قطر کے تارکینِ وطن: ’سیلف میڈ نہیں بلکہ گاڈ میڈ ہوں‘

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دوحہ قطر
  • وقت اشاعت

خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں قطر ایک چھوٹا ملک ہے تاہم یہاں دنیا کے تیسرے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والی دولت کی بدولت گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے قطر نےتعمیر و ترقی کا سفر تیزی سے طے کیا ہے۔

جہاں چند برس قبل صرف ریت کا صحرا تھا، وہاں آج آسمان کو چھوتی عمارتیں اور کشادہ سڑکیں نظر آتیں ہیں۔ موجودہ قطر کو بنانے میں تارکینِ وطن کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنھوں نے اس عمل میں خود اپنا طرزِ زندگی بھی بہتر بنایا۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں انتہائی عاجزانہ آغاز کرنے والوں کے پاس آج مال و دولت کی ریل پیل ہے۔

خصوصاٌ جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کئی تارکینِ وطن کے لیے قطر خوابوں کی سر زمین ثابت ہوا ہے۔ انھی میں انڈیا کے شہر بھوپال سے تعلق رکھنے والے محمد صبیح بخاری بھی شامل ہیں۔ وہ تقریباً تین دہائیاں قبل قطر آئے اور واٹر پروفِنگ کرنے والی ایک معمولی کمپنی میں سیلز مین کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔

آج اُسی کمپنی کا شمار قطر کی چند بڑی کپمنیوں میں شمار ہوتا ہے، جس سے مزید نئی کمپنیاں بن چکی ہیں۔ صبیح بخاری اس کمپنی کے مالک یا مینیجنگ پارٹنر ہیں۔ سنہ 2014 میں مشہور معاشی جریدے فوربز مڈل ایسٹ نے انھیں مشرقِ وسطیٰ کے 100 بااثر کاروباری افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے صبیح بخاری نے بتایا کہ ان کی اس غیر معمولی ترقی کے پیچھے ان کی محنت، بہترین حکمتِ عملی بنانے کا فن اور پھر اچھی قسمت کا عمل دخل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'میں قطر یا خلیجی ممالک نہیں آنا چاہتا تھا۔ انڈیا ہی میں اپنا مستقبل تعمیر کرنے کا ارادہ تھا، مگر کہتے ہیں کہ قسمت کے آگے کسی کی نہیں چلتی سو میری بھی نہیں چلی۔'

وہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سنہ 1989 قطر میں ساٹکو انٹرنیشنل نامی ایک کمپنی میں سیلز مین کے طور پر بھرتی ہوئے۔ انڈیا جا کر امیدواروں کا انٹرویو لینے والی کمپنی کے نمائندہ نے انھیں بہت اصرار کے بعد محض تجرباتی طور پر قطر آنے پر کیا۔

صبیح کہتے ہیں کہ 'طے یہ پایا تھا کہ اگر انھیں کام پسند نہ آیا تو ایک ماہ بعد انڈیا واپس چلا آؤں گا۔ اس لیے نہ ہی تنخواہ مقرر ہوئی اور نہ دیگر مراعات کا تعین ہوا تھا۔' کمپنی نے ہوائی ٹکٹ بھیجا اور وہ چلے آئے۔

اُن کے مطابق 'عربی زبان سے میں آشنا نہیں تھا، سیلز مین کا کام جس کے لیے مجھے لایا جا رہا تھا وہ مجھے نہیں آتا تھا اور پہلی بار انڈیا سے نکلا تھا اس لیے سخت اداسی بھی تھی۔'

وہ کہتے ہیں کہ ان کی مشکلات میں اضافہ تب ہوا جب محض ایک ماہ بعد کمپنی کے مالک کی غیر حاضری کی وجہ سے تمام کاروبار انھیں سنبھالنا پڑ گیا اور ذمہ داری نے وہ سب کچھ سکھا دیا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ جب رکنے کا فیصلہ کر لیا تو کاروبار کو بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔

ان کا کہنا ہے کہ محض تین برس کے عرصہ میں واٹر پروفِنگ کے کاروبار میں ان کی کمپنی ملک میں دیگر بڑی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ گئی۔

فصیح بخاری کی ترتیب کردہ حکمتِ عملی سے کپمنی کے مزید حصے وجود میں آئے اور 15 ملازمین پر مشتمل کمپنی ایک وقت میں 15 ہزار ملازمین تک جا پہنچی۔ آج ان کی کمپنی کی مالیت نو کروڑ ڈالر ہے۔

کاروبار میں اضافے کے ساتھ ساتھ فصیح بخاری ترقی پاتے ہوئے انتظامی معاملات سنھنالنے لگے اور پہلے کمپنی میں حصے دار بنے اور پھر اس کے مینیجنگ پارٹنر یا مالک بن گئے۔

یاد رہے کہ قطر سمیت خلیجی ممالک میں کاروبار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی قطری شہری کو شراکت دار بنایا جائے۔ اس ایک کپمنی سے تین مزید کمپنیاں وجود میں آئیں جن میں واٹر پروفنگ میں استعمال ہونے والی مصنوعات تیار کرنے والی فیکٹری بھی شامل ہے۔

بخاری کہتے ہیں وہ دنیا کے بیشمار ممالک گھوم چکے ہیں تاہم قطر کو وہ خوابوں کی سرزمین سمجھتے ہیں۔

'یہ درست ہے کہ آپ مقامی شراکت دار کے بغیر یہاں کاروبار نہیں کر سکتے مگر یہاں کی حکومت آپ کے سرمائے کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں ہر کام میں مشکلات ہوتی ہیں۔ جس پر انسان کا قابو نہیں ہے تاہم ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے یہ اس کے اختیار میں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کی ترقی میں محنت ان کی اپنی تھی، حکمتِ عملی اور اس پر عمل درآمد ان کا تھا، تاہم کامیابی 'اچھے نصیب' سے ملی ہے۔

صبیح کہتے ہیں کہ 'وہ اپنے آپ کوسیلف میڈ انسان نہیں سمجھتے بلکہ گاڈ میڈ انسان یعنی نصیب کا بنایا انسان سمجھتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ کامیابی کے لیے اُن کا ایک ہی گر ہے۔ وہ ہار ماننے یا چھوڑ دینے میں یقین نہیں رکھتے۔