وہ امریکی جھیل جو درجنوں سٹیم بوٹس کا مدفن ہے

کٹاہڈن کشتی

،تصویر کا ذریعہVisit Maine

وقت اشاعت

میں ایک سٹیم بوٹ (بھاپ سے چلنے والی کشتی) کو اپنی جانب آتا دیکھ رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے کہا کہ ’100 سال پہلے یہاں پر ایسی درجنوں سٹیم بوٹس گھوم رہی ہوتی تھیں۔‘

میں امریکی ریاست ’مین‘ میں ایک چھوٹی جھیل کے نواح میں واقع علاقے میں پلا بڑھا ہوں جو یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے، اور میں نے کئی گرمیاں اپنے خاندان کے ساتھ موزہیڈ جھیل کی سیر کرنے میں گزاریں۔

لیکن یہ پہلا موقع تھا جب میں تاریخی سٹیم بوٹ ’کٹاہ ڈن‘ پر سوار ہوا۔ ایک زمانے تک یہاں موجود وسیع بیڑے میں سے اب یہی باقی ہے۔ اس زمانے میں قریبی ٹرین ڈپو سے شاندار لباسوں میں ملبوس اشرافیہ کو گرمیوں کی تعطیلات میں یہاں لگژری ریزورٹس تک لے جایا جاتا تھا۔

اگرچہ یہ جھیل 310 مربع کلومیٹر (ریاست کی سب سے بڑی) پر محیط ہے لیکن اس میں 50 جہازوں کی آمدو رفت کا تصور کرنا مشکل تھا۔ میں نے پوچھا کہ ’پھر باقیوں کا کیا ہوا؟‘

اس نے گدلے پانی کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں بظاہر بہت سے جہاز پانی کی تہہ میں نیچے بیٹھے ہیں۔

لوگ گرین ولے پہنچنے کے لیے ٹرین یا دوسرے ذرائع کا استعمال کرتے اور وہاں سے پھر کشتی کا سفر کرتے

،تصویر کا ذریعہDenis Tangney Jr / Getty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ گرین ول پہنچنے کے لیے ٹرین یا دوسرے ذرائع کا استعمال کرتے اور وہاں سے پھر کشتی کا سفر کرتے

سنہ 1830 کی دہائی سے لے کر 1930 کی دہائی تک جب سٹیم بوٹس چل رہی تھیں، یہ جھیل اور شمالی مین میں جھیل کے آس پاس واقع جنگل امریکی سیاحوں میں اتنے ہی مقبول تھے جتنے آج ہیمپٹن یا کیپ کوڈ ہیں۔

امریکی مصنف ہنری ڈیوڈ تھورو ان لاکھوں ایکڑ جنگلات کے سحر میں مبتلا ہو گئے تھے۔ سنہ 1864 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دی مین وڈس‘ میں انھوں نے ماؤنٹ کٹاہ ڈن کی چوٹی پر کھڑے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں سے ’میں سورج کی روشنی میں چمکتے بے کنار جنگلات، جھیلیں، اور چشمے۔۔۔ دیکھ سکتا تھا۔‘

جوں جوں اس دور کی لاگنگ یا آراکشی کی صنعت اس علاقے کو مزید قابل رسائی بناتی گئی، موسم گرما کی سیاحت موزہیڈ جھیل کے آس پاس پھلتی پھولتی گئی (جسے تھورو نے ’میز کے آخر میں چمکتی ہوئی چاندی کے تھال کے طور‘ پر بیان کیا ہے)۔

لوگ گرمیوں میں جوق در جوق بڑی تعداد میں آتے اور جھیل کے جنوبی کنارے پر واقع گاؤں گرین ویل جنکشن تک ٹرین یا سٹیج کوچ لے کر دور دراز کے علاقے تک پہنچتے تھے، اور پھر درجنوں سٹیم بوٹس میں سے ایک پر سوار ہو کر ہوٹلز جاتے تھے۔

ان میں 500 کمروں والا ماؤنٹ کینیو ہاؤس بھی شامل تھا۔ اس وقت یہ ملک کے سب سے بڑے ہوٹلوں میں سے ایک تھا، اس میں بولنگ ایلی، ٹیلی فون، بجلی، تین بھاپ سے چلنے والی کشتیاں اور یہاں تک کہ اس کی اپنی بیس بال ٹیم بھی تھی۔

اس جھیل کے کنارے پر پروان چڑھنے والے ریان رابنز نے کہا: 'مجھے نہیں لگتا کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس ہو گا کہ صدی کے اختتام پر موزہیڈ جھیل کے علاقے میں کتنی سیاحت تھی۔ یہ اپنے قدرتی وسائل، دور افتادگی اور مبہوت کرنے والی خوبصورتی کی وجہ سے ایک ترقی کرتا ہوا قصبہ تھا۔ سٹیم بوٹ انڈسٹری اس کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھی جس کی وجہ سے یہ سب ہو رہا تھا۔ اس وقت یہ خطہ ملک بھر میں جانا جاتا تھا اور اسے ہر جگہ کھیلوں کے رسائل اور ڈائریکٹریز میں شائع کیا جاتا تھا۔‘

کبھی وہاں 500 کمروں پر مشتمل ہوٹا ہوتا تھا

،تصویر کا ذریعہChronicle / Alamy Images

،تصویر کا کیپشنکبھی وہاں 500 کمروں پر مشتمل ہوٹل ہوتا تھا

لیکن جب جھیل کے آس پاس کے بڑے شہروں کے درمیان سڑکیں بننے لگیں اور لاگنگ کم ہونے لگی تو پھر ان سٹیم بوٹس کا زیادہ استعمال نہیں رہا۔ ریزورٹس بند ہونے لگے اور سیاحت میں کمی آنے لگی۔ گریٹ ڈپریشن (عظیم کسادبازاری) اور دوسری جنگ عظیم نے چیزوں کو اور بھی مشکل بنا دیا۔

کیتھ کارٹر موزہیڈ کے سب سے زیادہ آبادی والے قصبے گرین ویل میں رہتی ہیں (جہاں وہ 35 سال تک سکول ٹیچر تھیں)۔ وہ ایک بوٹ کے کپتان اور سٹیم بوٹ دور کے بلڈر سٹل مین سایر کی پوتی ہیں۔

سٹل مین کی اہلیہ برٹی نے ان دنوں کی تفصیل ایک ڈائری میں محفوظ کر رکھی تھی۔ 8 اپریل 1935 کو، برٹی نے لکھا: ’سٹل مین کو خبر ملی کہ ان کی میل کنٹریکٹس سے چھٹی کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب، اب ان کے لیے مزید کشتیاں نہیں ہیں۔ مجھے اس پر دکھ ہو رہا ہے۔‘

کارٹر کہتی ہیں کہ ’جب بھی میں اس تحریر کو پڑھتی ہوں، میں رُک کر ان کی پریشانی اور تناؤ کے بارے میں سوچتی ہوں جو اس نے اپنے مستقبل کے لیے محسوس کی ہوں گی۔ سٹل مین کی زندگی، ان کے خاندان کی زندگی، بلکہ ہر چیز کا تعلق موزہیڈ جھیل پر کشتیاں چلانے کے کاروبار سے تھا۔ اب وہ ڈاک کے معاہدوں کے کاروبار کے بغیر کیا کریں گے؟ اب جب کہ راک وڈ کی سڑک مکمل ہو چکی ہے، پھر بھی کیا لوگوں کو اب بھی مسافر کشتیوں کی خدمات کی ضرورت ہو گی جو ان کو اور ان کے سامان کو جھیل تک لے جائے؟'

اور پھر سنہ 1940 اور 1970 کی دہائی کے درمیان سٹیم بوٹس واقعتاً اپنے انجام کو پہنچیں۔ کچھ بڑی کشتیوں کو پرزوں کے لیے بچا لیا گیا جبکہ ایک حادثاتی طور پر تباہ ہو گئی۔ لیکن اکثر موزہیڈ جھیل میں پھنس کر رہ گئیں جب مالکان کو احساس ہوا کہ ان پر قیمت سے زیادہ وقت، جگہ اور پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔

سٹیم بوٹ کٹاہڈین نے سنہ 1915 میں اپنا سفر شروع کیا تھا

،تصویر کا ذریعہRyan Robbins

،تصویر کا کیپشنسٹیم بوٹ کٹاہ ڈن نے سنہ 1915 میں اپنا سفر شروع کیا تھا

جو آخری سٹیم بوٹ بچی وہ کٹاہ ڈن تھی۔ اس نے 1915 میں مسافروں کو لے جانا شروع کیا تھا اور یہ سنہ 1975 تک چلتی رہی۔

یہ موز ہیڈ جھیل کے قریب دریائے کینی بیک سے نشیب میں لکڑی لے جانے میں مدد کرتی تھی۔ اسے پیار سے 'دی کیٹ' کہا جاتا تھا اور ابتدا میں اس کا مقدر بھی تباہ ہونا تھا لیکن مقامی شہریوں کے ایک گروپ نے اسے موزہیڈ میرین میوزیم میں عطیہ کرنے کا کام کیا، جہاں اسے تاریخی مقامات کے قومی رجسٹر میں رکھا گیا اور اب وہ جون کے آخر سے اکتوبر کے وسط تک روزانہ عوامی بحری سفر کی خدمات انجام دیتی ہے۔

کارٹر نے کہا: 'میری چچی اور چچاؤں کی اپنے والد کے ساتھ کشتیوں کے سفر کی باتیں سننا میرے لیے ہمیشہ دلچسپ رہا ہے۔ سنہ 2019 میں، کٹاہ ڈن کے ایک خصوصی فیملی سفر پر میری 98 سالہ آنٹی گینی نے جہاز کا ہینڈل سنبھالا اور وہ کپتان راکی کو بتانے لگیں کہ کروزنگ چینل کہاں ہے اور کن چٹانوں کو دیکھنا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

نوجوانی کے دنوں میں لز مککیل اپنی گرمیاں موزہیڈ میرین میوزیم میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے میں گزارتیں۔ آج وہ میوزیم کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔

سنہ 2013 میں اس نوکری میں آنے کے فوراً بعد جب وہ دفتر کی فائلوں پر نظر دوڑا رہی تھیں تو انھیں ایک بنڈل ملا: اس میں موز ہیڈ جھیل میں غوطہ خوری کے نقشے تھے۔ مککیل پہلے ہی جھیل کی تاریخ سے بخوبی واقف تھیں لیکن انھوں نے پہلے پانی کے اندر کے یہ نقشے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

اسے مقامی غوطہ خور کرس ہیوگو نے سنہ 90 کی دہائی میں تیار کیا تھا اور اس میں پانچ سٹیم بوٹس کے چھوڑ دیے جانے کے مقامات کی تفصیل دی گئی تھی۔ میک کیل نے کہا: ’انھوں نے کسی خزانے کے نقشے کی طرح واقعی میرے تخیل کو اپنی گرفت میں لے لیا۔‘

کبھی یہ جگہ امریکہ بھر میں معروف سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی

،تصویر کا ذریعہMoosehead Marine Museum

،تصویر کا کیپشنکبھی یہ جگہ امریکہ بھر میں معروف سیاحتی مقام ہوا کرتی تھی

تاہم رابنز پہلے سے ہی ہیوگو کے غوطہ خوری کے دستاویزات سے واقف تھے۔ انھیں بچپن سے ہی ملبے کا شوق تھا۔ آخر کار انھیں احساس ہوا کہ وہ ڈوبی ہوئی سٹیم بوٹس کی کبھی کبھار جھلک سے زیادہ چاہتے ہیں جو سورج کی روشنی میں کسی خاص زاویے سے چمک اٹھتے تھے۔ اور پھر انھوں نے سکوبا سرٹیفیکیٹ یعنی غوطہ خوری کی سند حاصل کی تاکہ وہ سطح کے نیچے جا کر اسے تلاش کر سکیں۔

سنہ 2015 میں موز ہیڈ لیک ڈائیورز کلب بنانے اور اپنی غوطہ خوری کی مختصر ویڈیوز بنانے والے رابنز نے کہا،: 'میں موز ہیڈ میں اپنے پہلے غوطے سے حیران زدہ آنکھوں کے ساتھ واپس آیا اور محسوس کیا کہ دوسروں کو اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔'

آج تک کی معلومات کے مطابق پانی کے نیچے نو سٹیم بوٹس اپنی پوری شکل و صورت میں موجود ہیں۔

ایک مشترکہ دوست نے مککیل کا روبنس سے تعارف کرایا اور دونوں نے اپنی مشترکہ دلچسپی پر مبنی ایک پراجیکٹ کا خواب دیکھا۔ یہ خواب ڈوبی ہوئی سٹیم بوٹس پر ایک دستاویزی فلم اور ان کے شاندار دنوں کی کہانیوں کو محفوظ کرنے کے لیے زبانی تاریخ کی پیش کرنے کی کوشش تھی۔

اس کے لیے انھوں نے متعدد مقامی لوگوں کی مدد لی اور اس کے ساتھ سٹیم بوٹ پر کام کرنے والے سابق عملے اور رہائشیوں سے بھی بات کی جنھیں جھیل پر تعطیلات کے دور یاد تھے۔ انھوں نے حال ہی میں موزہیڈ جھیل کی ڈوبنے والی سٹیم بوٹس نامی فلم کو مکمل کیا اور اسے وہ فی الحال فلمی میلوں میں نمائش کے لیے جمع کر رہے ہیں۔

غرقاب سٹیم بوٹ

،تصویر کا ذریعہRyan Robbins

،تصویر کا کیپشنغرقاب سٹیم بوٹ

مککیل نے کہا کہ ’سٹیم کی کشتیاں اس وقت کی علامت ہیں جب ہمارا خطہ خوشحال تھا اور وہاں گہما گہمی ہوا کرتی تھی۔ مقامی آبادی آج کی نسبت تقریباً دوگنی تھی، اور خاندان مہمان نوازی اور لکڑی کی صنعتوں کی مختلف ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہے تھے۔'

آج اس علاقے میں شاید ہی کوئی 500 کمروں پر مشتمل ریزورٹ ہو، لیکن سیاحت اب بھی زندہ ہے۔

آج کل لوگ ’کیمپ‘ (وہاں رہائش کے لیے مقامی بول چال کا لفظ جسے دوسرے لوگ کیبن، کاٹیج یا جھیل والے گھر کے نام سے جانتے ہیں) کی سادگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ تاریخی سرائے میں سے کسی ایک میں چیک ان کرتے ہیں اور شاید موز سپاٹنگ ٹور یا سمندری جہاز کی سواری بک کرتے ہیں، یا جھیل کی سیر کے لیے کیٹ پر سوار ہوتے ہیں، جیسا کہ میں نے کیا تھا۔‘