ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا کی نمیبیا کے خلاف آخری میچ میں نو وکٹوں سے جیت، 'کوہلی آپ نے مجھے رلا دیا'

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں گروپ مرحلوں کے آخری میچ میں انڈیا نے نمیبیا کو باآسانی نو وکٹوں سے شکست دے دی اور اس جیت کے ساتھ کپتان وراٹ کوہلی قیادت اور روی شاستری کی کوچنگ کے دور کا اختتام ہو گیا۔

ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر براجمان اور ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کے ساتھ مشترکہ فیورٹس انڈیا کے لیے یہ نتیجہ بے مقصد رہا کیونکہ وہ پہلے ہی سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔

اس میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انڈین کھلاڑی ونود کامبلی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت مایوس کن ٹورنامنٹ رہا لیکن امید ہے کہ ٹیم اگلے سال بہتر کھیلے گی۔ انھوں نے سیمی فائنل پہنچنے والی چاروں ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نمیبیا نے انڈیا کو جیت کے لیے صرف 133 کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں انڈین اوپنر روہت شرما نے اپنے کرئیر کی 24ویں اور ورلڈ کپ دوسری نصف سنچری بنائی۔ لیکن وہ بہت خوش قسمت رہے کہ پہلی ہی گیند پر نمیبیا کے کھلاڑی نے ان کا کیچ چھوڑ دیا۔

وہ موقع ملنے کے بعد بھی ان کی بیٹنگ میں روایتی روانی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن وہ اپنی نصف سنچری مکمل کر گئے۔

ممکنہ طور پر وہ وراٹ کوہلی کے بعد انڈیا ک ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بن سکتے ہیں اور اسی حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار ایاز میمن نے ٹویٹ کی کہ 'یہ میچ تو انڈیا کے لیے بہت آسان ثابت ہو رہا ہے اور روہت ممکنہ طور پر قیادت ملنے پر خوبصورت ففٹی کر کے اس کا جشن منا رہے ہیں۔'

روہت کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی آنند واسو نے بھی یہ بات دہرائی کہ تین بار انھوں نے گیند کو غلط طرح کھیلا لیکن ایک بار بھی بال فیلڈر کے ہاتھ میں نہیں گئی۔

لیکن جب 56 رنز بنا کر روہت شرما فرائی لنک کی گیند پر آؤٹ ہو گئے تو اس پر ایک صارف نے لکھا کہ کم از کم فرائی لنک اپنے پوتے پوتیوں کو یہ بتا سکیں گے کہ انھوں نے روہت شرما کو ایک 'زبردست گیند' پر آؤٹ کر دیا تھا۔

دوسری جانب انڈین کپتان وراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ میں مسلسل تنقید کا سامنا کرتے رہے اور اس میچ کے بعد بھی چند صارفین نے اس بارے میں ٹویٹ کی۔

ایک صارف نے تمسخرانہ انداز میں لکھا کہ کوہلی ابھی بھی ہلیمٹ پہنے ہوئے ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو یہ تبصرہ پسند نہ آئے لیکن تیسرے نمبر پر سریا کمار کے ہونے سے ہمیں تیزی مل سکتی ہے۔

البتہ ایسے کئی صارفین تھے جنھوں نے وراٹ کوہلی اور روی شاستری کی جوڑی کے جانے پر اپنے افسوس کا اظہار کیا۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'کوہلی آپ نے مجھے آج رلا دیا۔ امید ہے کہ آپ زیادہ بہتر طریقے سے واپس آئیں گے۔'

ایسا ہی کچھ صارف امیت نے کہا جو لکھتے ہیں کہ کوہلی شاستری کے دور کا اختتام ہو، جو کہ انڈین کرکٹ کے عظیم ترین ابواب میں سے ایک تھا۔

میچ میں کیا ہوا؟

انڈین کپتان وراٹ کوہلی نے ٹاس جیت کر جب بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو نمیبیا نے اچھی شروعات کیں اور پانچویں اوور تک ان کا کوئی آؤٹ نہیں تھا اور وہ آٹھ رنز فی اوور کی اوسط سے کھیل رہے تھے۔

لیکن جسپریت بمراہ نے وان لنگن کو 14 رنز پر آؤٹ کر دیا اور اس کے بعد پھر نمیبیا کی اننگز نے باقی ماندہ اوورز لڑکھڑاتے ہوئے کھیلے اور کسی بھی موقع پر انڈین بولنگ پر دباؤ نہ ڈال سکے۔

ایک بار پھر ٹیم کا سب سے زیادہ سکور ان کے سپر سٹار آل راؤنڈر ڈیوڈ ویزے نے کیا جنھوں نے 26 رنز بنائے۔

انڈیا کی جنب سے بمراہ نے دو وکٹیں لیں جبکہ سپنرز کی جوڑی روی ایشون اور روندرا جڈیجا نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

جڈیجا نے پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی شاندار کھیل پیش اور وہ میچ کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز کے حقدار بنے۔

انڈیا کی جانب سے روہت شرما اور لوکیش راہل نے اچھی شروعات کیں اور روہت نے کیچ ڈراپ ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا اور دو چھکے اور سات چوکے مارے۔

آؤٹ ہونے کے بعد سریاکمار یادیو بیٹنگ کے لیے آئے اور انھوں نے راہل کے ساتھ نصف سنچری کی شراکت قائم کی اور 25 پر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ راہل نے گذشتہ میچ میں 18 گیندوں پر ففٹی کے بعد اس بار 36 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور ناقابل شکست رہے۔