آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کائنات امتیاز اور سلیمہ امتیاز: ایشیا کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ماں اور بیٹی کی جوڑی
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
’خواب دیکھتے رہنا اور اُن کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرنا اچھا ہوتا ہے۔ میں نے بھی خواب دیکھا کہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہوں مگر جب موقع نہ ملا، شادی ہو گئی اور بچے پیدا ہوئے تو میں نے اس خواب کی تعبیر اپنی بیٹی میں تلاش کرنا شروع کر دی مگر اپنی جدوجہد ترک نہیں۔‘
’آج نتیجہ یہ ہے کہ میں اور میری بیٹی دونوں بین الاقوامی طور پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اس بات کی اتنی خوشی ہے کہ بیان نہیں کر سکتی۔‘
یہ کہنا ہے بنگلہ دیش میں منعقدہ خواتین کے کرکٹ ایشیا کپ میں امپائرنگ کے فرائض ادا کرنے والی پاکستانی امپائر سلیمہ امتیاز کا۔
بنگلہ دیش میں منعقدہ خواتین کے ایشیا کپ میں پاکستانی ماں بیٹی حصہ لے رہی ہیں۔ ویمن کرکٹ ٹیم کی آل راؤنڈر کائنات امیتاز پاکستان کی نمائندگی کر رہی تھیں جبکہ ان کی والدہ سلیمہ امتیاز کو امپائرنگ کے فرائض کے لیے منتخب کیا گیا۔
کائنات امتیاز کہتی ہیں کہ ’اصل میں، میں اپنے والدین کا خواب ہوں۔‘
’والدین کی خواہش تھی کہ میں کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کروں۔ بالخصوص میرے ڈیڈی جنھوں نے مجھ پر بہت محنت کی تھی۔‘
’کائنات کو تحفے میں گڈا گڑیا نہیں ملیں‘
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ وہ شادی سے پہلے بھی سپورٹس کو بہت پسند کرتی تھیں۔
’کالج یونیورسٹی میں میرا زیادہ وقت گراؤنڈ ہی میں گزرتا تھا۔ شادی بھی سپورٹس کے شوقین سے ہوئی، سپورٹس ہم دونوں کا مشترکہ شوق تھا۔ جب بچے پیدا ہوئے بالخصوص کائنات تو ہم نے اس میں اپنا شوق منتقل کرنا شروع کر دیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ ’بچپن میں ہم نے اس کو گڈا اور گڑیا تحفے میں نہیں دیا بلکہ اس کو فٹبال اور کرکٹ گیندیں بطور کھلونا ملتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ہم کوشش کرتے تھے کہ اس کی تفریح بھی صحت مند ہو۔ ’اس کو ہم پارک وغیرہ میں لے کر جاتے تھے جہاں پر اس کو کچھ سرگرمی دیکھنا پڑے، لٹکنا اور اوپر چڑھنا، دوڑنا پڑے۔‘
کائنات امتیاز کہتی ہیں کہ انھیں یہ یاد نہیں کہ وہ کبھی گڑیا کے ساتھ کھیلی ہوں۔
’جو مجھے یاد ہے میرا بچپن گراؤنڈ اور پارک ہی میں گزرا۔ میں شاید یہ نہیں کہہ سکتی کہ بچپن ہی سے حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، میرا خیال ہے کہ شاید زبردستی کی جاتی تھی اور زیادہ یہ زبردستی میرے ڈیڈی کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ یہ غلط بھی نہیں تھا کیونکہ بڑوں اور ماں باپ کا ورژن بچوں سے بڑا ہی ہوتا ہے اور وہ بہتر سمجھ رہے ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ڈیڈی زبردستی گراؤنڈ اور پارک میں لے کر جاتے تھے کہ ورزش کرنی ہے۔ ’جب سکول وغیرہ میں کھیل ہو رہے ہوتے تو مجھے ان میں حصہ دلاتے تھے۔ باقی بچے جتنی محنت کر رہے ہوتے اس سے دوگنی محنت کرواتے تھے۔ اس وقت کہتے تھے کہ ہم نے جیتنا ہے اور جیت کر آنا ہے۔‘
کائنات امتیاز سمجھتی ہیں کہ اس وقت کی محنت کی وجہ سے ہی وہ اس مقام پر ہیں۔
کھیر نہیں پکائی
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ کائنات کو کھانا پکانا آتا ہے لیکن اب کافی عرصے سے نہیں پکایا کیونکہ وقت ہی نہیں ملتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کائنات کو کبھی اس طرح رکھا ہی نہیں کہ اس نے گھر کا کام کرنا ہے۔
’اس کا کام کھیلنا ہے تو ہم اس سے کہتے تھے کہ کھیلو اور بہت محنت سے۔ باقی کام ہمارے ہیں ہم خود کر لیں گے۔ گھر کے کاموں کی وجہ سے اس کو کبھی کوئی ڈانٹ نہیں پڑی۔‘
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ ان کے داماد (کائنات کے شوہر) بہت سمجھدار ہیں۔
’رشتے کے وقت اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا تھا کہ جب تک وہ کھیلنا چاہیے اس کو کھیلنے دینا ہے۔ انھوں نے بھی کہا تھا کہ ان اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘
کائنات امیتاز کہتی ہیں ’میرے شوہر کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ پہلے وہ خواتین کے میچ نہیں دیکھتے تھے اب میری وجہ سے بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ پھر مجھے میچوں پر پیغامات بھیجتے اور تبصرہ کرتے ہیں۔ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی کھیل میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے والوں کو بہت محنت کرنی ہوتی ہے اور اگر گھر والوں کی مدد حاصل نہ ہو تو شاید یہ ممکن نہیں۔
کائنات امتیاز کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد انھیں گھر کے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ملا۔
انھوں نے بتایا کہ ’شادی کے بعد کھیر نہیں بنائی۔ وہ بھی بنا دیں گے، کوئی مسئلہ نہیں۔ گھر میں ہوتی ہوں اور گھر کا کام بھی کرتی ہوں۔ اصل میں مجھے تو کھیلنا ہے، جس کے لیے مجھے نہ تو میرے ماں باپ اور نہ ہی سسرال نے کہا۔‘
2005 میں ایشیئن کپ نے کرکٹ کی طرف راغب کر دیا
کائنات امتیاز کہتی ہیں کہ ’سنہ 2005 کا ایشیئن ورلڈ کپ پاکستان میں ہوا تھا۔ میں وہاں پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بال پکنک کے لیے گئی تھی۔ میں نے اس سے پہلے کرکٹ کم ہی کھیلی تھی لیکن دیگر کھیل کھیلتی تھی۔ جب ایشیئن کپ میں بین الاقوامی ٹیموں کو دیکھا تو متاثر ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب شعیب اختر، بریٹ لی کھیلا کرتے تھا۔‘
’وہاں پر مجھے سمجھ میں آ گیا کہ کرکٹ کو ایک کیریئر کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔ اس کے کھلاڑیوں کی عزت بھی بہت ہے۔ جس کے بعد کرکٹ کی طرف راغب ہوئی اور سکول اور کالج کے علاوہ کلب اور دیگر کرکٹ کھیلی تھی۔‘
کائنات امتیاز کا کہنا تھا کہ ان پر بہت محنت کی گئی۔ ’پہلے سکول لے جانا اور پھر واپس لانا، کھانا کھلانا اور پھر گراؤنڈ لے کر جانا، میرے والد دودھ اور کچے انڈے مکس کرتے اور پلاتے کہ مجھ میں طاقت آئے۔ مما اور ڈیڈ نے بہت محنت کی۔‘
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ جب کائنات نے کرکٹ کھیلنا شروع کر دی اور اس کے لیے دروازے کھلنا شروع ہو گئے تو پھر مجھے اندازہ ہوا کہ اب عمر کے اس حصے میں کرکٹ میں میرے لیے کچھ زیادہ نہیں بچا، جس وجہ سے میں نے یہ راستہ کائنات کے لیے چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2006 میں جب پی سی بی کی جانب سے بنیادی امپائرنگ کے کورس کے لیے اشتہار دیا گیا تو مجھے میرے شوہر نے کہا کہ مجھے بھی اس میں اپلائی کرنا چاہیے اور پھر میں منتخب ہو گئی۔
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ ملازمت کی وجہ سے شروع میں وہ زیادہ وقت نہیں دے پاتی تھیں مگر ساتھ ساتھ کئی لوگ مدد کرتے تھے، پڑھاتے تھے۔
’اس کے بعد مختلف کورسز کرتی رہی۔ جس میں آہستہ آہستہ آگے بڑھتی چلی گئی۔ جتنی بھی خواتین کی قومی چیمپیئن شپ ہوتی تھی، میں ان میں فرائض ادا کرتی تھی۔ بنگلہ دیش میں ایشین چیمپیئن شپ سے پہلے میں نے کسی بھی بین الاقوامی میچ میں امپائرنگ کے فرائض ادا نہیں کیے تھے۔‘
مما کی حوصلہ افزائی کرتی رہی
کائنات امتیاز کہتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ مجھے پاکستان اے کی طرف سے کھیلنا تھا۔
’ہم لاہور سے کراچی گئے تھے، میں نے پاکستان کلر پہن رکھا تھا۔ اس دن میں نے اپنے والدین کے چہروں پر بہت خوشی دیکھی تھی۔ مجھے ان کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ مما اور ڈیڈی کی آنکھوں میں آنسو تھے، جنھیں دیکھ کر میرے آنسو بھی نکل گئے۔‘
کائنات امتیاز کہتی ہیں کہ ’میں سچ بتا رہی ہوں ہماری زندگی میں ہمارے ڈیڈی بہت مضبوط شخصیت ہیں، جنھوں نے مجھے اور ممی کو آگے بڑھنے میں مدد دی۔‘
’جب پتا چلا کہ ممی نے پہلا میچ سپروائز کیا تو میں نے پہلے ممی سے بات نہیں کی بلکہ ڈیڈی کو فون کر کے بتایا۔‘
کائنات امتیاز کہتی ہیں ’جب ممی کا پہلا میچ تھا تو میں نروس تھی۔ میرا بھی جب پہلا میچ تھا تو میں بھی نروس تھی۔ اتنے بڑے میچ کا دباؤ تو بھی ہوتا ہے۔ میں بس یہ چاہ رہی تھی کہ بہت اچھا ہو جائے۔‘
’میں مما کو کہتی تھی کہ دیکھیں پہلی دفعہ دباؤ ہوتا ہے مگر آپ نے پرسکون رہنا ہے۔‘
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ ’میچ سے ایک دن قبل کائنات نے جب مجھ سے بات کی تو میں نے اس سے کہا کہ میں نروس نہیں ہوں لیکن میرا پہلا میچ تھا اور پہلا میچ ہی انڈیا اور سری لنکا کے درمیان تھا۔ کچھ غلط نہ ہو جائے یہ سوچ سوچ کر کچھ نہ کچھ تو نروس ہونا ہی تھا۔‘
’پہلے میچ کے دن بھی میں دعا کر رہی تھی کہ میرے کسی فیصلے پر کوئی سوال نہ اٹھے اور میرا کوئی فیصلہ غلط نہ ہو مگر جب پہلی گیند پھینک دی گئی تو اس کے بعد میں بالکل پر سکون ہو گئی۔‘
سلیمہ امتیاز کہتی ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کو آئی سی سی کے پینل پر جا کر پاکستان کی نمائندگی کریں۔
’خواب دیکھنا اچھا ہوتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس ملک کے سارے والدین اپنی بیٹیوں کے حوالے سے خواب دیکھیں۔ صرف سپورٹس ہی نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی اپنی بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔‘