دیپیکا کماری: وہ لڑکی جس نے غربت سے لڑنے کے لیے تیر کمان سنبھالی اور دنیا کی نمبر ون تیرانداز بن گئی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

انڈیا کی تیر انداز دیپیکا کماری اتوار کے روز پیرس میں منعقدہ آرچرری ورلڈ کپ (سٹیج تھری) میں تین طلائی تمغے جیتنے کے بعد عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر آ گئیں ہیں۔

دیپیکا نے خواتین کی انفرادی تیراندازی والے ایونٹ کے آخری راؤنڈ میں روسی کھلاڑی ایلینا اوسیپووا کو 6-0 سے شکست دے کر اپنا تیسرا طلائی تمغہ جیتا۔

اس سے قبل انھوں نے مخلوط راؤنڈ اور خواتین کی ٹیم ریکوریو ایونٹ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

دیپیکا نے صرف تین گھنٹوں میں یہ تینوں طلائی تمغے جیتے ہیں۔

اس سے قبل دیپیکا محض 18 سال کی عمر میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بن گئی تھیں۔ ورلڈ کپ مقابلوں میں اب تک نو طلائی تمغے، 12 چاندی کے تمغے اور کانسی کے سات تمغے جیتنے والی دیپیکا کی نظر اب اولمپک تمغے پر ہے۔

دیپیکا اگلے ماہ ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کے لے جاپان جا رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ انڈیا سے جانے والی تیر اندازی ٹیم میں واحد خاتون ہیں۔

چلتے ہوئے رکشہ میں پیدا ہوئی

جھارکھنڈ کے ایک انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہونے والی 27 سالہ دیپیکا نے پچھلے 14 برسوں میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔

تیر اندازی سیکھنے کے لیے اپنے گھر سے نکلتے وقت دیپیکا کو اطمینان ہوا کہ ان کے جانے سے کنبہ پر بوجھ کم ہو گا۔ لیکن آج دیپیکا نے اپنے طور پر خاندان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کو بڑھا دیا ہے۔ دیپیکا کے والد شیو نارائن مہتو آٹو رکشہ ڈرائیور تھے۔ اسی دوران اس کی والدہ گیتا مہتو میڈیکل کالج میں گروپ ڈی ملازم کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔

اولمپک فیڈریشن نے ایک مختصر دستاویزی فلم بنائی ہے جس میں دیپیکا اور اس کے اہل خانہ نے دیپیکا کے سفر سے وابستہ چیلنجوں کے بارے میں بات کی ہے۔

دیپیکا کے والد شیو نارائن کا کہنا ہے ’جب دیپیکا پیدا ہوئی تھی، تب ہماری معاشی حالت بہت خراب تھی۔ ہم بہت غریب تھے۔ میری بیوی 500 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرتی تھی اور میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا۔‘

خود ہی اس فلم میں دیپیکا بتاتی ہیں کہ وہ چلتے ہوئے رکشا میں پیدا ہوئی تھی کیوںکہ ان کی والدہ ہسپتال نہیں جاسکیں۔

یہاں تک کہ جب وہ اولمپکس کھیلنے گئی تھیں تب بھی کنبے کی مالی حالت بہت خراب تھی۔

14 سال کی عمر میں تیر کمان اٹھائی

کہا جاتا ہے کہ زندگی میں بہت سی چیزیں اتفاق سے ہوتی ہیں۔ 14 سال کی عمر میں دپیکا کی تیر اندازی کی دنیا میں انٹری ہوئی اور انھوں نے کمان اور تیر کو پہلی بار اٹھایا جو ایک اتفاق تھا۔ انھوں اس نے اپنے کیریئر کا آغاز بانس سے بنے ایک کمان اور تیر سے کیا تھا۔

دیپیکا کا کہنا ہے کہ ’وہ تیر اندازی کے بارے میں اتنی جذباتی ہیں کیونکہ انھوں نے اس کھیل کو نہیں بلکہ اس کھیل نے ان کا انتخاب کیا تھا۔‘

تیر اندازی کی دنیا میں ان کی انٹری کی کہانی بیان کرتے ہوئے دیپیکا کا کہنا ہے کہ ’جب ہم سنہ 2007 میں نانی کے گھر گئے تو میری کزن نے بتایا کہ ان یہاں پاس ہی ارجن آرچرری اکیڈمی ہے۔‘

’جب اس نے کہا کہ وہاں سب کچھ مفت ہے۔ کٹ بھی دستیاب ہے، کھانا بھی دستیاب ہے۔ تو میں نے کہا چلو ابھی بات کریں، گھر کا بوجھ کم ہوگا۔ کیونکہ اس وقت معاشی بحران بہت گہرا تھا۔‘

لیکن جب دیپیکا نے اپنے والد کے سامنے اپنی خواہش رکھی تو انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

دیپیکا کا کہنا ہے ’رانچی ایک بہت چھوٹی اور قدامت پسند جگہ ہے۔ جب میں نے اپنے والد کو بتایا کہ میں تیر اندازی سیکھنے جانا چاہتی ہوں تو انھوں نے انکار کردیا۔‘

چیلنجوں کا آغاز

دیپیکا کے والد بتاتے ہیں کہ معاشرے میں لڑکیوں کو گھر سے دور بھیجنا درست نہیں سمجھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ، ’اگر کوئی اپنی چھوٹی بیٹی کو 200 کلومیٹر دور بھیجتا ہے تو لوگ کیا کہتے ہیں ’ارے، وہ اپنی بچی کو کھانا کھلانے کے قابل نہیں تھا، اسی وجہ سے اسے بھیجا گیا تھا…۔ ‘

لیکن آخر میں دیپیکا رانچی سے 200 کلومیٹر دور واقع خرسوان تیر اندازی اکیڈمی پہنچیں۔

لیکن یہ صرف چیلنجوں کا آغاز تھا۔ اکیڈمی نے اسے پہلی نظر میں مسترد کردیا کیونکہ دیپیکا بہت پتلی تھیں۔ دیپیکا نے اکیڈمی سے تین ماہ کا وقت مانگا اور خود کو ثابت کردیا۔

دیپیکا کی زندگی کا وہ مرحلہ جو اکیڈمی میں شروع ہوا تھا کافی مشکل تھا۔

دیپیکا کا کہنا ہے کہ ’میں شروع میں ہی بہت پرجوش تھی۔ کیونکہ یہ سب ایک نئی چیز کے طور پر ہو رہا تھا۔ لیکن کچھ وقت بعد مجھے بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے میں مایوس ہو گئی۔‘

’اکیڈمی میں باتھ روم نہیں تھے۔ نہانے کے لیے ندی پر جانا پڑا۔ اور جنگلی ہاتھی رات کو آتے تھے۔ اس لیے رات کے وقت واش روم کے لیے باہر جانا ممنوع تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ جب تیر اندازی سے لطف اٹھانا شروع ہوا تب وہ تمام چیزیں ثانوی لگنے لگیں۔ مجھے جیسے ہی کمان ملا میں نے جلدی سے شوٹنگ شروع کردی۔ ایسی صورتحال میں آہستہ آہستہ دلچسپی بڑھنے لگی اور پھر تیر اندازی کے ساتھ پیار ہو گیا۔‘

جب دیپیکا دھرمیندر تیواری سے ملیں

دیپیکا نے ابتدا میں ضلعی سطح کے مقابلوں سے لے کر کئی مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ کچھ مقابلوں میں انعام کی رقم 100، 250 اور 500 روپے تھی۔ لیکن یہ بھی دیپیکا کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا۔

سنہ 2008 میں جونیئر ورلڈ چیمپین شپ ٹرائلز کے دوران دیپیکا نے دھرمیندر تیواری سے ملاقات کی جو ٹاٹا آرچر اکیڈمی میں کوچ تھے۔

دیپیکا کا کہنا ہے کہ ’دھرمیندر صاحب نے مجھے منتخب کیا اور مجھے خرسوان سے ٹاٹا آرچرری اکیڈمی لے آئے۔ مجھے وہ جگہ اتنی پسند آئی کہ وہاں داخل ہوتے ہی میں نے دعا مانگی کہ میں زندگی بھر یہاں ہی رہوں۔ اور میری دعا بھی پوری ہوگئی۔

دھرمیندر تیواری فی الحال دپیکا کے کوچ بھی ہیں۔ دنیا کی نمبر ایک آرچر بننے کا دپیکا کا تجربہ بہت ہی دلچسپ ہے۔

دیپیکا نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ جب وہ سال 2012 میں دنیا کی نمبر ایک آرچر بن گئیں تو وہ نہیں جانتی تھیں کہ عالمی درجہ بندی میں نمبر ون ہونے کا کیا مطلب ہے۔

اس کے بعد انھوں نے اپنے کوچ سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر اسے پتہ چل گیا کہ نمبر ون بننے کا کیا مطلب ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جب اولمپک میڈل ہاتھ سے نکل گیا

لیکن اس کے بعد دیپیکا کو ایک اور دھچکا لگا جب وہ اولمپکس میں برطانوی کھلاڑی ایمی اولیور سے 6-2 سے ہار گئیں۔

دیپیکا کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا ایک انتہائی مشکل وقت تھا۔ میچ کے بعد دیپیکا نے بی بی سی کے نامہ نگار پنکج پریادشی کے ساتھ گفتگو میں اپنا تجربہ شیئر کیا۔

دیپیکا نے بتایا تھا کہ ’اس میچ میں ہوا بہت تیز تھی اور میں نے پہلی بار ایسی ہوا کا تجربہ کیا تھا۔ ہوا نے مجھے مزید الجھا دیا اور جب تک میں ہوا کی سمت کو سمجھ سکی، میچ ختم ہو گیا۔‘

اس سوال کے جواب میں کیا ان پر دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بننے کا کوئی پھریشر تھا، اس پر دیپیکا نے کہا ’نہیں، یہ دو چیزیں مختلف ہیں۔ میں بہت سارے ایوینٹس میں کھیل کر عالمی نمبر ون کھلاڑی بنی ہوں لیکن اولمپکس محض ایک کھیل ہے۔ آپ اندر جائیں اور دیکھیں کہ کھلاڑی کیسے تیر اندازی کرتے ہیں۔ میں بھی پہلی بار اس کا سامنا کر رہی ہوں اور یہ میرا پہلا اولمپکس ہے۔ مجھ پر کوئی پریشر نہیں تھا، مجھے بس اپنی پوری کوشش کرنی تھی۔‘

تاہم بعد میں ایک انٹرویو میں دیپیکا نے اعتراف کیا کہ اولمپکس کے دوران وہ بہت تناؤ سے گزر رہی ہیں۔ اور ان کی طبیعت بھی خراب ہوگئی تھی۔

اس کے بعد ریو اولمپکس میں بھی دیپیکا کو مایوسی ہوئی۔ اب دیپیکا ایک بار پھر ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کی تیاری کر رہی ہیں۔ سال 2012 کی طرح اس بار بھی وہ اولمپکس سے قبل ہی عالمی نمبر ایک کھلاڑی بن گئی ہیں۔

پچھلے 13 برسوں میں دیپیکا نے بہت سے طلائی تمغے جیتے ہیں، اپنے کنبے کی مالی حالت میں بہتری لائی ہیں اور صرف گذشتہ سال تیر انداز آتنو داس سے شادی بھی کی تھی۔

خرسوان سے لے کر ٹاٹا تیر اندازی اکیڈمی تک، پورے انڈیا میں بچے بطور رول ماڈل دیپیکا کماری کی طرف دیکھتے ہیں۔

تین اولمپک مقابلوں کے درمیان، دیپیکا نے ایک عورت کی حیثیت سے بھی ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں دیکھنا یہ ہو گا کہ دیپیکا کس طرح تمام دباؤ اور چیلنجوں پر قابو پاتی ہیں اور اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے اپنے خواب کو سچ ثابت کرتی ہیں۔