی ہیں وہیں واپس چلی جائیں۔‘

بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس کے پروگرام 'بی بی سی بریک فاسٹ' کی میزبان اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق رکھتی ہیں لیکن انھوں نے ادارے کے 'قواعد و ضوابط سے تجاوز کیا۔'

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کی تفصیلات بعد میں شائع کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی کی ایک ترجمان کا کہنا ہے ایگزیکٹو کمپلینٹ یونٹ (ای سی یو) نے فیصلہ دیا ہے کہ ’اگرچہ ناگا منشیٹی ’اپنے ملک واپس چلے جائیں‘ کے جملے پر ذاتی ردعمل دینے کی حقدار تھیں لیکن مجموعی طور پر ان کے تبصرے نے ادارے کے 'قواعد و ضوابط سے تجاوز کیا۔'

سکرپٹ سے ہٹ کر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے کے بعد 17 جولائی کو پروگرام 'بی بی سی بریک فاسٹ' میں بات کرتے ہوئے ناگا منشیٹی نے کہا تھا کہ: ’ایک سیاہ فام خاتون کی حیثیت سے جب بھی مجھے یہ سننے کو ملا کہ تم جہاں سے آئی ہو وہیں واپس چلی جاؤں، تو اس کی بنیاد نسل پرستی تھی۔‘

Donald Trump

،تصویر کا ذریعہReuters

’میں یہاں کسی پر کوئی الزام عائد نہیں کر رہی ہوں، لیکن آپ کو معلوم ہے کہ کچھ جملوں کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔‘

ناگا منشیٹی نے کہا انھیں ’بہت غصہ‘ آیا اور انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں بہت سے لوگوں کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا ہوگا۔

انھوں نے اپنے ساتھی میزبان ڈین واکر کو بتایا ’میرے خیال میں اس ملک کے بہت سے لوگوں کو اس بات پر غصہ آئے گا کہ اس عہدے پر فائز شخص کو لگتا ہے وہ اس طرح کی زبان استعمال کر کے حدیں پار کر سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ڈیموکریٹک پارٹی کی الہان عمر، الیگزیندریا اوکاسیو کورٹیز، آیانہ پریسلے اور راشدہ طالب کے حوالے سے کئی بیان دیے تھے۔

انھوں نے 14 جولائی کو ٹوئٹر پر لکھا ’وہ واپس جا کر ان ٹوٹے ہوئے جرائم سے متاثرہ علاقوں کو ٹھیک کیوں نہیں کرتیں جہاں سے وہ آئی ہیں۔‘

بی بی سی کے چند صحافیوں نے اس فیصلے پر اپنی ناپسندیگی کا اظہار کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

تنخواہ میں عدم مساوات کے تنازع میں اپنے عہدے سے استعفی دینے والی چینی مدیر اور میزبان کیری گریسی نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ سے بی بی سی کے صحافیوں میں ’بے چینی‘ پیدا ہوئی ہے جن کے لیے واپس جانا ’نسل پرستانہ‘ ہے۔ انھوں نے ای سی یو سے اپنے فیصلے کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کی نامہ نگار سنگیتا مائسکا نے ٹویٹ کی ’اس فیصلے کی وجہ سے بی بی سی میں کام کرنے والے اقلیتی عملے میں اضطراب پایا جاتا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو ہر شعبے میں ایک انوکھے طرز کی سیلف سینسرشپ کرنا پڑتی ہے۔

سنگیتا مائسکا کی حمایت میں میزبان میتھیؤ پرائس نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’سفید فام سٹاف میں بھی اضطراب (اور کچھ غصہ) پایا جاتا ہے۔۔۔ اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس معاملے پر کھلم کھلا بات کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ ہے۔‘

جب میزبان ناگا منشیٹی نے جولائی میں یہ بات کی تھی تو ان کی بہت تعریف کی گئی تھی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تاہم بی بی سی کے ای سی یو کی رائے میں ان کا یہ کہنا کہ ٹرمپ کا بیان ’نسل پرستی پر مبنی ہے‘ بی بی سی کی طے شدہ حدود سے تجاوز کرتا ہے اور انھوں نے ناگا منشیٹی کے خلاف شکایت کو جائز قرار دیا ہے۔

بی بی سی کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ناگا منشیٹی کے خلاف شکایت اور ای سی یو کا مکمل فیصلہ بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا اور اگر اس فیصلے کے نتیجے میں کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو اس کا بھی ذکر ہو گا۔

ناگا منشیٹی اپنا موقف دینے کے لیے دستیاب نہیں تھیں۔