حماس اور اسرائیل جنگ بندی پر رضا مند، غزہ کی ’ناکہ بندی میں نرمی‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

غزہ میں گذشتہ چند دنوں سے جاری شدید جھڑپوں کا سلسلہ تھم گیا ہے اور فلسطینی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

فلسطینی مسلح گروہوں اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ چند دن میں ہونے والی لڑائی میں 25 فلسطینی اور چار اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

فلسطینی مسلح گروہوں کی طرف سے سینکڑوں کی تعداد میں راکٹ اسرائیل پر داغے گئے دوسری طرف اسرائیل کی فوج نے فضائیہ اور ٹینکوں کو استعمال کرتے ہوئے غزہ میں شدید بمباری کی۔

اسرائیل نے حماس کے ساتھ ہونے والی اس جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق اسرائیل مسلح افواج نے جنوبی اسرائیل میں جو ہنگامی اقدامات کیے تھے وہ واپس لے لیےگئے ہیں۔

فلسطینی گروہوں اور اسرائیلی فوج میں تازہ لڑائی کا سلسلہ جمعہ کو فلسطینی شہریوں کی طرف سے غزہ کی باڑ کے ساتھ ہفتہ وار ہونے والے احتجاج سے شروع ہوا تھا۔

تازہ ترین صورت حال

حماس کے زیرِ اثر ایک نجی ٹی وی چینل نے اعلان کیا ہے کہ دونوں طرف سے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا گیا ہے جس کا اطلاق مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے سے ہو گا۔

اطلاعات کے مطابق مصر نے اقوام متحدہ اور قطر کی معاونت سے اس جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل کی مسلح افواج نے جنگ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے لیکن فوج نے اس دوران جو احتیاطی اقدامات کیے تھے اور جنوبی اسرائیل کے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں شہریوں پر نقل و حرکت کی جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن میں سکولوں کی عارضی بندش بھی شامل تھی واپس لے لی گئی ہیں۔

جنگ بندی کا اطلاق ہونے کے تھوڑی دیر بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ 'یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور ہم اسے جاری رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔'

اسرائیل فوج نے سوموار کی صبح کہا تھا کہ فلسطینی جنگجوؤں نے 48 گھنٹوں کے دوران غزہ پر 690 چھ راکٹ داغے جن میں سے 240 کو ان کے میزائل دفاغی نظام 'آئرن ڈوم' نے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔ اسرائیل فوج کے مطابق انھوں نے حماس اور اسلامی جہاد کے ساڑھے تین سو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

تجزیہ: مشرق وسطی کی نامہ نگار،یولیندا نئل

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اچانک بھڑک اٹھنے والی جھڑپیں بند ہو گئی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کرانے میں مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

فلسطین ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ماضی میں قاہرہ کی طرف سے کرائی گئی جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد ہو گا۔ ان کے تحت غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی برتی جائے گی اور امن کے بدلے قطر سے فلسطینی کو کروڑوں ڈالر کی منتقلی بحال ہو جائے گی۔

اسلامی جہاد اور حماس کی حکمت عملی کے مطابق اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا یہ بہترین وقت تھا جب وہ اپنی آزادی کی اکہترویں سالگرہ کی تقریبات اور گانوں کے مقابلے یورو وژن منعقد کرانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

آئندہ ہفتے غزہ کی باڑ کے ساتھ فلسطینی شہریوں کے ہفتے وار احتجاجی مظاہروں کا ایک سال پورا ہو رہا ہے اور حماس اور اسلامی گروہ اس موقع پر اپنے لوگوں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کچھ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ انھوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے گرد 40 کلومیٹر میں موجود تمام سکولوں کو بند کر دیا تھا جبکہ عوام کے لیے پناہ گاہیں کھول دی گئی تھیں۔

ہلاک ہونے والے کون ہیں؟

اتوار کو ایشکیلون میں غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ سے ایک 58 برس کا اسرائیلی شہری ہلاک ہوگیا تھا۔ سنہ 2014 کے بعد یہ پہلا اسرائیلی شہری ہے جو غزہ سے داغے گئے کسی راکٹ سے ہلاک ہوا۔

روئٹرز کے مطابق ایک اور اسرائیلی شہری جو کہ ایک فیکٹری میں ملازم تھا اُس وقت ہلاک ہوا جب اُس پر غزہ سے ایک ٹینک شکن میزائیل داغہ گیا۔ مرنے والوں میں ایک 67 سالہ اسرائیلی شہری اور ایک 20 سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں 25 فلسطینی ہلاک ہو ئے۔ دوسری جانب اسلامی جہاد تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں سے اس کے سات عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

مرنے والوں میں عام شہریوں میں ایک 12 سالہ بچہ اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک اور فوجی کارروائی کے دوران حماس کے ایک عسکریت پسند کمانڈر حامد ہمدان الخودری کو ہلاک کردیا۔

اسرائیل کی جانب سے الخودری جیسے حماس کے کسی سینئر لیڈر کو ہلاک کرنے کی پانچ برس میں یہ پہلی کارروائی تھی۔

حالیہ کشیدگی شروع کیسے ہوئی؟

جمعے کو ہونے والے ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد اسرائیلی حملے کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں حماس سے تعلق رکھنے والے دو عسکریت پسند بھی شامل تھے۔

اسرائیل میں گذشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے دوران عارضی جنگ بندی کے بعد اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی فضائی کارروائی میں ترکی کی نیوز ایجنسی اناتولو کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا، جس کی استنبول کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔

راکٹ حملے کب شروع ہوئے؟

اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق راکٹ حملے مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے شروع ہوئے۔

سنیچر کو کیے گئے راکٹ حملوں نے اسرائیلوں کو حفاظت کے لیے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے ایشکیلون میں گھروں کو پہنچنے والے نقصانات دکھائے ہیں۔

آئی ڈی ایف کے مطابق ان کے آئرن ڈوم میزائیل سسٹم نے درجنوں راکٹ حملے ناکام بنائے۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے حماس اور اس سے تعلق رکھنے والے کم از کم 120 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں پر ٹینکوں سے بھی حملے کیے گئے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ مولوت چاؤ شولو نے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ان حملوں کی مذمت کی ۔ انھوں نے ’عام شہریوں‘ کے خلاف اسرائیلی حملوں کو ’انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اناتولو کے دفاتر کو نشانہ بنانا اسرائیل کی بے لگام جارحیت کی نئی مثال ہے۔ اسرائیل کا بے گناہ افراد کے خلاف تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہم فلسطینی نصب العین کا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسرائیل کی جانب سے ترکی کی نیوز ایجنسی اناتولو کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

اردوگان کا کہنا تھا ’ہم اناتولو نیوز ایجنسی کے غزہ کے دفتر کو نشانہ بنانے کی پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ ترکی اور اناتولو دنیا کو اسرائیل کی غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں کی جانے والی دہشت گردی کے بارے میں بتاتا رہے گا۔ ‘

تازہ ترین چھڑپین کیوں شروع ہوئیں؟

تشدد میں یہ اضافہ جمعے کو اسرائیلی بندش کے خلاف ہونے والے ہفتہ وار احتجاج کے دوران شروع ہوا جب ایک فلسطینی نے دو اسرائیلی فوجیوں کو سرحدی باڑ پر گولیوں سے زخمی کر دیا۔

اس کے ردِ عمل میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے میں حماس سے تعلق رکھنے والے دو شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

سرحدی باڑ پر ہوئے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو اور فلسطینیوں کی ہلاکت ہو گئی۔

سنیچر کو راکٹ حملے اس وقت کیے گئے جب دو فلسطینی عسکریت پسندوں کی تدفین کا عمل جاری تھا۔

سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں حماس کے ترجمان عبدل لطیف القنوا کا کہنا تھا ’ہماری مزاحمتی تحریک قبضے کے دوران کیے گئے جرائم کا جواب دیتی رہے گی اور ہم اپنے لوگوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی رہائش پذیر ہیں جو اقتصادی طور پر اسرائیلی بندش اور غیر ملکی امداد میں حالیہ کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔