اسرائیلی فوج کی فلسطینی مظاہرین کے خلاف شدید کارروائی

وقت اشاعت

یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقعے پر غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل
،تصویر کا کیپشناسرائيل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشنغزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب چھ ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں لیکن امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم میں منتقل کیے جانے کے موقع پر ان میں شدت آئی ہے۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشنفلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر غزہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 37 فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشناسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 35 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ ساتھ ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں شریک ہیں اور اس کے فوجی ضابطۂ کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ سرحد پر اسرائیل فوج کی جانب سے مظاہرین طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اسے ’بین الاقوامی قوانین کی گھناؤنی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ان مظاہروں میں 1300 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مظاہروں کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔
اسرائیل
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا موغرینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غزہ کی باڑ کے نزدیک جاری مظاہروں میں درجنوں فلسطینی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہم مزید جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے سبھی سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی توقع کرتے ہیں۔‘
اسرائیل
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرز نے غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی تعداد پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔