آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’بیوی کے مرنے کے بعد شادی قانونی طور پر تسلیم‘
امریکی ریاست یوٹا کے ایک جج نے ایک 74 سالہ عورت کی ایک اور عورت سے شادی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس عورت کی پارٹنر کا تین ماہ قبل انتقال ہوا تھا۔
جج پیٹرک کوروم نے اعلان کیا کہ بونی فورسٹر نے قانونی طور پر بیورلی گروسینٹ سے شادی کی تھی جو 82 سال کی عمر میں سالٹ لیک سٹی میں مئی میں انتقال کر گئیں۔
واضح رہے کہ امریکی ریاست یوٹا میں ہم جنس پرست شادیوں کو سنہ 2013 میں جب کہ ملک بھر میں 2015 میں قانونی حیثیت دے دی گئی تھی۔
یوٹا میں کورٹ میرج کا عام قانون نہیں ہے تاہم وہاں کے رہائشی عدالت کو شادی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فورسٹر نے 21 اگست کے فیصلے کو یاد کرتے ہوئے کہا: ’میرا دل محبت سے بھرا ہوا تھا‘۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’جج کوروم بینچ سے نیچے اترے اور مجھے گلے لگایا اور کہا ’ہاں تم شادی شدہ ہو۔‘
رابرٹ ہولی جو گذشتہ 20 سالوں سے زیادہ عرصے سے فورسٹر اور ان کے شوہر کے وکیل اور دوست تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ غیر معمولی ہے اگرچہ بے مثال نہیں۔
ہولی نے بی بی سی کو بتایا کہ یوٹا میں رواں ماہ دیا جانے والا عدالتی فیصلہ اس طرح کا دوسرا کیس ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایک ہم جنس جوڑے کے ساتھ ساتھ بہت شاذ و نادر ہونے والا واقعہ ہے۔‘
فورسٹر کی گراسین سے پہلی ملاقات نیویارک شہر میں آج سے 50 سال پہلے سنہ 1968 میں ہوئی تھی۔ دونوں کی ابتدائی ملاقات دکھ بھرے حالات کے تحت ہوئی تھی۔
بدسلوکی کرنے والے شوہر سے بھاگنے والی فورسٹر نے بتایا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور وہ اپنی آنکھوں کے گرد زخم چھپانے کے لیے دھوپ کا چشمہ پہنے ہوئی تھیں۔
انھوں نے کہا’ میں سر سے پاؤں تک شکستہ ہو چکی تھی۔‘
فورسٹر نے بتایا کہ وہ میرے پاس آئیں اور کہا ’اپنا دھوپ کا چشمہ اتار دیں، یہ جنوری کا مہینہ ہے۔‘
تعلق فوری تھا
فورسٹر کا کہنا ہے: ’مجھے پیار ہو گیا۔ میں نے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا اور مجھے پیار ہو گیا۔ وہ صرف میرے لیے ہے۔‘
محترمہ فورسٹر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے صرف ایک ہفتے بعد دونوں نے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی دوستی ان کے دیرپا تعلق کی کلید ہے۔
فورسٹر کا مزید کہنا تھا ’ہم بہت زیادہ ہنستے تھے۔ ہم کبھی ایک دوسرے سے ناراض نہیں ہوتے تھے۔‘
گراسین کی بیماری ماں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے وہ سنہ 1979 میں یوٹا منتقل ہو گئی تھیں۔
جوڑے کے پانچ دہائیوں کے تعلق نے فورسٹر کی صحت کو پیش آنے والے چیلنجوں کو بھی برداشت کیا۔
دونوں خواتین کے تعلق کے دوران فورسٹر کو چھاتی کے کینسر کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھیں 29 سرجریوں سے گزرنا پڑا۔
فورسٹر نے بتایا ’گراسین میرے ساتھ کھڑی رہیں، وہ بہت حیرت انگیز خاتون تھیں اور حیرت انگیز اخلاق والی خاتون۔‘
سنہ 2016 تک گراسین کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کی بینائی جانا اور دل کی دائمی بیماری شامل تھی۔
اگرچہ یہ جوڑا گراسین کی موت سے پہلے مہینے بھر کے لیے الگ الگ ہسپتالوں میں رہا تاہم فورسٹر گراسین کی موت کے وقت اپنے پارٹنر کے ساتھ تھیں۔
فورسٹر کا کہنا ہے کہ 50 سال ایک ساتھ گزارنے کے بعد ان کے پارٹنر کی جدائی ان کے لیے تباہ کن ہے۔
ان کے مطابق ’میں گم ہو گئی ہوں۔ میں نہیں جانتی کہ میں کون ہوں۔ وہ میری زندگی تھی۔‘
تاہم جب سنہ 2015 میں امریکہ بھر میں ہم جنس پرست شادی کو قانونی قرار دیا گیا تو ان دونوں کی ناساز صحت نے انھیں شادی کرنے سے روکے رکھا۔
فورسٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے گراسین کے ساتھ تعلق کے دوران مثبت تبدیلی محسوس کی۔
’میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ اب ہم جنس پرست شادیوں کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘