آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش بمقابلہ نیوزی لینڈ: ’یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس پر بنگلہ دیش کو فخر ہونا چاہیے‘
کسی بھی کھیل میں اپ سیٹ شکست کا کمال یہ ہوتا ہے کہ آخری وقت تک بھی کمزور ٹیم کے بارے میں یہی تجزیے دیے جاتے ہیں کہ ’فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔‘
گذشتہ روز جب ماؤنٹ مانگانوئی کے میدان پر کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی تھی، تو اس وقت میچ کے ڈرا ہونے اور راس ٹیلر کے اپنی آخری ٹیسٹ سیریز میں بہترین اننگز کھیلنے کے امکانات کے بارے میں ہی زیادہ بات کی جا رہی تھی۔
تاہم آج بنگلہ دیش نے دن کے آغاز میں ہی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو ٹکنے نہ دیے اور آخری اننگز میں 40 رنز کا ہدف باآسانی دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے 21 برس بعد نیوزی لینڈ کی سرزمین پر پہلا ٹیسٹ میچ جیت لیا۔
یہ سنہ 2011 کے بعد سے کسی بھی ایشیائی ٹیم کی نیوزی لینڈ میں پہلی فتح ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے فاسٹ بولر عبادت حسین نے نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں تباہ کن سپیل کروا کے چھ کیوی بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور اس تاریخی فتح کو یقینی بنایا۔ خیال رہے کہ یہ فتح اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ یہ نیوزی لینڈ میں حاصل کی گئی ہے اور ایک ایسی ٹیم کے خلاف جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن ہے۔
اس فتح کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جہاں بنگلہ دیش کی ٹیم کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں وہیں اس غیرمعمولی فتح کے حوالے سے تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے یہ فتح کیسے حاصل کی۔
پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو بڑا سکور بنانے سے روکنے میں کامیابی
عام طور جب بھی ایشیائی ٹیمیں نیوزی لینڈ کے دوروں پر جاتی ہیں تو انھیں عموماً کیوی بلے بازوں کی جانب سے بھاری رنز کا سامنا ہوتا ہے۔ اس ٹیسٹ میچ میں بھی ایسا ہی ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوزی لینڈ کے بلے باز ڈیون کونوے جو کیوی سرزمین پر اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے، نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 122 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
ایک موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نیوزی لینڈ 400 رنز عبور کر کے میچ میں برتری حاصل کر لے گا تاہم ایسے میں بنگلہ دیش کے سپنرز مہدی حسن اور مومنل حق نے اچھی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے اور نیوزی لینڈ کو بڑا ٹوٹل بنانے سے روک دیا۔
تاہم بنگلہ دیش کی حالیہ بیٹنگ فارم کو دیکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے 328 رنز ایک اچھا ٹوٹل معلوم ہوتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی بنگلہ دیش کے ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام ہوتا رہا۔
تاہم اس مرتبہ، ایک سلو پچ پر بنگلہ دیشی بلے بازوں نے صبر کا مظاہرہ کیا اور پہلے چار بلے بازوں نے مجموعی طور پر 252 رنز بنائے جس میں محمود الحسن جائے، نجم الحسین شنٹو اور کپتان مومنل حق کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔
وکٹ کیپر بیٹسمین لٹن داس اور آلراؤنڈر مہدی حسن میراز نے بالترتیب 86 اور 47 رنز کی اننگز کھیل کر اس بات کو یقینی بنایا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ایک فیصلہ کن برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ بنگلہ دیش کی پوری ٹیم جب چوتھے روز 458 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو اسے 130 رنز کی بھاری برتری حاصل ہو چکی تھی۔
عبادت حسین کا تباہ کن سپیل
نیوزی لینڈ کی پچز پر یوں تو فاسٹ بولرز کی مانگ ویسے ہی بڑھ جاتی ہے لیکن ایشیا سے باہر ٹیسٹ میچوں میں فتوحات حاصل کرنے کے لیے فاسٹ بولرز کے سپیل انتہائی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب بنگلہ دیش کی ٹیم دوسری اننگز میں بولنگ کے لیے میدان میں اتری تو فاسٹ بولر عبادت حسین نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
ان کی بولنگ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اچھی پیس کے ساتھ وکٹوں کو ٹارگٹ کرتے رہے۔ جہاں پہلی اننگز میں سپنرز چھائے رہے، وہیں دوسری اننگز میں فاسٹ بولرز نے نو وکٹیں حاصل کر لیں۔
یہ بھی پڑھیے
چوتھے روز دوسرے سیشن میں ایک موقع پر بنگلہ دیش کی جانب سے کیچ بھی ڈراپ ہوئے اور ایک رن آؤٹ بھی نہ ہو سکا۔ لیکن پھر فاسٹ بولر عبادت حسین نے فیلڈرز سے مدد لیے بغیر وکٹوں کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا اور بولڈ اور ایل بی ڈبلیو کرنا شروع کیے۔ ان کی چھ وکٹوں میں چار بولڈ یا ایل بی ڈبلیو تھے۔
صارف فرید خان نے ٹویٹ کیا کہ ’اس میچ سے پہلے عبادت حسین کی اوسط ٹیسٹ کرکٹ میں دس یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز میں دنیا میں سب سے خراب تھی۔ وہ آج نیوزی لینڈ میں بنگلہ دیش کے ہیرو بن گئے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ بہت مہربان ہے۔‘
ان کے ساتھی فاسٹ بولر تسکن احمد نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا، اور دوسری اننگز میں تین کھلاڑی کو آؤٹ کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ نیوزی لینڈ صرف 40 رنز کا ہدف ہی دے پائے۔
’بنگلہ دیش کرکٹ کی تاریخ کا یادگار دن‘
اس حوالے سے میچ کے بعد بنگلہ دیش کے ڈریسنگ روم سے سامنے آنے والی فوٹیج میں بنگلہ دیش کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بنگالی زبان میں نغمہ ’ہم ہوں گے کامیاب ایک دن‘ گاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران بنگلہ دیش کے کپتان مشفیق الرحیم خاصے پُرجوش نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے کرکٹ تجزیہ کار اس فتح کو کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے اپ سیٹس میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ سے منسلک ریحان الحق نے ٹویٹ کیا کہ ’بنگلہ دیش وہ پہلی ایشیائی ٹیم ہے جس نے جنوری 2011 کے بعد سے نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ میچ جیتا ہے۔ اس عرصے میں پاکستان نے پانچ میں سے چار ہارے، انڈیا نے چار میں سے تین ہارے، سری لنکا نے چھ میں سے پانچ ہارے اور اب بنگلہ دیش نے پانچ میں سے ایک ٹیسٹ جیت لیا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس پر بنگلہ دیش کو فخر ہونا چاہیے۔‘
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے صحافی جیرڈ کمبر نے ایک معلوماتی تھریڈ لکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈ میں اپنے دو بہترین کھلاڑیوں کے بغیر شکست دی ہے۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’سنہ 1969 میں نیوزی لینڈ نے اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز پاکستان کے خلاف جیتی، لیکن اس سیریز کا آخری میچ ڈھاکہ میں تھا، جب بنگلہ دیش ابھی ایک خود مختار ملک ہی نہیں بنا تھا۔ 50 برس بعد یہ بنگلہ دیش کی ایشیا سے باہر پہلی بڑی کامیابی ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی۔‘
ایک صارف دیپتی مان یادو نے لکھا کہ ’تمیم اقبال، مستفیض اور شکیب کے بغیر ٹیسٹ میچ جیتنا یقیناً بنگلہ دیش کی بڑی کامیابی ہے۔‘
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد اسام نے لکھا کہ ’اعداد و شمار، ریکارڈز اور سنگ میل طے کرنے سے زیادہ، جو بات سب سے زیادہ نمایاں تھی وہ یہ کہ بنگلہ دیش ایک ایسی کیوی ٹیم پر حاوی رہی جو اپنی کنڈیشنز میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔‘
صارف اسماعیل فریدی نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش کی پوری ٹیم اور پوری بنگلہ دیشی قوم کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتے ہیں۔‘
صحافی اور مدیر سمبت بال نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش کی فتح متعدد وجوہات کی بنا پر غیر معمولی ہے۔ ایک تو یہ انتہائی یکطرفہ مقابلے کے بعد حاصل کی گئی، وہ پورے ٹیسٹ میچ میں حاوی رہے، وہ اپنے دو اہم کھلاڑیوں کے بغیر یہ میچ کھیل رہے تھے اور انھوں نے ایک ایسی ٹیم کو ہرایا جو اپنے گھر پر بہت کم ہارتی ہے۔‘
صحافی ٹم وگمور نے لکھا کہ ’بنگلہ دیش کی کمزور ٹیم نے نیوزی لینڈ کو شکست دی جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن بھی ہے اور 17 ٹیسٹ میچوں سے اپنے گھر میں ناقابلِ تسخیر ہے۔ ان 17 میں سے 8 میں اسے اننگز کی فتح حاصل ہوئی۔ یہ ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ کے بڑے اپ سیٹس میں سے ایک ہے۔‘