آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرائسٹ چرچ حملے میں ہلاک ہونے والے جہانداد علی: ’امی ہم کیوں جارہے ہیں؟ ابو نے کہا تھا اس دفعہ وہ آئیں گے‘
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر کیے گئے حملوں میں ہلاک ہونے والے 34 سالہ سید جہانداد علی کی اہلیہ آمنہ جہانداد جب جمعرات کو لاہور میں اپنے والدین کے گھر سے ایئر پورٹ کی جانب روانہ ہوئیں تو ان کی چار سالہ بیٹی میشا شاہ نے اپنی والدہ سے سوال کیا: 'مما ہم کیوں جارہے ہیں، ڈیڈی نے تو کہا تھا کہ اس دفعہ وہ ہم لوگوں کو لینے آئیں گے۔'
اپنے تین کم عمر بچوں کے ہمراہ نیوزی لینڈ کے لیے روانہ ہونے والی آمنہ کے پاس اپنی بیٹی کے اس معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
آمنہ جہانداد نے بی بی سی کو بتایا کہ سید جہانداد علی 24 مارچ کو پاکستان آرہے تھے اور 30 مارچ کو ان سب نے واپس نیوزی لینڈ جانا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جہانداد کے پاکستان آنے اور ہمارے پاکستان سے واپس نیوزی لینڈ جانے کے ٹکٹ بھی ہوچکے تھے۔
کرائسٹ چرچ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہ جنوری میں ہمارے ساتھ ہی پاکستان آئے تھے۔ اس موقع پر میں رک گئی تھی۔ پروگرام بنا تھا کہ جہانداد دوبارہ آئیں گے اور ہمیں ساتھ لے کر واپس جائیں گے۔ اس دوران وہ کچھ گھریلو معاملات بھی نمٹائیں گے۔ مگر اب وہ میرے ساتھ نہیں ہیں اور میں ان کے آخری دیدار کے لیے نیوزی لینڈ جارہی ہوں۔‘
آمنہ کی شادی تقریباً چھ سال پہلے ہوئی تھی اور اس دوران ان کا زیادہ وقت نیوزی لینڈ ہی میں گزرا تھا۔
’جب میں شروع میں جہانداد کے ساتھ نیوزی لینڈ جارہی تھی تو کچھ خوفزدہ تھی کہ میرا گزارا کس طرح ہوگا، کیسے وقت گزرے گا، پتا نہیں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر یقین کریں کہ مجھے کبھی کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہاں محبت کرنے والے اور خیال رکھنے والے لوگ تھے اور پاکستان کے مقابلے میں وہاں بس ایک ہی فرق تھا کہہ وہاں ہمارے عزیز و اقارب نہیں ہوتے تھے ورنہ دونوں ممالک میں کبھی فرق نہیں سمجھا۔‘
آمنہ نے مزید کہا: ’دوسرے ممالک میں اسلام فوبیا کے حوالے سے باتیں سنتے رہتے تھے مگر نیوزی لینڈ میں کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ پتا نہیں یہ دہشت گردی کی اتنی بڑی واردات کیسے ہوگئی۔‘
جہانداد علی تقریباً ایک دہائی سے نیوزی لینڈ میں مقیم تھے اور ان کے پاس نیوزی لینڈ کی شہریت تھی جبکہ آمنہ کی شہریت کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔
آمنہ کا کہنا تھا کہ جہانداد ایک ہیرا تھے جن کے لیے ہر ایک کے دل میں محبت ہوتی تھی۔
’ماں باپ کا بہت خیال رکھنے والے، بزرگوں کی عزت کرنے والے، بیوی بچوں کو ان کا حق دینے والے۔ اس وقت مجھے کچھ پتا نہیں کہ مستقبل میں کیا کروں گی، کیسے زندگی گزرے گی، نیوزی لینڈ رہوں گی یا واپس پاکستان آؤں گی۔ بس ایک ہی بات سوچ رہی ہوں کہ جہانداد کی میت کیسے دیکھوں گی؟‘
سید جہانداد علی کے برادر نسبتی سید رضا علی کا کہنا ہے کہ کرائسٹ چرچ سے جو اطلاعات ان تک پہنچی ہیں اُن کے مطابق سید جہانداد علی وضو کر کے مسجد کے ہال میں جارہے تھے کہ گولیوں کا نشانہ بنے اور موقع ہی پر زندگی کی بازی ہار گئے۔
’ہمیں بتایا گیا ہے کہ ان کی میت جمعرات کی شام یا جمعے کی صبح تک مل سکتی ہے۔ وہاں کی مسلمان کمیونٹی نے نیوزی لینڈ حکومت اور وہاں کی کمیونٹی کی مدد سے تدفین کے انتظامات مکمل کررکھے ہیں۔ ہمارے خاندان کے کئی افراد بھی تدفین میں شرکت کے لیے نیوزی لینڈ پہنچ رہے ہیں۔‘
لیاقت آباد کراچی میں واقع سکالر ان کوچنگ سسٹم کے چیف ایگزیکٹو سید یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سید جہانداد علی کے ساتھ پانچ سال تک رابطے میں رہے تھے۔
’سید جہانداد علی لیاقت آباد کراچی ہی میں رہتے تھے۔ زمانہ طالب علمی کے دوران ہمارے کوچنگ سنٹر میں استاد کے فرائض انجام دیتے تھے۔ واقعے کے بعد جب ہمارے علاقے کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ہر کوئی جہانداد کے بارے میں بات کررہا تھا۔ سب کہہ رہے تھے کہ اگر ہم سب مل کر بھی تلاش کریں تو سید جہانداد علی میں کوئی خامی نہیں نکال سکتے۔ لیاقت آباد کراچی میں ان کو جاننے والا ہر شخص ان کے اخلاق و کردار کی تعریف کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تین، چار سال تک سید جہانداد علی نے کوچنگ سنٹر میں پڑھانے کی خدمات سر انجام دیں۔
’وہ انتہائی شاندار استاد تھے اور جس بھی مضمون اور جس بھی کلاس کی ضرورت پڑتی ہم ان سے گزارش کرتے اور وہ اس طرح پڑھاتے تھے جیسے وہ اس مضمون کے ماہر ہوں۔ انھوں نے اس دوران درجنوں طالب علموں کو پڑھایا اور کامیابی سے ہمکنار کروایا تھا۔‘
سید جہانداد علی کی ہلاکت پر مائیکروسافٹ کے سربراہ کا تعزیتی پیغام
سید جہانداد علی کی ہلاکت پر ان کی کمپنی انٹرجین اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے منسلک لوگوں نے اپنے شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مائیکرو سافٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ساتیا نادیلا نے لنکڈ ان پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا: ’ہمارے معاشرے میں نفرت فساد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم نیوزی لینڈ میں ہولناک حملے میں ہلاک ہونے والے سب لوگوں بشمول عطا ایلیاں اور سید جہانداد علی کا جو ہمارے مائیکرو سافٹ فیملی کا حصہ تھے دکھ کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘
انٹرجین کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سائمن برائیٹ نے بھی اپنے دکھ کا اظہار کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ لنکڈ ان کا سہارا لیا ہے۔
’میں انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بتا رہا ہوں کہ ہمارے انتہائی قابل احترام ساتھی سید جہانداد علی مسجد النور کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کے حملے میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ میری تمام تر ہمدردیاں سید جہانداد علی کے خاندان، اس کی اہلیہ آمنہ، بچوں اور ان کے ساتھی کارکنان کے ساتھ ہیں۔
ہم انٹرجین میں متنوع تہذیب پر فخر کرتے ہیں۔ ہم برداشت، صبر اور ہر ایک کو قبول کرنے کی روایت پر کاربند ہیں۔ مجھے اس کمپنی میں کام کرنے پر فخر ہے جو ہر قسم کی نفرت کے خلاف کھڑی ہے۔ میری ہمدردیاں ہر اس فرد کے ساتھ ہیں جو اس المناک حملے سے متاثر ہیں۔‘
سید جہانداد علی کون تھے؟
لیاقت آباد کراچی میں سکالر ان کوچنگ سسٹم کے سید یوسف کے مطابق سید جہانداد ایک سیلف میڈ شخصیت تھے۔ زمانہ طالب علمی کے دوران وہ اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھایا کرتے تھے ۔ تین بھائیوں میں سب سے بڑے سید جہانداد علی تھےاپنے چھوٹے بھائیوں کے بھی شفیق استاد تھے اور ان کو بھی زمانہ طالب علمی سے لیکر عملی زندگی تک رہنمائی فراہم کرتے رہے تھے۔
سید جہانداد علی نے سال 2006 میں این ای ڈی یونیورسٹی سے کمپیوٹر اور انفارمیشن سسٹم میں ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصے پاکستان میں کام کرنے کے بعد وہ سعودی عرب کی ایک کمپنی میں چلے گئے جہاں وہ 2012 تک خدمات سر انجام دیتے رہے تھے۔
سال 2012 میں انٹرجین نیوزی لینڈ سے منسلک ہوئے اور وہیں منتقل ہوگئے۔ انٹرجین مشہور زمانہ مائیکرو سافٹ کی پارٹنر کمپنی ہے۔
مرحوم نے سوگواروں میں بیوہ، دو بیٹیاں، چار سالہ میشا، دو سالہ عائشہ اور چھ ماہ کا بیٹا محمد چھوڑا ہے۔