کامپونگ: فلک بوس عمارتوں کے قریب ہی ٹین کی چھتوں والا ’سنگاپور کا آخری گاؤں‘

    • مصنف, سمینتھا ہوئی چی یاؤ
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول
  • وقت اشاعت

اگر آپ شمال مشرقی سنگاپور میں مصروف شاہراہ ییو چو کانگ روڈ سے اتر کر ایک لمبے کچے راستے پر چلتے جائیں جو 300 میٹر تک سانپ کی طرح بل کھاتا ہے تو آپ ایک ایسی جگہ پہنچ جائیں گے جو کسی ٹائم کیپسول کی مانند معلوم ہوگی۔

یہ ہے سنگاپور کا آخری گاؤں، کامپونگ لورونگ بوانگکوک، جو تین ایکڑ اراضی پر محیط ہے۔

اس جگہ آپ کو اب بھی 1960 کی دہائی کی باقیات اپنی اصلی حالت میں مل جائیں گی اور یہ آج کے جدید دور کے سنگاپور کی فلک بوس عمارتوں سے بالکل مختلف ہے۔

ان کے بجائے وہاں پرانے بنگلوں کا جھرمٹ ہے جو شہر کے بیتے ہوئے برسوں کا کوئی پوسٹ کارڈ دکھائی دیتا ہے۔

کامپونگ، جس کا مالے زبان میں مطلب ’گاؤں‘ ہے، اس شہری ریاست میں ایک دیہی نخلستان کے مترادف ہے۔ یہاں ایک چھوٹی سی مسجد (سوراؤ) کے گرد تقریباً 25 لکڑی کی ایک منزلہ بنگلہ نما عمارتیں موجود ہیں جن کی چھتیں ٹین کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہاں وہ پھول پودے مثلاً مقامی ساحلی درخت کیٹاپانگ اگے ہوئے ہیں جو کنکریٹ کے سنگاپور سے پہلے اس کا مکمل احاطہ کیے ہوئے تھے۔ قریب ہی اوپر سے بجلی کی تاریں گذر رہی ہیں جو کہ خود ہی ایک نادر شے نظر آتی ہیں کیونکہ اب یہ شہر کے باقی حصوں میں زیادہ تر زیر زمین ہیں۔

بزرگ رہائشی اپنے برآمدوں پر بیٹھتے ہیں۔ مرغیاں اپنے اپنے دربوں یا خوانچوں میں کڑ کڑ کر رہی ہیں اور جھینگر اور مرغے اپنا اپنا راگ آلاپ رہے ہیں۔ یہ گزرے ہوئے کل کی آوازیں ہیں جو شہر کی آلودہ آوازوں کو کم کرتی ہیں اور ایک پرسکون، دیہاتی ساؤنڈ ٹریک مہیا کرتی ہیں۔

جب زیادہ تر لوگ سنگاپور کے بارے میں سوچتے ہیں تو عام طور پر ان کے ذہنوں میں دیہاتی ماحول نہیں آتا۔ بلکہ، اس کے مقابلے میں کشتی نما مرینا بے سینڈز ٹاورز، شہر کی اوپر اٹھتی ہوئی سکائی لائن، یا گارڈنز بائے دا بے کے رنگین اور فیوچرسٹک یا مستقبل کے باغات آتے ہیں۔

لیکن 1970 کی دہائی کے اوائل تک لورونگ بوانگکوک جیسے گاؤں سنگاپور میں عام تھے۔ سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے محققین کے ایک اندازے کے مطابق اس جزیرے پر تقریباً 220 بکھرے ہوئے گاؤں تھے۔ آج، اگرچہ آس پاس کے جزیروں پر ابھی بھی کچھ گاؤں موجود ہیں، لیکن مین لینڈ پر لورونگ بوانگکوک ہی اپنی نوعیت کا آخری گاؤں بچا ہے۔

بین الاقوامی امنگوں سے بھرپور نوجوان ملک سنگاپور 1980 کی دہائی میں تیزی سے زرعی معیشت سے صنعتی معیشت میں تبدیل ہو گیا۔ ہجوم سے بھری دکانیں اونچے اونچے فلیٹوں اور پھیلتی ہوئی فلک بوس عمارتوں میں تبدیل ہو گئیں۔

شہر کے گرد چھوٹی سڑکیں کثیر لین والی شاہراہوں میں تبدیل ہو گئیں اور نام نہاد ’ایکسپریس وے کا دور‘ شروع ہو گیا ۔ جزیرے پر زمین کے قیمتی ہونے کی وجہ سے دیہات ختم ہوتے ہو گئے۔

اور اس طرح سینکڑوں روایتی دیہات بلڈوز کر دیے گئے، مقامی پودے برباد ہو گئے، حکومتی سطح پر دوبارہ آبادکاری پروگرام کے تحت زمینی راستے ہموار کر دیے گئے اور معاش کے روایتی طریقے تباہ و برباد۔ گاؤں کے رہائشیوں میں سے کچھ اپنی قیمتی جائیداد کو چھوڑنے سے گریزاں تھے، جبکہ دوسرے چاہتے تھے کہ فوراً ہی ان کے دیہی علاقے لے کر انھیں فلش والے بیت الخلا اور پانی کے نلکوں والی رہائش گاہیں مل جائیں۔

ان کے پرانے گھروں پر سرکاری سبسڈی والے فلیٹ بنائے گئے اور ان میں انھیں رہائش دی گئی۔ آج، سنگاپور کے 80 فیصد سے زیادہ لوگ ان فلیٹوں میں رہ رہے ہیں۔

دیہات کے انہدام کے ساتھ ہی ’کامپونگ کی روح‘ بھی غائب ہو گئی، یہ وہ اصطلاح ہے جسے سنگاپور کے لوگ اپنے اندر موجود کامریڈری یا بھائی چارہ، اعتماد اور سخاوت کی ثقافت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کامپونگوں میں رہائشیوں کو اپنے دروازوں پر تالے لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اور لوگ اپنے پڑوسیوں کو خوش آمدید کہا کرتے تھے، جو اکثر غیر اعلانیہ طور پر اپنی ضرورت کی کوئی بھی چیز مانگنے آ جایا کرتے تھے۔

یہ وہ طرز زندگی ہے جسے حکومت نے اپارٹمنٹ بلاکس میں مشترکہ اکٹھی ہونے کی جگہوں میں اضافہ کر کے دوبارہ اپنانے کی کوشش کی ہے تاکہ سماجی رابطے مزید بڑھیں۔

سنہ 2017 میں سنگاپور کے ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن کے ساتھ مل کر شہری کامپونگز کا ایک فریم ورک تیار کیا تھا، جو کہ ایک ہائی ٹیک نقطہ نظر ہے جو پڑوسیوں میں کیمپریڈی کی حوصلہ افزائی کے لیے موشن سینسرز اور مشترکہ وائی فائی کا استعمال کرتا ہے۔

قومی ترقی کے سابق وزیر لارنس وونگ کہتے ہیں کہ اس کے مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ ’ہمارے بلند و بالا اپارٹمنٹس میں کامپونگ کی روح کو مستحکم‘ کیا جائے۔ لیکن اس دوستانہ جذبے کو فروغ دینے کے لیے صرف اجتماعی زندگی کافی نہیں ہے۔ ماحولیات بھی اہمیت رکھتی ہیں۔

لورونگ بوانگکوک کا دوسرے کامپونگ کی طرح کا انجام نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کے آس پاس کا علاقہ سنگاپور کے دوسرے علاقوں کی طرح تجارتی، صنعتی اور رہائشی ترقی کے لیے اتنا مطلوبہ نہیں تھا، حالانکہ اس میں آہستہ آہستہ تبدیلی آچکی ہے۔

کسی زمانے میں اس کے گرد جنگل اور کھیت ہوا کرتے تھے، لیکن اب اس کے گرد نجی دروازوں والی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور فلیٹوں کے جھنڈ ہیں، جہاں سے اس نشیبی آبادی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

گاؤں کی ایک جاگیردارنی سے مل کر اس کی ایک اور وجہ بھی سامنے آئی۔ وہ سنگاپور کے واحد کامپونگ کو محفوظ رکھنے کے عزم سے بھرپور ہیں۔

تقریباً 70 سال کی سانگ موئی ہونگ نے اپنی پوری زندگی گاؤں میں ہی گزاری ہے۔ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں، اور صرف وہی ہیں جو یہاں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مرحوم والد نے، جو کہ روایتی چینی ادویات بیچتے تھے، یہ زمین 1956 میں خریدی تھی۔ یہ گاؤں بھی اسی سال بنا تھا اور نو سال بعد سنگاپور ایک آزاد ریاست بنا۔

مقامی گائیڈ کیانٹا یاپ کے مطابق، جو کامپونگ کے دورے کرواتے ہیں، زیادہ تر پلاٹ قریبی ہسپتال اور ربڑ کی شجر کاری کرنے والے کارکنوں کو لیز پر دیے گئے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی یہاں مقیم ہیں۔ اس وقت ہر گھر کا ماہانہ کرایہ 4.50 اور 30سنگاپوری ڈالر کے درمیان تھا۔ آج بھی سینگ لورونگ بوانگکوک کے 25 خاندانوں سے تقریباً اتنا ہی کرایہ لیتی ہیں۔

اس کے برعکس قریب ہی حکومت کی طرف سے بنائے گئے بلاک میں ایک کمرے کا کرایہ جو کہ کامپونگ کے مکان کے سائز سے دس گنا چھوٹا ہے، تقریباً اس سے 20 گنا زیادہ ہے۔ اور اس جگہ کو شہر سے تقسیم کرنے والی نہر کے اس پار مکانات چند ملین سنگاپوری ڈالر میں فروخت کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ اس گاؤں میں بلاشبہ سنگاپور میں سب سے زیادہ سستی رہائش گاہیں ملتی ہیں، لیکن 1990 کے دہائی کے بعد سے یہاں کوئی نیا رہائشی نہیں آیا ہوا ہے، اور اس بات کے بھی امکانات کم ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسا ہو۔

جیسا کہ یاپ نے مجھے بتایا کہ یہاں رہائش مشروط ہے: کسی دوسرے کو گھر ملنے کے لیے عام طور پر یا تو کسی کو گھر خالی کرنا پڑتا ہے یا پھر اس کے مرنے کے بعد ہی کسی دوسرے کو گھر دیا جاتا ہے، اور پھر بھی صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جن کے ماضی اور حال کے کرایہ داروں سے کوئی روابط ہوں یا پھر ان کا تعلق سینگ کے خاندان سے ہو۔

کورونا وائرس کی وجہ سے سنگاپور میں لگنے والے گذشتہ جون کے لاک ڈاؤن کے بعد سے یاپ نے لورونگ بوانگکوک میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی محسوس کی ہے اور ان کے اختتام ہفتہ کے ٹؤرز اب مکمل طور پر بھر جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی سفر نہیں کر سکتا ہے، اور یہ ایک منفرد مقامی سیاحتی مقام ہے۔‘

’بہت سے ایسے بھی ہیں جو اپنے طور پر سفر کرتے ہیں، عام عوام ، بائیکرز ، جوگرز اور میٹ اپ پر منظم ہونے والے گروہ۔‘

یاپ کہتے ہیں کہ اکثر لوگ کمپونگ میں پرسکون والک یا سیر کرنے آتے ہیں، اور دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد اور شہری آبادی والے ممالک میں سے ایک میں موجود اس نایاب سبز نخلستان کی تصاویر کھینچتے ہیں۔

یاپ مزید کہتے ہیں کہ کہ کمپونگ میں رہنے والے 25 گھرانوں کو اب متجسس راہگیروں کی موجودگی کی ایک عادت سی ہو گئی ہے۔

اگرچہ بہت سے سنگاپوریوں کے لیے لورونگ بوانگکوک ایک دلچسپ ٹائم کیپسول جیسا ہو، لیکن سینگ کے لیے اس کی کچھ اور ہی اہمیت ہے۔

وہ اپنا بچپن یاد کرتی ہیں جب ان کے والد اس زمین کی دیکھ بھال کرتے تھے اور وہ ان کے پیچھے پیچھے یہاں گھوما کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنے والد سے ہی روایتی چینی طب کا علم سیکھا تھا جو اب وہ اپنے پڑوسیوں کو سیکھاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گاؤں کے مہندی والے پودوں کی پتیوں کو کھلے زخموں اور جلے ہوئے حصوں پر رکھنے سے راحت ملتی ہے اور یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں کھانے سے آنتوں کے السر سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

سینگ کو پتہ ہے کہ وہ ایک مہنگی جگہ پر بیٹھی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جگہ کی شدید قلت ہے، اس گاؤں کو خریدنے کی امید کرنے والے ڈِویلپرز کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کے لیے کوئی بھی پیشکش اتنی اہم نہیں جتنا وہ وعدہ ہے جو انھوں نے اپنے مرتے ہوئے باپ سے کیا تھا اور وہ یہ کہ لوورنگ بوانگکوک کا تحفظ کرنا ہے۔

وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں جس کا انھوں نے کئی دہائیوں سے دفاع کیا ہے، اور ان کی ایک بہن، جو اکثر ان سے ملنے یہاں آتی ہیں کہتی ہیں کہ: ’جب تک وہ ایسا کر سکتی ہیں، اس وقت تک یہ زمین فروخت نہیں ہو گی۔‘

2014 میں ایک ایسی بھی تجویز آئی تھی کہ اس گاؤں کو ختم کر کے اس کی جگہ پر ایک شاہراہ، دو سکول اور ایک عوامی پارک بنا دیا جائے۔ اگرچہ حکومت ابھی بھی اس منصوبے پر غور کر سکتی ہے، لیکن قومی ترقی کے وزیر ڈیسمنڈ لی کہتے ہیں کہ ’مستقبل قریب میں اس طرح کے کسی منصوبے پر عمل درآمد کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

سنگاپور کے بہت سے لوگوں نے اس مجوزہ منصوبے پر اپنے اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ نے تو اس گاؤں کو یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کے طور پر شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ اگرچہ کامپونگز کو سنگاپور حکومت کبھی انتہائی ناپسند کرتی تھی، لیکن اب سرکاری اہلکاروں میں ان دیہی آثار اور ان کے ساتھ جڑی ثقافت کے لیے نئی محبت پیدا ہوئی ہے۔

سنگاپور انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پالیسی اور قیادت کے اسسٹنٹ پروفیسر اور سابق سیاستدان ڈاکٹر انٹان مختار کہتے ہیں کہ ’مثال کے طور پر لورونگ بوانگکوک کو سکولوں کی آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے لیے برقرار رکھا جا سکتا ہے، یا اسے مستقبل کے پارکوں یا کھیل کے میدانوں میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ بیشتر (رہائشی) یہاں اپنی آدھی عمر سے زیادہ رہے ہیں، اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ خاندان کی طرح سلوک کرتے ہیں۔‘

کم سے کم سنگاپور کی حکومت نے لوگوں سے وعدہ تو کیا ہے کہ وہ اس معاملے کے متعلق سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرے گی۔

لی کہتے ہیں کہ ’جب پورے علاقے کے بارے میں اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کا وقت آئے گا تو حکومت کو چاہیئے کہ وہ متعلقہ حصہ داروں کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ترقیاتی (پروگراموں) کو جامع اور مربوط طریقے سے انجام دیا جائے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس وقت وہاں موجود کامپونگ خاندانوں کو پوری طرح شامل کیا جائے، تاکہ ان کی ضروریات اور مفادات کو سمجھا جا سکے۔‘

کامپونگ کے ایک رہائشی نسیم نے مجھے بتایا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ حکومت اب ہمارے کامپونگ کی اہمیت کو دیکھ رہی ہے۔‘

’آپ کو کچھ اپنے پیچھے چھوڑنے کی ضرورت ہے جو ہمارے نوجوانوں کو یاد دلائے کہ یہ ملک کیسے بنا۔ ہم ان جھونپڑیوں میں سے آئے ہیں۔‘

نسیم نے مزید کہا کہ یہ بھی اچھی بات ہے کہ سینگ جو کبھی بہت تنہائی پسند تھیں، اب عوام کو اپنی زمین پر خوش آمدید کہتی ہیں۔

’اس سے انھیں ہمیں سمجھنے اور یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ لورونگ بوانگکوک کو کیوں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

سنگاپور میں، جہاں زمین ایک قیمتی جنس ہے، ہمیشہ پرانی چیزوں کو محفوظ رکھنے اور نئی ترقی کرنے کے درمیان تناؤ رہے گا۔ اگرچہ لورونگ بوانگکوک کا مستقبل غیر یقینی ہے، پھر بھی اس کو بچانے کا ایک مطلب آئندہ نسلوں کے لیے قوم کی جڑوں، ثقافت اور ورثے کی ایک جھلک برقرار رکھنا بھی ہے، جو کہ سنگاپور جیسے نوجوان ملک کے لیے بہت ضروری ہے۔