لستھ ملنگا نے ایک روزہ کریئر کو اپنے انداز میں خیرباد کہہ دیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
کرکٹ کے شائقین کے سامنے جب بھی لستھ ملنگا کا نام لیا جائے تو وہ ان کے گھنگھرالے بالوں اور غیر روایتی بولنگ ایکشن کا ذکر کریں گے۔
بلے بازوں سے پوچھا جائے تو یقیناً وہ ان کے پیر توڑ یارکرز کی کہانیاں سنائیں گے جبکہ بولرز ضرور یہی کہیں گے کہ ان جیسا کوئی نہیں ہے۔
یہ درست بھی ہے کہ ملنگا جیسا کوئی نہیں ہے اور یہ بات انھوں نے اپنے آخری میچ کی پانچویں گیند پر باور کروائی جب انھوں نے بنگلہ دیش کے مایہ ناز بلے باز تمیم اقبال کو ان سوئنگنگ یارکر پر بولڈ کر دیا اور تین اہم وکٹیں حاصل کر کہ سری لنکا کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملنگا کے یارکرز
ایسا نہیں کہ بلے باز ملنگا کے یارکرز کی تیاری نہیں کرتے۔ ملنگا کو کھیلتے ہوئے بلے بازوں کے ذہن میں شاید یہ پہلی چیز ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرک وز کے مطابق ملنگا نے اپنے کریئر میں 500 سے زائد یارکرز کرائے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ یارکرز کرانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے پاس یارکرز کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں ایک خطرناک سلو یارکر بھی شامل ہے۔
لیکن اتنے سالوں بعد بھی حالیہ ورلڈ کپ میں ملنگا نے اس ہتھیار کے ذریعے انگلینڈ جیسی ٹیم کو چاروں شانے چت کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملنگا جیسا کوئی نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملنگا کے کریئر کے اعداد و شمار
ملنگا نے اپنے ایک روزہ کریئر میں 226 ایک روزہ میچوں میں 28 کی اوسط سے 338 وکٹیں حاصل کیں۔
انھوں نے اپنے ایک روزہ کریئر کا آغاز سنہ 2004 میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ایک میچ سے کیا لیکن انھیں پہلی مرتبہ سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں شہرت حاصل ہوئی جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں چار گیندوں پر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کہ عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
ایک روزہ میچوں میں ملنگا کی سب سے اچھی کارکردگی 38 رنز کے عوض چھ وکٹیں لینا رہی۔
ریکارڈز کی بات کی جائے تو شاید انھیں ایک روزہ ورلڈ کپ نہ جیتنے کا افسوس رہے گا کیونکہ عالمی کپ مقابلوں میں ان کی کارکردگی عمدہ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملنگا کے ریکارڈز
اگر بالوں کے سٹائل تبدیل کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ ہوتا تو وہ ضرور ملنگا کے پاس ہوتا۔
زیادہ تر شائقین کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ملنگا کے بال ہمیشہ سے ہی ایسے نہیں تھے۔ کریئر کے آغاز میں ان کے بالوں کا انداز روایتی تھا البتہ آہستہ آہستہ ان کی بولنگ کی طرح یہ بھی غیر روایتی ہونے لگا۔
چار عالمی کپ مقابلوں میں 56 وکٹیں حاصل کر کے ملنگا سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
ملنگا کے پاس سب سے زیادہ تین مرتبہ ایک روزہ میچوں میں ہیٹرک کرنے کا اعزاز بھی موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بات یہاں ختم نہیں ہوتی ملنگا ایک میچ ونر تھے۔ سری لنکا نے ملنگا کی موجودگی میں جن میچوں میں کامیابی حاصل کی ان میں ملنگا 24.7 کے سٹرائک ریٹ کے ساتھ سرِفہرست رہے۔
انھوں نے بطور ٹی ٹوئنٹی کپتان سری لنکا کو سنہ 2014 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کریئر کے آخر میں انھیں فٹنس کے مسائل درپیش تھے جن کی وجہ سے وہ اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے جس کی ان سے امید کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہی وجہ ہے کہ سنہ 2015 سے سنہ 2019 کے عرصے میں ان کی بولنگ اوسط صرف 36 ہی رہی۔
تاہم حالیہ ورلڈ کپ کے آغاز میں وہ ایک مرتبہ پھر سے اپنے ہی رنگ میں نظر آئے اور انھوں نے لڑکھڑاتی ہوئی سری لنکن ٹیم کو سہارا دیے رکھا۔
سلنگا ملنگا کے نام سے جانے جانے والے اس بولر نے سری لنکا کے غیر روایتی کھیل پیش کرنے کی وراثت کو آخری دم تک سنبھالے رکھا لیکن سوال یہ ہے کہ اب اس کا وارث کون بنے گا؟























