موگابے کا طویل سیاسی سفر، تصاویر کی زبانی

وقت اشاعت

ٹیچر ٹریننگ، ملیشیا کی قیادت، سفید فام برتری کے خلاف جدو جہد سے لیکر استعفے تک کی زندگی پر ایک نظر۔

رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرابرٹ موگابے نے تعلیم ایک مشن سکول سے حاصل کی اور پھر سکول ٹیچر بننے کی تربیت مکمل کرنے کے لیے انھوں نے فورٹ ہرارے نامی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں نیلسن منڈیلا بھی گئے۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپھر ان کی ملاقات سیلی ہیفرون سے ہوئی جن سے انھوں نے 1961 میں شادی کر لی۔ اس وقت وہ سیاسی طور پر موگابے سے زیادہ فعال تھیں اور ابھی تک موگابے سیاہ فام قوم پرستوں میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں رھوڈیشیا کی حکومت نے انھیں قید کر دیا، جس دوران ان کا بیٹا انتقال کر گیا لیکن موگابے کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنہ 1974 میں جیل سے رہائی کے بعد رابرٹ موگابے اس وقت لوگوں کی نظروں میں آنے لگے جب انھوں نے سفید فام اقلیتی حکومت کے خلاف گوریلا جنگ میں جوشوا نکومو کا ساتھ دینا شروع کیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات کے بعد دونوں رہنما ہتھیار پھینکنے پر متفق ہو گئے۔ دونوں نے دیگر محب وطن رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا جس نے 1980 کے انتخابات میں زبردست برتری حاصل کر کے مغربی دنیا کو حیران کر دیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرابرٹ موگابے ان انتخابات سے محض چھ ہفتے قبل ہی دس سال کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔ انھوں نے تمام فریقوں کو ملا کر اپنی حکومت تشکیل دی اور وزیر اعظم بن گئے۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناقتدار کے پہلے سال میں انھوں نے دنیا بھر سے بڑے بڑے رہنما کو اپنے ہاں خوش آمدید کہا، جن میں کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو بھی شامل تھے جنھوں نے 1986 میں زمبابوے کا دورہ کیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنرابرٹ موگابے کے برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ اور شروع شروع میں موگابے نے اپنے سابقہ سفید فام دشمنوں کے ساتھ مفاہمت کی پالسی اپنائی اور ان کے معاشی مفادات کو تحفظ بھی دیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناپنی پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد انھوں نے 1996 میں اپنی ٹائپسٹ گریس ماروفو سے شادی کر لی۔ شادی سے پہلے ان دونوں کے ہاں دو بچے پیدا ہو چکے تھے۔ نوّے کے عشرے میں ہی رابرٹ موگابے نے ملک کو کانگو میں جاری جنگ میں جھونک دیا جس سے زمبابوے کی معشیت کو خاصا نقصان ہوا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 1997 میں ٹونی بلیئر کی جانب سے زمبابوے میں زرعی اصلاحات کے ایک پروگرام میں شرکت سے انکار اور پھر تین سال بعد ایک نئے ائینی ریفرنڈم میں شکست کے بعد موگابے کے حامی مسلح گروہوں نے سفید فام لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ وہی وقت تھا جب مسٹر موگابے نے قیمتی ڈیزائنر سوٹ ترک کر کے شوخ رنگوں کے لباس پہننا شروع کر دیے اور انتخابی مہم کے دوران ان کا یہ نیا انداز بہت مشہور ہوا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس وقت تک رابرٹ موگابے کی شخصیت ایک مذہبی رہنما یا پیر جیسی بن چکی تھی اور ہر سال حکمران جماعت ان کی سالگرہ کی تقریبات بڑے دھوم دھام سے منانے لگی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسالگرہ کی ان تقریبات میں بڑے بڑے کیک کاٹے جاتے تھے۔ اس کیک میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ رابرٹ موگابے کتنے افریقی ممالک میں سفید فاموں کی بالادستی کے خلاف جد وجہد کر رہے ہیں۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلیکن خود ان کے ملک، خاص طور پر شہری علاقوں میں، ان کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی تھی۔ یہاں تک کہ 2008 کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بعد میں ایم ڈی سی پارٹی کے انتخابات سے باہر ہو جانے کی وجہ سے انھیں آخری مرحلے میں کامیاب مل گئی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کے بعد مسٹر موگابے کی نظر مشرق کی طرف ہو گئی۔ انھوں نے علاج معالجے کے لیے بھی ایشائی ممالک کو جانا شروع کر دیا جہاں سنگاپور اور ہانگ کانگ میں ان کی بیٹی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچار سال تک حکومت میں دوسری جماعتوں کی شراکت کے بعد ان کی جماعت زانو پی ایف سنہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان کی جماعت کا نعرہ ملک کی اپنی روایات اور معیشت پر انحصار تھا۔ لیکن پھر سنہ 2016 میں زر کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلیکن ان ہنگامہ خیز دنوں میں ملک کی افواج ہمیشہ مسٹر موگابے کے ساتھ رہیں، تاوقتیکہ ان کی اہلیہ کی اقتدار کی خواہش اتنی زیادہ ہو گئی کہ فوج کے لیے ان کا ساتھ دینا ممکن نہ رہا۔ اور پھر 15 نومبر سنہ2017 کو فوج نے مسٹر موگابے کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ٹھان لی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج بے چین تھی کہ مسٹر موگابے کو یہ احساس نہیں کہ اب ان کی حکومت کے دن واقعی ختم ہو چکے ہیں۔ اس دوران موگابے نے معمول کی مصروفیات جار رکھیں، تاہم گریجوئیشن کی تقریب میں کرسی پر سو جانے کا مطلب یہی تھا کہ اب ان کی عمر ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔
رابرٹ موگابے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیکن پھر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی اسمبلی میں ہیش ہو گئی اور یوں مظاہروں کے درمیان اس 93 سالہ رہنما نے 21 نومبر کو استعفیٰ دے دیا۔ یوں مسٹر موگابے کا 37 سال پر محیط اقتدار اپنے اختتام کو پہنچا اور ملک کی سڑکوں پر لوگ جشن منانے لگے۔