آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہد آفریدی: لالہ کے پی ایس ایل چھوڑنے کے اعلان پر سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے
پاکستانی کرکٹ کے چند مقبول اور ہر دلعزیز کرکٹرز میں سے ایک شاہد آفریدی کے پی ایس ایل 7 چھوڑنے کے اعلان پر بظاہر سب سے زیادہ افسوس اُن کے ایسے پرستاروں کو ہے جو انھیں ہر صورت میں کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ کوئی پرفارمنس دیں یا نہ دیں۔
شاہد آفریدی نے اپنے چاہنے والوں کو اتوار کے روز اپنے ویڈیو پیغام میں کمر کی تکلیف کی وجہ سے پی ایس ایل سے رخصت ہونے کی اطلاع دی۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ ویڈیو میرے فینز کے لیے ہے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جس طرح میرے پورے کیریئر میں انھوں نے میری سپورٹ کی ہے۔ میرے فینز بالکل اسی طرح ہیں جس طرح میری فیملی میرے لیے اہم ہے۔‘
’میں پی ایس ایل کو اچھے نوٹ پر ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن میری کمر کی انجری بہت پرانی ہے۔ میں پندرہ، سولہ سال سے اسی انجری کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔‘
شاہد آفریدی کے مطابق ’انجری اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس کی وجہ سے میرے گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں تک بہت زیادہ درد ہوتا ہے۔‘
شاہد آفریدی اس مرتبہ پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ ان کی چوتھی پی ایس ایل ٹیم ہے۔ اس سے قبل وہ کراچی کنگز، پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔
ان کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
شاہد آفریدی کے پی ایس ایل چھوڑنے کے اعلان پر راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے جانے جانے والے پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے اپنے ٹوئٹر پر شاہد آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’ریسٹ ( آرام ) کرو لالہ ۔ اس عمر میں یہ عشق نہیں آساں۔‘
شعیب اختر کی ٹویٹ کے جواب میں شاہد آفریدی کی ایک مداح نے جواب دیتے ہوئے لکھا ’اس عمر؟ شاہد آفریدی کو طبی مسئلہ ہے، اس کا ان کی عمر سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اور ایک کھلاڑی کے لیے کھیل سے دور رکھنے والی بیماری کیا اہمیت رکھتی ہے، آپ اسے بہتر سمجھتے ہیں لہذا اپنے الفاظ کا بہتر چناؤ کریں۔ لالہ سدا بہار جوان ہیں اور ہم نے گذشتہ رات ان کی پرفارمنس دیکھی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹسمین اور شاہد آفریدی کے پرانے ساتھی سعید انور نے اُن کی ریٹائرمنٹ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’شاہد ہم ایک ساتھ اوپن کرتے تھے، یقیناً دنیائے کرکٹ تمھیں یاد کرے گی، تم سب کے دلوں سے ریٹائر نہیں ہو رہے اور اگلی اننگر کے لیے نیک تمنائیں بوم بوم۔‘
زویا نامی صارف نے شاہد آفریدی کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’پی ایس ایل آپ کے بنا غیردلچسپ ہو گی اور آپ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔‘
شاہد آفریدی کے ایک اور مداح محمد رفیق نے ان کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے بچپن کو یادگار بنانے کے لیے شکریہ، جس دن وہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تھے اور اب جب وہ پی ایس ایل سے ریٹائر ہوئے ہیں یہ میری زندگی کے افسردہ ترین دن ہیں۔ انھوں نے ہمیں انڈینز کے ساتھ لڑائی اور مقابلے کی بہت سی نہ بھلا دینے والی یادیں دی ہیں۔ لیجنڈ آپ جلد صحت یاب ہوں۔‘
ماہم گیلانی نامی صارف نے شاہد آفریدی کی جارحانہ بیٹنگ کا حوالے دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’شاہد آفریدی سنہ 2015 میں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تھے، لیکن سات برسوں بعد بھی وہ ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑیوں میں سرفہرست ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
شاہد آفریدی کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کی فین فالوئنگ جو کریئر کے آغاز میں تھی آج بھی اس میں کمی نہیں آئی اور آج بھی وہ شائقین میں پہلے کی طرح مقبول ہیں۔
تاہم اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا کہ ان کی پرفارمنس میں اب واضح فرق آ چکا ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ اب ان کے سٹروکس کی قوت اور وکٹ لینے کی صلاحیت میں کمی آ گئی ہے۔
خیال رہے کہ اس بار شاہد آفریدی کووڈ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پہلے تین میچوں میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔
ان کی واپسی اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف میچ میں ہوئی لیکن اس میں وہ صرف چار رنز بنا پائے لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنے چار اوورز میں 67 رنز دے ڈالے جو پی ایس ایل کی تاریخ میں کسی بھی بولر کی سب سے مہنگی بولنگ ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بارے میں تذبذب کا شکار
شاہد آفریدی نے سنہ 2010 میں ٹیسٹ کرکٹ سے اس وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی جب سپاٹ فکسنگ سکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر ملوث تھے۔
آفریدی کی بین الاقوامی ون ڈے کرکٹ سنہ 2015 کے عالمی کپ کے ساتھ ہی اختتام کو پہنچی تھی تاہم وہ ایک سال بعد انڈیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے لیکن ٹیم چار میں سے صرف ایک میچ جیت پائی تھی۔
موہالی میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 2017 میں جب شاہد آفریدی ویسٹ انڈیز کے خلاف لارڈز میں انٹرنیشنل الیون کی قیادت کرتے ہوئے اپنا الوداعی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تو انھیں کھلاڑیوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔
اس میچ کے موقع پر کمنٹیٹر ناصر حسین نے ان سے کرکٹ میں ممکنہ واپسی کے بارے میں پوچھا تو شاہد آفریدی کا جواب نفی میں تھا۔
انھوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ آپ انجری کے بعد میری حالت دیکھ ہی رہے ہیں۔ اس موقع پر ناصر حسین بھی اپنی ہنسی روک نہیں پائے تھے۔