ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ 2021: انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ، کیا ولیمسن ماضی سے کوئی سبق سیکھ پائیں گے یا انگلینڈ کی جیت کے ساتھ تاریخ خود کو دہرائے گئی؟

    • مصنف, عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

آج انگلینڈ اور نیوزی لینڈ ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے۔ ایک ملک وہ جو کرکٹ کے کھیل کا موجد سمجھا جاتا ہے اور جو آسٹریلیا اور انڈیا کے ہمراہ ’بگ تھری‘ کا رکن ہے جبکہ دوسرا ملک (نیوزی لینڈ) وہ جس کی آبادی بمشکل پچاس لاکھ ہے اور جو رگبی کے کھیل میں کرکٹ سے کہیں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

یہ دونوں ملک کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ پرفارم کرنے والے ممالک میں سے ہیں اور اتنی بار عالمی مقابلوں میں ایک دوسرے کے سامنے آ چکے ہیں کہ وہ آسٹریلیا جیسے روایتی حریف تو نہیں لیکن ایک دوسرے کے لیے انتہائی سخت حریف کی حیثیت ضرور اختیار کر چکے ہیں۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے، صرف دو سال قبل لارڈز کے میدان میں 50 اوورز کے عالمی مقابلے کے فائنل میں بھی یہی دونوں ٹیمیں نبرد آزما تھیں۔

اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انھوں نے تاریخ کا بہترین ایک روزہ میچ کھیلا تھا جو اس قدر کانٹے کا مقابلہ تھا کہ سپر اوور کے باوجود دونوں ٹیمیں میچ میں برابر رہیں اور انٹرنیشل کرکٹ کونسل کے قواعد کی بنا پر انگلینڈ اس میچ کا فاتح ٹھہرا اور عالمی چیمپیئن بن گیا۔

اگر اس سے بھی تھوڑا پیچھے جائیں اور ٹی ٹوئنٹی کی بات کریں، تو سنہ 2016 میں ٹی ٹوئنٹی کے عالمی کپ میں بھی اسی مرحلے، یعنی پہلے سیمی فائنل میں ان دونوں ٹیموں کا ٹکراؤ ہوا تھا جہاں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے 153 کے ہدف کو باآسانی 18ویں اوور میں تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا تھا۔

لیکن یہاں پر وہ اہم ترین نکتہ سامنے آتا ہے جس کی بنیاد پر بدھ کی شام ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس پہلے سیمی فائنل کی فتح کس کی تقدیر میں ہے، یہ ممکنہ طور پر متعین ہو سکتی ہے۔

سنہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے پلئیر آف دی میچ 44 گیندوں پر 78 رنز بنانے والے جیسن رائے تھے لیکن اس بار وہ اپنے پٹھوں میں انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہیں۔

انگلینڈ پہلے ہی فاسٹ بولر ٹائمل ملز کی انجری کے باعث پریشان تھا اور اب ان کے اوپننگ بلے باز اور دھواں دھار بیٹنگ کرنے والے جیسن رائے کی غیر موجودگی نیوزی لینڈ کے لیے سیمی فائنل میں جیت کی کنجی ہو سکتی ہے۔

ادھر نیوزی لینڈ کی ٹیم کے سب سے اہم کھلاڑی اور سپر سٹار ان کے کپتان کین ولیمسن ہیں جنھوں نے اب تک اپنی ٹیم کی قیادت بہت شاندار انداز میں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیوی ٹیم نے اپنے روایتی خاصے کو برقرار رکھتے ہوئے خاموشی سے، شیڈول کی سختی اور مسلسل ٹاس ہارنے کے باوجود، بغیر کسی شکایت کے اپنے میچوں میں پروفیشنل انداز اپنایا اور پاکستان سے شکست کے بعد وہ اپنے چار میچ لگاتار جیت کر سیمی فائنل میں پہنچے ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے طرح ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے چار میچ جیتنے والی ٹیم تھی لیکن گروپ مرحلے کے آخری میچ میں وہ جنوبی افریقہ کے ہاتھوں دس رنز سے میچ ہار گئے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں دو باتیں مشاہدے میں آئیں۔ ایک یہ کہ اننگز کے آخری حصے میں عمدہ بولنگ کرنے والے ٹائمل ملز کی غیر موجودگی انگلینڈ کے کپتان آئن مورگن کے لیے 11 سے 20 اوورز تک کے مرحلے میں پریشانی کا باعث ہو سکتی ہے۔

دوسری بات تھی کہ انگلینڈ کی فتوحات میں بڑا واضح کردار ان کے ٹاپ آرڈر اور بالخصوص جوز بٹلر کا رہا ہے جنھوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 240 رنز بنائے ہیں جس میں ایک سنچری بھی شامل ہے۔

جنوبی افریقہ نے دکھایا کہ اگر بٹلر سمیت انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کو فارغ کر دیا جائے تو مخالف ٹیم کے لیے امید کی ایک کرن ضرور روشن ہو جاتی ہے کہ وہ شاید انگلینڈ کے مڈل آرڈر پر دباؤ ڈال سکیں۔

لیکن نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی شاید یہ جانتی ہو کہ اگر دونوں ٹیموں کے صرف کھلاڑیوں کا موازنہ کیا جائے تو انگلینڈ کی ٹیم کہیں بہتر معلوم ہوتی ہے اور جس طرح سے انھوں نے ویسٹ انڈیز اور پھر آسٹریلیا کو شکستِ فاش دی ہے، یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ اب انگلینڈ سے زیادہ اس ورلڈ کپ کو جیتنے کے لیے اور کوئی ٹیم فیورٹ نہیں ہے۔

کیویز نے اب تک ہونے والے میچوں میں ہمیشہ کی طرح اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کیا ہے اور صحیح معنوں میں 'ٹیم ورک' دکھاتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنائی ہے۔

سپن کے شعبے میں اش سودھی اور مچل سانٹنر، اور فاسٹ بولنگ میں ساؤتھی کا تجربہ، ملنے کی برق رفتار گیندیں اور بولٹ کی سوئنگ ان کے اٹیک کو ورائٹی دیتی ہے۔ جبکہ بیٹنگ میں کپتان کین ولیمسن کی اہمیت سے کون نہیں واقف۔

پھر پہلی بار اوپننگ کرنے والے ڈیرل مچل کی کامیابی نے کیویز کو مارٹن گپٹل کے ہمراہ اچھا آغاز فراہم کرنے والی ایک جوڑی بھی دے دی ہے جو کہ انگلینڈ کے اٹیک کو نشانہ بنا سکتی ہے جو کرس ووکس، معین علی، مارک ووڈ اور سب سے بڑھ کر لیگ سپنر عادل رشید پر مشتمل ہے اور جس لائن اپ نے اب تک بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا ہے۔

ابو ظہبی کی پچ پر فاسٹ بولرز کے لیے بھی مدد موجود ہے جبکہ کھل کر کھیلنے والے بلے بازوں کے لیے یہ یقین کہ گیند رک کر نہیں آئی گی یا نیچی نہیں رہے گی۔ البتہ میدان کی بڑی باؤنڈریز کا مطلب ہے کہ ایک بھی غلط شاٹ کھیلا تو چوکے یا چھکے کے بجائے کیچ آؤٹ بھی ہو سکتے ہیں۔

ان دونوں ٹیموں نے ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل وارم اپ میچ میں مقابلہ کیا تھا جہاں انگلینڈ نے 163 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 150 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

اُس میچ میں بھی انگلینڈ کے لیے نمایاں کارکردگی جوز بٹلر اور سپنر عادل رشید کی ہی رہی تھی اور انگلینڈ کو امید ہو گی کہ یہ دونوں اب سیمی فائنل میں بھی ویسی ہی کارکردگی دکھائیں اور انگلینڈ کے لیے فائنل میں جگہ پکی کرائیں۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ قارئین کو یہ یاد نہ ہو کہ 2010 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فاتح بھی انگلینڈ تھی اور اگر آپ تجزیوں اور تبصروں کو پڑھیں تو ان میں بھی شاذ و نادر ہی کوئی اس جیت کا ذکر کرتا ہے۔

لیکن گذشتہ پانچ سال میں انگلینڈ کی ٹیم وائٹ بال کرکٹ کی سب سے عمدہ اور تباہ کن ٹیم کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے اور 2016 کے سیمی فائنل اور 2019 کے ورلڈ کپ فائنل کے بعد کیویز کو اس بات کا بہت اچھی طرح سے علم ہے۔

اگلے چند گھنٹوں بعد یہ عیاں ہو جائے گا کہ آیا کین ولیمسن اور ان کی ٹیم نے انگلینڈ سے ماضی میں اہم میچوں میں شکست سے کوئی سبق سیکھا ہے یا تاریخ ایک بار پھر خود کو دہراتے ہوئے آئن مورگن کو فاتح کپتان کی حیثیت سے یاد رکھے گی۔