آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈکپ 2019: ’تنقید ضرور کریں لیکن زبان ناشائستہ نہ ہو‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لارڈز
- وقت اشاعت
ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی اور انڈیا سے اہم میچ ہارنے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور اس دوران بعض شائقین کی جانب سے سوشل میڈیا پر کرکٹرز اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔
پہلے اس کا نشانہ شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا بنیں اور پھر ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک نوجوان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو مخاطب کرتے ہوئے نامناسب زبان استعمال کر رہا ہے جو اس وقت کسی شاپنگ سینٹر میں اپنے بچے کے ساتھ موجود تھے۔
اسی دوران ایک اور شاپنگ سینٹر میں دو پاکستانی کرکٹرز اور ایک شخص کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کی زبان انتہائی نامناسب تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سے بی بی سی اردو نے جب یہ سوال کیا کہ اس وقت میڈیا آپ لوگوں کے لیے زیادہ خطرناک بنا ہوا ہے یا سوشل میڈیا؟ جس پر ان کا جواب تھا ’دونوں ایک جیسے ہیں۔‘
سرفراز احمد کا کہنا ہے’کہ اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ کسی کو بھی نہیں روکا جا سکتا۔ پہلے بھی ٹیمیں ہاری ہیں اگر یہ چیزیں (سوشل میڈیا) پہلے ہوتیں تو لوگوں کو اندازہ ہوتا کہ یہ کتنی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔‘
سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر جس کا جو دل کرتا ہے کہہ دیتا ہے لکھ دیتا ہے۔ کرکٹرز کے ساتھ واقعات ہو رہے ہیں ظاہر ہے ان کا نفسیاتی اثر نہ صرف ان پڑ رہا ہے بلکہ اس سے ان کے خاندان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ لوگ جو سنتے ہیں جو دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں۔‘
سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ’تنقید ضرور کریں لیکن زبان ناشائستہ نہ ہو۔ پاکستانی شائقین بہت زیادہ جذباتی ہیں ان کا غصہ جائز ہوتا ہے لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ شکست پر جتنا دکھ انھیں ہوتا ہے اس سے زیادہ دکھ کرکٹرز کو ہوتا ہے۔ کیونکہ کرکٹرز پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم ابھی تک بحیثیت ٹیم اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں۔‘
سرفراز احمد ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ٹیم پر تنقید کرنے والے سابق کرکٹرز سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کچھ کہہ دیا تو یہ کرکٹرز بولیں گے کہ جواب کیوں دے دیا۔ وہ لوگ تو ٹی وی پر خدا بن کر بیٹھے ہیں۔ اگر میں نے ان کو کچھ کہا تو انھوں نے پھر تنقید شروع کردینی ہے کیونکہ ان کی نظروں میں ہم کھلاڑی ہی نہیں ہیں۔’