محمد عباس کی ہیٹرک: 'بولنگ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رفتار صرف ایک اضافی ہتھیار ہے'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ کچھ روز سے جہاں پاکستان کو جنوبی افریقہ میں موجود قومی ٹیم کی فتوحات اور کپتان بابر اعظم کی آئی سی سی کی ایک روزہ میچوں کی رینکنگ میں سرِ فہرست آنے جیسی خوش خبریاں مل رہی ہیں، وہیں آج انگلینڈ میں موجود پاکستانی بولر محمد عباس نے بھی ایک شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔
انگلینڈ میں کاؤنٹی چیمپیئن شپ میں ہیمپشائر کی جانب سے کھیلنے والے محمد عباس نے مڈل سیکس کی ٹیم کے خلاف پہلے تو ہیٹرک کی اور اس کے بعد پہلی اننگز میں مجموعی طور پر چھ وکٹیں حاصل کر کے مڈل سیکس کو صرف 79 رنز پر ڈھیر کر دیا۔
عباس نے صرف تین رنز دے کر 17 گیندوں میں پانچ وکٹیں حاصل کیں اور اننگز کے اختتام تک ان کے بولنگ اعداد و شمار کچھ یوں تھے: 11 اوورز چھ میڈن صرف 11 رنز کے عوض چھ وکٹیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ محمد عباس گذشتہ دو سیریز سے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اور رواں ماہ زمبابوے میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں بھی انھیں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
اکتیس سالہ محمد عباس اب تک 23 ٹیسٹ میچوں اور تین ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اس دوران ٹیسٹ میچوں میں وہ 22 کی اوسط سے 84 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ انگلینڈ کے شہرساؤتھ ایمپٹن کے ایجیئس باؤل میں کھیلے جانے والے اس کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے میچ میں ہیمپشائر نے پہلے اپنی پہلی اننگز میں 319 رنز بنائے۔ جواب میں جب مڈل سیکس کی ٹیم اگلے روز بیٹنگ کو آئی تو محمد عباس نے اپنے دوسرے ہی اوور کی آخری دو گیندوں پر دو وکٹیں اور پھر دوسرے اوور کی پہلی گیند پر ایک وکٹ لے کر ہیٹ ٹرک کر لی۔
اس کارکردگی کے بعد یقیناً محمد عباس کے ٹیسٹ میچوں میں واپسی کے امکانات بڑھ جائیں گے لیکن سوشل میڈیا پر اکثر صارفین یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ نیوزی لینڈ کی سیریز میں پاکستان نے انتہائی ناتجربہ کار بولنگ اٹیک کیوں کھلایا گیا اور اتنے اچھے اعداد و شمار کے باوجود محمد عباس کی جگہ ٹیسٹ سکواڈ میں کیوں نہیں بنتی۔
عباس یہیں نہیں رکے اور صرف دو اعشاریہ پانچ اوورز میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے میچ میں ہیمپشائر کو یقینی برتری دلوا دی۔ عباس کی نپی تلی بولنگ کے باعث انھیں خاصی اہم پزیرائی ملتی ہے اور شائقین ان کا موازنہ سابق پاکستانی بولر محمد آصف سے بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کے سابق بولنگ کوچ ایئن پونٹ نے ہیمپشائر کو ایک عمدہ سائننگ کرنے پر سراہا تو اکثر پاکستانی مداحوں نے محمد عباس کی تعریف کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک صارف نے لکھا کہ عباس کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ اتنے اچھے بولر نہیں جتنے ان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں، شاید یہ ان سب افراد کے لیے جواب ہے، وہ ان کنڈیشنز کے لیے بہترین بولر ہیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ 'عباس کی بولنگ دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تیز رفتار صرف ایک اضافی ہتھیار ہے آپ کو صرف بنیادی چیزوں پر عمل کرنا ہے اور ٹھیک لینتھ پر بار بار بولنگ کرنا۔'
اس حوالے سے ایک صارف نے لکھا کہ عباس کی بولنگ یقیناً انجری کے بعد متاثر ہوئی تھی لیکن انھیں نیوزی لینڈ کے دورے میں سلیکٹ نہ کرنا درست نہیں تھا خاص طور پر جب وہ قائداعظم ٹرافی میں واپس فارم میں آتے دکھائی دے رہے تھے۔


























