وائٹ نوائز: واشنگ مشین، پنکھے یا بارش کی آواز سے کیسے ہزاروں ڈالر کمائے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ پوری دنیا میں پوڈ کاسٹوں کی مقبولیت کا دور ہے۔ نشریات کے اس موڈ میں نئی مصنوعات مسلسل آ رہی ہیں اور وہ کافی مقبول بھی ہو رہی ہیں۔
اب واشنگ مشین کی آواز، پنکھے کے چلنے یا بارش کی آواز کو ریکارڈ کرنے سے بنائے گئے پوڈ کاسٹ سے بہت پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ ایسی آوازوں کو وائٹ نوائز (سفید شور) کہا جاتا ہے۔ اسے پُرسکون زندگی گزارنے کا ایک نیا طریقہ سمجھا جا رہا ہے۔
سفید شور پوڈ کاسٹر امن کی دنیا بناتے ہیں۔ وہ ہزاروں سامعین کو صوتی آلودگی سے دور رہنے، پرسکون رہنے اور انھیں پرسکون نیند لانے میں مدد کر رہے ہیں۔
مقبول ویڈیو اور آڈیو پلیٹ فارمز پر ان کی فہرست دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کتنے مقبول ہیں۔ سیلیسٹیئل وائٹ نوائز کے یوٹیوب پر 507 ملین ویوز ہیں، جبکہ 'وائٹ نوائز فار بیبیز ٹو سلیپ' کے 208 ملین ویوز ہیں۔
اب ایسی آوازوں کے زیادہ سے زیادہ پوڈ کاسٹ آ رہے ہیں۔ یہ آوازیں دوسری آوازوں کو چھپانے یا چھپانے کے لیے مثالی ہیں۔ وہ عام طور پر کاروں، تعمیرات یا کتے کے بھونکنے کی آواز کو چھپانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ نوائز کا بازار
ٹوڈ مور ایک امریکی کاروباری شخصیت ہیں جنھوں نے گذشتہ 12 سالوں سے ٹی ایم سافٹ کے لیے 'وائٹ نوائز سلیپ ساؤنڈ پوڈکاسٹ' میں وائٹ نوائز ریکارڈ کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہر کوئی سکون کی نیند سونے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ کچھ لوگ مراقبہ کرتے ہیں لیکن میں نے رات کو سونے کا بہترین طریقہ دریافت کیا ہے۔ میرے مطابق فطرت میں وائٹ نوائز اور فطری آوازیں اچھی نیند کے لیے انتہائی مؤثر ہیں۔
سنہ 2009 میں مور نے وائٹ نوائز لائٹ کے نام سے ایک مفت ایپ لانچ کی تھی لیکن اب صرف ایپل سٹور پر ہی اس ایپ کو ایک لاکھ 70 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مور کا کہنا ہے کہ 'وائٹ نوائز ایپ بنانے کا خیال اس دور میں آیا جب آئی فون سامنے آیا اور اس نے اپنا ایپ سٹور لانچ کیا۔ چونکہ میں ہمیشہ پنکھے کے نیچے سوتا تھا، اس لیے میرے ذہن میں پہلی چیز جو آئی وہ اس کی آواز ریکارڈ کرنا تھی۔ میں اسے آئی فون پر ریکارڈ کر کے اپنے ساتھ لے جا سکتا تھا۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'اب میں نے ایئر کنڈیشنر کی طرح دوسری قسم کی آوازوں کو ریکارڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔ میں باغ میں جا کر جھینگے کی آواز کو ریکارڈ کرتا، میں نے بارش اور فطرت کی دیگر آوازوں کو بھی ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ پھر میں نے انھیں ایپ میں ڈالنا شروع کیا۔ یہ بہت سادہ تھا، میرے پاس دس قسم کی آوازیں تھیں اور میں رات بھر انھیں سن سکتا تھا۔'
مور نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ 'آڈیو کو بغیر کسی رکاوٹ کے دس گھنٹے تک سننا سب سے مشکل کام تھا۔ اس میں مجھے کافی وقت لگا۔ لیکن ایک بار جب میں نے اسے مکمل کر لیا تو مجھے اسے صرف مجتمع کرنا تھا۔
آغاز میں، میں نے اس سے کچھ پیسے کمائے لیکن میرا ارادہ یہ ہرگز نہیں تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ آوازیں کسی کے لیے مددگار ہو سکتی ہیں، اسی لیے میں نے انھیں مفت ڈاؤن لوڈ موڈ میں رکھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ 'بہت جلد یہ نمبر ون ایپ بن گئی۔ ہر کوئی ان آوازوں کو سن رہا تھا، انھیں ڈاؤن لوڈ کر رہا تھا۔ مجھے سینکڑوں ای میلز مل رہی تھیں، پھر میں نے اپنی پوڈ کاسٹ شروع کر دی۔'
اس دوران لوگوں میں پوڈ کاسٹ میں دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر مور نے اپنی وائٹ نوائز کی ریکارڈنگ پوڈ کاسٹ پر ڈالنا شروع کر دی۔
مور کہتے ہیں کہ 'ہم ہر ہفتے نئی آوازیں شامل کرتے ہیں۔ یہ ایپ اپنے تکمیلی مراحل میں ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ ایپ کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ہم اس طریقے سے معقول رقم کما رہے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں لیکن ہمیں امید نہیں تھی کہ ہم روزانہ 50 ہزار سامعین کا اضافہ کریں گے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہر ماہ 18 ہزار ڈالر کمانے والے پوڈ کاسٹر
پوڈ کاسٹنگ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا کاروبار بن گیا ہے۔ مور اب وہ خود اپنی کمپنی میں پانچ لوگوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ تین کل وقتی ملازم ہیں اور اب یہ بہت پیسے والا کاروبار ہے۔
مور کہتے ہیں کہ ’ہم اچھے پیسے کما رہے ہیں۔‘ لیکن یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کمائی کی مزید تفصیلات بتانے محتاط انداز اپناتے دکھائی دیتے ہیں۔
بلومبرگ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق اینکرز اپنے پوڈ کاسٹ کے لیے اکاؤنٹس بھی خود ہی دیکھتے ہیں اور انھیں ہر 1000 مرتبہ ایک ویڈیو پلے ہونے پر 12.25 ڈالر ملتے ہیں۔ یعنی وہ ہر ماہ 18,375 ڈالر کماتے ہیں۔
یہ صرف پوڈ کاسٹ کے آغاز سمیت دیگر اشتہارات کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ مور کو ایپ سے پیسے بھی ملتے ہیں۔
مور کے 15 لاکھ فعال سبسکرائبرز ہیں اور وہ اپنی ایپ کا پرو ورژن بھی 2.99 ڈالر میں فروخت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پیسہ کمانا اتنا بھی آسان نہیں‘
لیکن پوڈ کاسٹ کو مونیٹائز کرنا، یعنی اس سے پیسہ کمانا بھی پیچیدہ عمل ہے۔ فرانسسکو ایزکیجا، ہسپانوی پوڈ کاسٹر اور 'ییس وی' کاسٹ کے بانی، کہتے ہیں کہ 'ہر کوئی پیسہ نہیں کما سکتا۔ صرف چند پوڈ کاسٹر ہی آمدنی پیدا کرنے کے قابل ہیں۔'
تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس وقت پوڈ کاسٹنگ کے رجحان کے لیے زیادہ فنڈز اور زیادہ وسائل دستیاب
ہیں اس لیے نئے فارمیٹس بنانے اور وائٹ نوائز کی طرح نیا مواد تیار کرنے کا امکان ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'جو لوگ پوڈ کاسٹ شروع کرتے ہیں ان میں سے 99 فیصد لوگ یوٹیوب ولاگ سے شروع ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پر وہ پیسے نہیں کماتے۔ انھیں پیسہ کمانے میں کافی وقت لگے گا۔‘

























