حملے کے دوران بھاگیں، تصویریں نہ بنائیں!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں پولیس دہشتگردی کے حملوں کے عینی شاہدین سے کہہ رہی ہے کہ وہ بجائے واقعے کی تصویر یا ویڈیو بنانے کے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کریں۔
برطانوی پولیس کی جانب سے شروع کی گئی مہم میں یہ کوشش کی جاری ہے کہ سکول کے بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ایسی ممکنہ صورتحال میں کیا کرنا چاہیے۔
پولیس چیفز کا کہنا ہے کہ کلاس روموں میں دی گئی تجاویز سے جانیں بچ سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں اس سال متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں مانچسٹر میں ایک کنسرٹ میں بھی دھماکہ شامل ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں لندن کی انڈرگراؤنڈ ٹرین پر حملے میں نہ پھٹنے والے بم کی تصاویر چند ہی لمحوں میں انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی تھیں۔
انسدادِ دہشتگردی حکام نے پہلے ہی متعدد عوامی مہم چلا چکے ہیں جن میں عوام کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہدایات دی جاتی ہے۔
’رن، ہائڈ، ٹیل‘ یعنی بھاگیں، چھپیں، بتائیں، کی ہدایات لوگوں کو بتاتی ہیں کہ حملے سے دور رہیں، پھر چھپیں اور پھر حکام کو مطلع کریں۔

،تصویر کا ذریعہSYLVAIN PENNEC
ماہرین نے اب ایک نیا ورژن تیار کیا ہے جو کہ 11 سے 16 سال عمر کے بچوں کے لیے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اسے قومی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھاگیں، چھپیں، بتائیں پر مبنی ایک ویڈیو اور ایک اموجی بنائی گئی ہے۔
لندن پولیس کی ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنرلوسی دورسی کا کہنا ہے کہ ’دہشتگردی انتہائی ڈرونی ہوسکتی ہے اور حال ہی میں ہونے والے حملوں میں متعدد انتہائی کم عمر کے متاثرین تھے۔ اگر ہم بچوں کو یہ سکھا سکتے ہیں کہ خود کو کیسے بچانا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھیں خصوصی طور پر اس پر پریشانی ہوتی ہے جو وہ لوگوں کو اپنے موبائل فونز پر تصاویر بناتے ہوئے دیکھتی ہیں جب ان لوگوں کو دور بھاگ رہے ہونا چاہیے۔























