آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسد رؤف: پاکستان کے سابق انٹرنیشنل امپائر دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
پاکستان کے انٹرنیشنل کرکٹ امپائر اسد رؤف اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ 66 سالہ اسد رؤف کو بدھ کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
درحقیقت ان کی اصل دنیا کرکٹ تھی اور نو سال قبل جب انھیں آئی پی ایل میں مبینہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے بعد ہی ان کی یہ اصل دنیا ختم ہوچکی تھی اور انہوں نے اپنی مکمل توجہ اپنی فیملی اور کاروبار پر مرکوز کرلی تھی۔
جو لوگ اسد رؤف کو قریب سے جانتے ہیں ان کے لیے وہ صرف ایک امپائر نہیں تھے بلکہ ایک ایسے شخص تھے جو اپنی گفتگو بذلہ سنجی اور عادت واطوار سے سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیتے تھے۔
بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کرنے والے علیم ڈار کو اپنی یادداشت پر زیادہ زور دے کر یہ یاد نہیں کرنا پڑتا کہ وہ اسد رؤف کو کب سے جانتے ہیں کیونکہ دونوں بہت گہرے دوست تھے۔
علیم ڈار بتاتے ہیں کہ ’میں گوجرانوالہ میں ولز کپ کا میچ کھیل رہا تھا اور اسد رؤف اس میچ میں امپائر تھے۔ ہم دونوں پی اینڈ ٹی جمخانہ میں ایک ساتھ کلب کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں۔ جب میں امپائر بنا تو ہم نے کئی میچوں میں ایک ساتھ امپائرنگ کی۔ میں نے انھیں ہمیشہ ایک محبت کرنے والا انسان پایا۔ میں نے ان کی سب سے بڑی خوبی یہ دیکھی کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔وہ بہت بڑے دل کے مالک تھے۔ دوستوں کے ساتھ کھانے پینے میں وہ پیسے دینے میں ہمیشہ پہل کرتے تھے کبھی کنجوسی نہیں کی۔‘
علیم ڈار کہتے ہیں کہ ’اسد رؤف میں مزاح کی حس بہت زیادہ تھی۔ان کے ساتھ امپائرنگ کرنے والے آئی سی سی کے امپائرز آج تک ان کی باتیں یاد کرتے ہیں کہ وہ بہت عمدہ انسان تھے اور ہمیشہ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے۔ فیلڈ میں صرف ساتھی امپائرز ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے ساتھ بھی وہ دوستانہ برتاؤ رکھتے تھے ۔کھلاڑی ان کی عزت کرتے تھے لیکن ساتھ ساتھ ہنسی مذاق بھی رہتا تھا۔‘
وہ دکھ بھرے لہجے میں کہتے ہیں´میرا بہت بڑا ساتھی اب اس دنیا میں نہیں رہا´۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین رمیز راجہ نے بھی اپنے ٹویٹ میں اسد رؤف کی حس مزاح کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسد رؤف ہمیشہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتے تھے اور اب بھی یہ جاری رہے گی جب بھی وہ ان کے بارے میں سوچیں گے۔
امپائر احسن رضا کا بھی اسد رؤف کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے وہ بھی ان کے چلے جانے پر افسردہ ہیں۔
احسن رضا کہتے ہیں ’میں ان سے بہت جونیئر تھا لیکن میری خوش قسمتی تھی کہ 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ابوظہبی میں جب میں نے پہلی بار ٹی ٹوئنٹی میچ میں امپائرنگ کی اس میں اسد رؤف میرے ساتھ تھے۔ زندہ دل انسان تھے۔ان کی محفل میں بیٹھنے والا کبھی بور نہیں ہوتا تھا۔ان کے چٹکلے بڑے دلچسپ ہوا کرتے تھے´۔
احسن رضا کا کہنا ہے ´اسد رؤف کی امپائرنگ کے دوران باڈی لینگویج بہت مشہور تھی۔ وہ میدان میں دندناتے پھرتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہیں ایل بی ڈبلیو کے فیصلے دینے میں کمال مہارت حاصل تھی۔ وہ بڑی آسانی سے اس نتیجے پر پہنچ جاتے تھے کہ گیند پہلے پیڈ پر لگی ہے یا بیٹ پر´۔
سابق فرسٹ کلاس کرکٹر علی ضیا کو ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے کہ ان کا بہترین دوست دنیا سے چلا گیا ہے۔
علی ضیا کہتے ہیں´جگری یار چلا گیا، صرف یادیں چھوڑ گیا۔ بچپن جوانی بڑھاپے کی۔اب کس سے اپنے دکھ سکھ کی باتیں شیئر کروں گا´۔
اسد رؤف نے دائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی حیثیت سے 71 فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے جن میں انھوں نے تین سنچریوں اور 22 نصف سنچریوں کی مدد سے 3423 رنز بنائے تھے۔ انھوں نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں پاکستان یونیورسٹیز، لاہور سٹی وائٹس، نیشنل بینک اور پاکستان ریلویز کی نمائندگی کی تھی۔
علی ضیا بتاتے ہیں ´ہم نے کلب کرکٹ اکٹھی کھیلی، فرسٹ کلاس کرکٹ میں ساتھ رہا یہاں تک کہ انگلینڈ میں کوئنزبری کلب کی طرف سے بھی ایک ساتھ کھیلے۔ اسد رؤف ایسے دوست تھے جو میرے لیے لڑتے تھے´۔
وہ کہتے ہیں ´اسد رؤف جیسے ایک سٹائلش بیٹسمین تھے اسی طرح ان کی شخصیت بھی سٹائلش تھی۔ وہ ہمیشہ اچھے لباس میں نظر آنا پسند کرتے تھے´۔
سپاٹ فکسنگ سکینڈل
اسد رؤف نے 49 ٹیسٹ 98 ون ڈے انٹرنیشنل اور 23 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔
یہ بھی پڑھیے
وہ 2006 میں آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہوئے تھے تاہم ان کی زندگی میں اس وقت بھونچال آیا جب ستمبر 2013 میں انڈیا میں ہونے والی آئی پی ایل کے دوران ممبئی پولیس کی تحقیقات میں ان پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا۔
اس سکینڈل میں چنئی سپر کنگز کے اہم اہلکار گروناتھ میاپن اور راجستھان رائلز کے تین کرکٹرز حراست میں لیے گئے۔ ممبئی پولیس اسد کو بھی تفتیش میں شامل کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ انھوں نے بھی مبینہ طور پر تحائف وصول کیے ہیں۔
انڈین کرکٹ بورڈ نے اسد رؤف پر پانچ سال کی پابندی عائد کی جبکہ آئی سی سی نے انھیں نہ صرف انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے امپائرز پینل سے الگ کر دیا بلکہ وہ ایلیٹ پینل سے بھی باہر کر دیے گئے۔
اسد رؤف نے کرپشن میں ملوث ہونے کے الزام کی ہمیشہ تردید کی اور یہی کہتے رہے کہ وہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیمپیئنز ٹرافی کے امپائرز پینل سے علیحدگی کا فیصلہ آئی سی سی نے ان سے پوچھ کر کیا تھا۔
اسد رؤف کا کہنا تھا کہ ان پر پابندی انٹرنیشنل کرکٹ کی جانب سے نہیں بلکہ آئی پی ایل کی جانب سے لگائی گئی تھی۔
اس سے قبل 2012 میں بھی اسد رؤف انڈین میڈیا میں شہ سرخیوں میں آئے تھے جب ان کی ایک انڈین ماڈل لینا کپور کے ساتھ تصاویر سامنےآئی تھیں۔ لینا کپور نے پولیس میں رپورٹ بھی درج کرائی تھی کہ اسد رؤف نے مبینہ طور پر ان سے تعلقات قائم کیے تھے اور شادی کا وعدہ کیا تھا تاہم اسد رؤف نے ایسے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کی تھی ۔
لنڈے کے کپڑوں کا منفی پروپیگنڈہ
گذشتہ دنوں پاکستان میں سوشل میڈیا اور مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبر چلی تھی کہ اسد رؤف مالی پریشانیوں کا شکار ہیں اور لنڈے کے کپڑوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔
تاہم اسد رؤف نے خود اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ یہ کاروبار کوئی نیا نہیں ہے اور نہ ہی انھوں نے مالی پریشانی کے سبب شروع کیا ہے بلکہ وہ گذشتہ 25، 30 برس سے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔
اسد رؤف کے ایک قریبی سابق فرسٹ کلاس کرکٹر کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس کاروبار کا اس انداز سے منفی چرچا کیوں کیا گیا؟۔
ان کے مطابق وہ خود اسد کی دکان سےکپڑے خریدتے رہے ہیں۔ ’یہ برانڈڈ کپڑے ہیں جو نسبتاً کم قیمت پر آپ کو مل جاتے ہیں۔ وہ باہر سے یہ کپڑے منگواتے تھے اور اچھا خاصا کاروبار تھا۔‘