آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرائسٹ چرچ: ’یہ لڑائی بندوقوں سے نہیں دل و دماغ سے لڑنی ہے‘
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
'ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیوں نہ باہر جائیں؟ بلکہ اس واقعے کے بعد تو مزید بچوں کو باہر جانا چاہیے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تاثرات کا بخوبی مقابلہ کیا جاسکے۔ ہمیں یہ لڑائی بندوقوں سے نہیں دل و دماغ سے، بحث و مباحثے سے لڑنی ہے۔'
یہ کہنا ہے صبیحہ محمود کا جن کے 40 سالہ بیٹے ہارون محمود نیوزی لینڈ کی مسجد میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔
ہارون کی بہنوں کا بھی یہی خیال ہے کہ 'جب موت آنی ہوگی تو کہیں بھی آجائے گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خود کو چھپا لے یا کہیں جانے کے بارے میں سوچنا ہی بند کر دے۔'
ہارون محمود کا گھرانہ بظاہر کافی مضبوط نظر آتا ہے اور لگتا ہے کہ ان سب نے ہارون کی ہلاکت کو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن ان کی والدہ کہتی ہیں کہ 'میری نظر میں میرا بیٹا شہید ہے۔ چاہے کسی کو میرا یہ کہنا کیسا بھی لگے۔ میرے بیٹے کے ہمراہ کافی لوگ اور بھی شہید ہوئے جن کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہارون محمود پانچ سال پہلے بایو کیمیسٹری میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت نیوزی لینڈ گئے تھے۔ ان کی بیوی کرن نے بھی اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ ہارون نے اسلام آباد کے شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنولوجی سے پڑھائی مکمل کی تھی۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کی والدہ نے پہلے تو یہ واضح کیا کہ کئی اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ان کے بیٹے کا نام غلط بتایا جارہا ہے۔'میرے بیٹے کا نام ہارون محمود کے بجائے محبوب ہارون بتایا جارہا ہے جو کہ غلط ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'تین مئی کو ہارون کی گریجویشن کی تقریب ہونی تھی جس کے لیے وہ اپنی امّی کو نیوزی لینڈ بلانا چاہ رہے تھے۔ لیکن پھر بات 23 مئی تک چلی گئ اور ہارون نے کہا کہ وہ پاکستان آئے گا۔ بہت خوش تھا۔ گھر والوں کو دیکھنے کے لیے۔ دوستوں سے ملنے کے لیے۔ وہ پہلے سے پلاننگ کرنے پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن انسان سوچتا کیا ہے اور ہو کیا جاتا ہے۔'
انھوں نے پھر بتایا کہ اس وقت ان کے بیٹے کی تدفین کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ 'میری بہو اب تک ہوش میں نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹروں نے دوا دے کر ُسلا رکھا ہے کیونکہ وہ اب تک اس بات کو تسلیم نہیں کر پارہی ہے۔ لیکن جب تک وہ کچھ نہیں بتاتی تب تک میں کچھ نہیں ہونے دوں گی کیونکہ فیصلہ اس کا ہونا چاہیے۔ تو ابھی کچھ طے نہیں ہوا ہے کہ تدفین وہاں ہوگی یا ادھر۔'
صبیحہ اور ان کا گھرانہ اسلام آباد کے جی نائن سیکٹر کے رہائشی ہیں۔ سبیحہ نے بتایا کہ ان کے پانچ بچے ہیں جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ ہارون پانچ سال پہلے نیوزی لینڈ پی ایچ ڈی کرنے گیے جس کے چند ماہ بعد ان کے والد کا کینسر کے باعث انتقال ہوگیا۔ اُس وقت ہارون پاکستان نہیں آسکے تھے جس کا ان کے گھر والوں کے مطابق ان کو بہت افسوس تھا۔
'وہ مجھ سے بار بار معافی مانگتا تھا اور شدید افسوس کا بھی اظہار کرتا تھا۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کے اتنے لمبے کورس کے لیے جب بچے جاتے ہیں تو فوراً واپس آنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے والد بھی ایسی ہی طبیعت کے تھے، مضبوط اور سب کا خیال رکھنے والے۔'
مسجد پر حملے کے واقعے کے روز ہارون اپنے بیٹے کو ساتھ نہیں لے کر گئے حالانکہ ہر جمعے کو ان کا بیٹا ان کے ساتھ ہوتا تھا۔ 'لیکن اُس دن ان کے دل میں آیا اور بیٹے کو کہا کہ گھر رک جاؤ میں جلد ہی آجاؤں گا۔'
ہارون کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ان کو پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات اور فون موصول ہوئے جن میں سے کئی لوگ ہارون کے ساتھ سکول اور یونیورسٹی میں پڑھے تھے۔
واقعے کی اطلاع آنے کے بعد ان کے بھتیجے بھتیجیاں اپنے اپنے فون لے کر بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید کوئی خبر آ جائے۔ ’ہم سب اسی آس میں تھے کہ کچھ پتا لگ جائے لاپتہ لوگوں میں، کیونکہ اس وقت نیوز آرہی تھی کہ وہ لاپتہ ہے۔‘
آخر کار خبر آگئی۔
’مجھے کہہ رہا تھا کہ میری گریجویشن ہے 3 مئی کو ہے، میں نے کہا کہ میں ضرور آؤں گی، میرے لئے عزت کی بات ہے۔ بس یہ پروگرام بن رہا تھا تو پھر کہا کہ مجھے چھوٹی عید یہاں منانی ہے اور میں ٹکٹ دیکھ رہا ہوں کیا ریٹ چل رہا ہے۔‘
ہارون 25 مئی کو گھر آنے والے تھے۔ ’ہم تو خوش تھے کہ وہ آرہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی وہ بڑی ڈگری لے کر چلا گیا۔‘
نیوزی لینڈ میں فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 51 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے 9 پاکستانی ہیں۔