آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ورلڈ کپ فائنل:کروشیا کو شکست، فرانس دوسری مرتبہ فٹبال کا عالمی چیمپیئن بن گیا
روس کے دارالحکومت ماسکو میں فیفا عالمی کپ 2018 کے فائنل میں فرانس نے کروشیا کو 4-2 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ فٹبال کے عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
اس سے قبل فرانس نے 20 سال پہلے 1998 میں فٹبال کے عالمی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
کروشیا کے کپتان لوکا ماڈرچ کو ان کی بہترین کارکردگی پر ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ فاتح ٹیم کے کیلیئن ایمباپے کو بہترین کم عمر کھلاڑی کا اعزاز ملا۔
اتوار کو کھیلے گئے فائنل میچ کے پہلے ہاف کی نسبت میچ کے دوسرے ہاف میں فرانس میں ٹیم نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور 4-2 سے فتح اپنے نام کی۔
پہلے ہاف کے اختتام پر فرانس کو ایک کے مقابلے میں دو گول کی برتری حاصل تھی۔
دوسرے ہاف میں پال پوگبا نے میچ کے 59ویں منٹ میں ایک نہایت شاندار گول کر کے فرانس کی برتری 3-1 کر دی۔ اس کے چھ منٹ بعد ایمباپے نے ایک اور گول کر کے سکور 4-1 کر دیا۔
میچ کے 70 ویں منٹ میں مینڈزوکچ نے گول کر کے کروشیا کی امیدیں برقرار رکھیں تاہم کروشیا مزید کوئی گول کرنے میں ناکام رہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پہلے ہاف میں میچ کے 18 ویں منٹ میں کروشیا کے ماریو منڈزوکچ کے اون گول کی بدولت فرانس کو برتری حاصل ہوگئی جب فرانسیسی کھلاڑی انتوئن گریزمین کی فری کک سے بال مینڈزوکچ کے سر سے ٹکراتی ہوئی جال میں جا گری۔
یہ ورلڈ کپ کے کسی فائنل میں ہونے والا پہلا اون گول تھا۔
تاہم یہ برتری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور ایوان پریسچ نے 29ویں منٹ میں ڈی کے کونے پر ایک پاس ملنے کے بعد خوبصورت گول کر کے سکور ایک، ایک سے برابر کر دیا۔
پہلے ہاف کے 38ویں منٹ میں فرانس کو پینلٹی کک ملی جس پر انتوئن گریزمین نے فرانس کو ایک بار پھر سبقت دلا دی۔
یاد رہے کہ کروشیا نے پہلے مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا جبکہ تیسری بار ورلڈ کپ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی فرانس کی ٹیم دوسری بار فٹبال کی عالمی فاتح بننے کے لیے میدان میں اتری تھی۔
کروشیا نے 1998 میں آخری بار سیمی فائنل کھیلا تھا جہاں اسے فرانس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پرا تھا اور اب 2018 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس ہی اس کے مدمقابل ہے۔
فرانس کے مینجر دیدیئر دیسچیمپس کا بطور مینیجر یہ تیسرا عالمی کپ ہے اورفرانس کی فتح کے بعد وہ بطور کھلاڑی اور بطور مینیجر عالمی کپ کی ٹرافی اٹھانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔