نیورو ڈائیورسٹی کیا ہے اور سوشل نیٹ ورکس اس کی تشخیص میں کس طرح مدد کر رہے ہیں

redes sociales

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سیدتا سیسے
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت

کچھ سال پہلے تک بہت سے لوگوں نے نیورو ڈائیورسٹی (یا اعصابی تنوع) کا لفظ نہیں سنا تھا۔ تاہم یہ اصطلاح جو انسانی دماغ میں پائے جانے والے وسیع اور متنوع فرق کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اب روزمرہ استعمال ہونے والے الفاظ میں شامل ہو چکی ہے۔

کلب ہاؤس، ٹوئٹر اور ٹک ٹاک جیسے سوشل نیٹ ورکس نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز نے وہ جگہ فراہم کی ہے جہاں لوگ اپنے مختلف خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔

درحقیقت سوشل میڈیا نے بہت سے لوگوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ نیوروڈیورجینٹ ہیں۔

کووڈ کے وبائی مرض کے دوران اس کی اہمیت اس وقت بڑھ گئی جب متنوع دماغ والے لوگ آن لائن ایسی کمیونٹیز اور لوگ ڈھونڈنے کے قابل تھے جو ان کے جیسے تھے۔

نیورو ڈائیورسٹی کیا ہے؟

یہ اس بات کا اقرار ہے کہ ہمارا دماغ مختلف طریقوں سے کام کر سکتا ہے اور یہ مختلف طریقے انسانی دماغ میں قدرتی تبدیلیوں کے باعث ہیں۔

امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں نیورو ڈائیورسٹی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر لارنس فینگ نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے دماغ مختلف ہیں اور کسی بھی انسان کی طرح آپ ہر چیز میں بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔‘

فینگ کا خیال ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے دماغ میں ہونی والی تبدیلیوں کا اقرار یا انھیں قبول کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جنسی تنوع ایک ایسی چیز ہے جسے آپ آسانی سے پہچان سکتے ہیں، بالکل اسی طرح آپ نسلی تنوع کا آسانی سے پتہ لگا سکتے ہیں کیونکہ آپ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اعصابی تنوع ایسی چیز ہے جسے ہم اکثر نہیں دیکھ پاتے۔‘

نیورو ڈائیورجینٹ افراد آٹزم، توجہ کی کمی ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (اے ڈی ایچ ڈی)، ڈیسلیکسیا (الفاظ پڑھنے، پہچاننے، سمجھنے، یاد رکھنے اور لکھنے میں مشکل ہونا) یا ڈیسپریکسیا (پٹھوں کا بے قابو ہو جانا) کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Rach Idowu

،تصویر کا ذریعہRach Idowu

،تصویر کا کیپشنریچ آئیڈو

اے ڈی ایچ ڈی کی تین اہم اقسام ہیں، اور ان کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کی تشخیص اکثر بچپن میں ہو جاتی ہے لیکن زیادہ سے زیادہ بالغ افراد یہ دریافت کر رہے ہیں کہ وہ اسی قسم کی نیورو ڈائیورجنس محسوس کرتے ہیں۔

ریچ آئیڈو ایک بلاگر اور کاروباری شخصیت ہیں اور انھیں مختلف اقسام کی اے ڈی ایچ ڈی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اے ڈی ایچ ڈی کی اٹینٹیو ٹائپ (توجہ دینے والی قسم) کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ آسانی سے دھیان بٹانے، تفصیلات پر توجہ نہ دینے، تاخیر سے کام، بہتر انداز میں چیزوں کو سنبھال نہ پانے اور کمزور یاداشت جیسی علامات یا خصلتیں ظاہر کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اے ڈی ایچ ڈی کی ہائپر ایکٹیو امپلیسو قسم بے چینی اور آسانی سے لوگوں کے کام میں مداخلت کی خصوصیات کو ظاہر کرتی ہے۔‘

وہ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مجھ میں دونوں اقسام موجود ہیں۔ میں بہت تخلیقی کام بھی کرتی ہوں اور جلدی مسائل بھی حل کر لیتی ہوں۔‘

نیوروڈیورجینٹ افراد کے تجربات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

کچھ افراد سینسری اوورلوڈ (جب آپ کے حواسِ خمسہ یعنی بینائی، سماعت، بو، لمس اور ذائقہ، دماغ کے پروسیس کرنے کی صلاحیت سے زیادہ معلومات اکھٹی کر لیتے ہیں) کا باعث بنے والے ماحول میں حساس ہو سکتے ہیں۔ دیگر معلومات کو مختلف طریقے سے پروسیس کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ افراد شاید چہرے کے تاثرات نہ پڑھ پائیں یا انھیں نمبروں اور الفاظ کی شناخت میں دشواری ہو سکتی ہے۔

نیورو ڈائیورسٹی موومنٹ یا اعصابی تنوع کی تحریک

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے نیورو ڈائیورسٹی ایٹ ورک پروگرام کے مطابق دنیا کی 15-20 فیصد آبادی کو نیورو ڈائیورس ہے۔

1990 کی دہائی کے دوران ایک تحریک چلی جس نے اعصابی تنوع کے بارے میں آگاہی پیدا کی اور ممکنہ نیورو ڈائیورجنس والے تمام افراد کی شمولیت کو قبول کیا۔

ایک آسٹریلوی سوشیالوجسٹ جوڈی سنگر نے اپنے 1998 کے مقالے میں نیورو ڈائیورسٹی کی اصطلاح وضع کی۔ آج اعصابی تنوع کو سماجی انصاف کی تحریک کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس نے مرکزی دھارے میں بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔

کچھ معذوریوں اور اعصابی حالات کا جائزہ لینے کے لیے مزید تحقیق اور تعلیم کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

تشخیص میں مشکلات

Rosie Thomas

،تصویر کا ذریعہRosie Thomas

،تصویر کا کیپشنروزی تھامس

اگرچہ اس تحریک نے اعصابی تنوع کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اب بھی بہت سے لوگوں کی تشخیص نہیں ہو سکی اور وہ مدد کے منتظر ہیں۔

روزی تھامس کی عمر 33 سال ہے اور وہ برلن میں رہتی ہیں۔ کووڈ کے دوران 2020 میں ان میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد میں انھوں نے استاد بننے کا فیصلہ کیا اور اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی مدد کی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تین دہائیوں تک میں سمجھتی رہی کہ میں مریخ سے آئی ہوں۔ میں سمجھتی تھی کہ کوئی اور میرے جیسا نہیں ہے۔ میں ماہر نفسیات سے علاج کروا رہی تھی جنھوں نے کہا کہ یہ سب ڈپریشن کی علامات ہیں اور اب مجھے پتا چلا ہے کہ میں اداس نہیں تھی بلکہ یہ ایگزیکٹو ڈسفنکشن کی علامات تھیں۔‘

ایگزیکٹیو ڈسفنکشن کا مطلب ہے کسی شخص کو علمی، جذباتی اور طرزِ عمل میں مشکلات کا سامنا ہو، ایسا اکثر دماغ کے فرنٹل لابس میں کسی قسم کی چوٹ لگنے کے بعد ہوتا ہے۔

روزی نے ٹک ٹاک پر 40 سالہ خاتون کی ویڈیو دیکھی جنھیں اے ڈی ایچ ڈی تھی اور انھوں نے جو علامات بیان کیں وہ سب روزی میں موجود تھیں۔ انھوں نے ’بالغ خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی‘ کو گوگل کیا اور انھیں پتا چلا کہ زیادہ تر خصوصیات ان میں موجود ہیں۔

اس کے بعد روزی کو پتا چلا کہ انھیں اے ڈی ایچ ڈی ہے۔ ’میں یہ پڑھ کر روئی۔۔۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے میں اپنی ڈائری پڑھ رہی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

فینگ بتاتے ہیں کہ باضابطہ تشخیص کا عمل پوری دنیا میں مختلف ہے اور یہ بہت مہنگا ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ تشخیص نہیں کرواتے۔ وہ تنبیہ کرتے ہیں کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے کے بہت فوائد ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں ممکنہ تشویش یہ ہو سکتی ہے کہ ایسی ویب سائٹیں موجود ہیں جو پیرامیٹرز کی بنیاد پر لوگوں کی تشخیص کرتی ہیں لیکن حقیقت میں تشخیص ویب سائٹ کی طرح سیدھی نہیں ہوتی۔‘

’مثال کے طور پر آٹزم سپیکٹرم والے افراد میں بعض اوقات دقیانوسی رویے نظر آتے ہیں اور ایسا رویہ جو ان میں بار بار نظر آتا ہے اسے آبسیسیو ڈس آرڈر یا جنونی رویے سے کنفیوژ کیا جا سکتا ہے۔‘

’اگر آپ کی غلط تشخیص ہوئی ہے تو آپ غلط راستے پر ہیں اور آپ کو اپنی تشخیص کے حوالے سے شک و شبہات ہیں تو کسی ماہرِ نفسیات سے تشخیص کروا لینا بہتر ہے۔‘

سوشل میڈیا پر مدد

Lyric Holmans

،تصویر کا ذریعہLyric Holmans

،تصویر کا کیپشن35 سالہ لیئرک ہولمینز آٹسٹک (آٹزپ کا شکار) ہیں

روایتی طریقوں سے مدد حاصل میں مشکلات کے باعث روزی جیسے بہت سے لوگ سوشل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں۔

35 سالہ لیئرک ہولمینز آٹسٹک (آٹزپ کا شکار) ہیں اور وہ ٹیکساس میں رہتی ہیں۔ وہ ایک لائف سٹائل اور نیورو ڈائیورسٹی بلاگر اور یوٹیوبر ہیں۔ انھیں 29 سال کی عمر میں سوشل میڈیا کمیونٹیز کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ آٹسٹک تھیں۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر #AskingAutistics ہیش ٹیگ شروع کیا تاکہ لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں سوالات پوچھنے میں مدد ملے۔

لیئرک کا خیال ہے کہ یہ ہیش ٹیگ اہم ہے کیونکہ یہ آٹزم کے شکار لوگوں کو وہ تمام سوالات پوچھنے کی اجازت دیتا ہے جن کے جواب وہ جاننا چاہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آپ کی شناخت پوشیدہ رہتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب آپ اپنی علامات بتانے سے قاصر ہیں۔ اگر آپ اپنے جیسے لوگوں کو نہیں جانتے تو آپ کے لیے اپنے احساسات شئیر کرنا بہت مشکل ہے۔‘

لیئرک کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا نے اپنے جیسے لوگوں کو تلاش کرنا بہت آسان بنا دیا ہے۔ ’آپ ایک سوال پوسٹ کرتے ہیں تو وہیں پر فالوورز تبصرے اور بات چیت شروع کر دیتے ہیں، اپنے احساسات شیئر کرتے ہیں اور ’ایک دوسرے سے مدد مانگنے میں ایک دوسرے کی مدد‘ کرتے ہیں۔‘

خواتین کے لیے زیادہ مشکل

اگرچہ سوشل میڈیا لوگوں کے لیے مدد حاصل کرنا آسان بنا رہا ہے، لیکن خواتین میں تشخیص کے حوالے سے مشکلات برقرار ہیں۔

ڈاکٹر اور ذہنی صحت کے ماہرین اکثر علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آٹزم ٹیسٹ کے حوالے سے فینگ کہتے ہیں ’مرد زیادہ دقیانوس ہیں، وہ بار بار ایک ہی کام کرتے ہیں اور یہ چیز آپ کو خواتین میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو مردوں کو پہچاننے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔‘

سپیکٹرم کے حوالے سے فینگ کی تحقیق کے مطابق، مردوں کے مقابلے خواتین میں ’کیموفلاج‘ کی صلاحیت زیادہ نظر آئی۔

Lawrence Fang

،تصویر کا ذریعہLawrence Fang

،تصویر کا کیپشنلارنس فینگ، سٹینفورڈ یونیورسٹی میں نیورو ڈائیورسٹی پر اہم تحقیق کر رہے ہیں

کیموفلاج یا ماسکنگ، معاشرتی دباؤ کے باعث آٹسٹک خصوصیات کو چھپانے کے لیے اختیار کیے جانے والے مختلف طریقہ کار کا استعمال ہے۔ یہ طریقہ کار جان بوجھ کر اور بنا جانے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اے ڈی ایچ ڈی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ آج کل بہت زیادہ خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی اٹینٹیو ٹائپ (توجہ دینے والی قسم) اور مردوں میں زیادہ متحرک، کمانڈنگ امپلسیو قسم پائی جاتی ہے۔

سکول کی مثال دتیے ہوئے فینگ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ اپنا (کلاس) کا کام پورا کر لیتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں تو اساتذہ کو کوئی پرواہ نہیں ہے، انھیں لگتا ہے کہ آپ ٹھیک ہیں۔ زیادہ متحرک اور بے چین طلبہ مسائل پیدا کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔‘

بدنامی کا ڈر

خواتین کی تشخیص کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے اور ان کے نیورو ڈائیورجینس کو تسلیم کرنے اور اس کے بارے میں بات کرنے کو بھی ’معیوب‘ سمجھا جاتا ہے۔

رائچ کا کہنا ہے کہ یہ بتانے کے بعد کہ وہ نیورو ڈائیورجینٹ ہیں، دنیا بھر سے بہت سے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ خواتین کی طرف سے پیغامات موصول ہونے کے علاوہ بہت سے سیاہ فام مرد بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ وہ نیوروڈیورجنٹ ہیں۔

وہ کہتے ہیں: کچھ لوگ اے ڈی ایچ ڈی سے جڑی بدنامی کے خوف سے بہت شرمندہ ہیں۔

’میں 40 کی دہائی میں ہوں اور پچھلے سال کومک کان میں تھا۔ میں سٹیج پر بات کر رہا تھا اور پھر کوئی میرے پاس آیا۔ بلاگ پڑھنے کے بعد میں نے اپنی تشخیص کی اور مجھے معلوم ہوا؛ میں آٹسٹک ہوں۔‘

رائچ کی تشخیص بھی وبائی بیماری کے دوران تشخیص ہوئی تھی اور انھوں نے سوشل میڈیا کو بہت مددگار پایا۔

یہ جاننے کے لیے کہ کتنے لوگ وبائی امراض کے دوران نیورو ڈائیورجینس کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہے ہیں اور ان کا جواب ناقابل یقین حد تک اہم تھا۔

اے ڈی ایچ ڈی ’کے حوالے سے بہت سے مرد، عورتوں کو پتہ چلا کہ انھیں وبائی مرض کے دوران اے ڈی ایچ ڈی تھا۔‘

’میں اس وقت 26 سال کا تھا، اور یہ ایک دستاویزی فلم تھی جو میں نے نیٹ فلکس پر دیکھی تھی، وہاں ایک بڑا آدمی اے ڈی ایچ ڈی کے ساتھ اپنے بارے میں بات کر رہا تھا اور اس نے اس بارے میں بات کی تھی کہ اے ڈی ایچ ڈی کی کتنی ادویات نے اس کی زندگی بدل دی۔‘

مثبت نقطہ نظر

Simone Biles

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناولمپک جمناسٹ سیمون بائلز

نیورو ڈائیورسٹی تحریک اپنی دیکھ بھال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

جیسا کہ حالیہ برسوں میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، صحت کی سہولیات نیوروڈیورجینٹ افراد تک پہنچانے کے بارے میں بھی زیادہ بحث ہو رہی ہے، اور شاید یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ سوشل میڈیا ایک کمیونیکیشن ٹول کے طور پر فائدہ مند ثابت ہوا۔

فینگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صورتحال میں بہت بہتری ہوئی ہے۔

20 سال پہلے جب سوشل میڈیا نہیں تھا، اس کے مقابلے میں آج ذہنی بیماریوں اور نیوروڈیورجینٹ بیماریوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

بی بی سی نے جتنے افراد سے بات کی، انھوں نے بتایا کہ اپنی صورتحال کے متعلق سمجھ اور آگاہی نے کس طرح ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔ کچھ معروف شخصیات نے بھی اپنی اپنی تشخیص کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

کاروباری شخصیت ایلون مسک نے یو ایس کامیڈی شو سیٹرڈے نائٹ لائیو میں بتایا کہ وہ آٹزم سپیکٹرم کا شکار ہیں جبکہ امریکی اولمپک جمناسٹ سیمون بائلز نے اے لای ایچ ڈی کا شکار ہونے کے بارے میں کھل کر بات کی۔

ماڈل، اداکارہ اور گلوکارہ کارا ڈیلییونگہ نے بھی ڈیسپریکسیا اور اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

نیورو ڈائیورسٹی کے یہ ہائی پروفائل اکاؤنٹس زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں اور زیادہ لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ ’کیا میں نیورو ڈائیورجینٹ ہوں؟‘