آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دریائی گھوڑے جو دوست کی پکار اور دشمن کی للکار میں تمیز کرنا جانتے ہیں
- مصنف, ہیلن بِرگز
- عہدہ, نامہ نگار سائنس
- وقت اشاعت
آپ شاید جانتے ہی ہوں کہ جنگلی دریائی گھوڑے یا ’ہِپو‘ اس قدر شور مچاتے ہیں کہ ان کی آواز دریاؤں اور جھیلوں میں دور دور تک سُنی جا سکتی ہیں۔ لیکن اب تک یہ ایک راز ہی رہا ہے کہ یہ جانور ناک سے ’خرخر‘ کی جو بلند آواز نکالتا ہے اس کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
تاہم ’کرنٹ بائیولوجی‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ کے جنگلی حیات کے ایک پارک میں دریائی گھوڑوں پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بڑا آبی جانور ایسی آوازیں سُن کر پہچان لیتا ہے کہ یہ کسی دوست کی صدا ہے یا دشمن کی للکار۔
سائنسدانوں کی اس ٹیم کا مزید کہنا تھا کہ شاید ہر دریائی گھوڑے کی آواز مخصوص ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو اس آواز سے پہچان لیتے ہیں۔
ٹیم کے سربراہ پروفیسر نکولس میتھیوان ہیں جو فرانس کی یونیورسٹی آف سینٹ اٹینی سے منسلک ہیں اور وہ بہت سے ممالک میں چیتوں سے لے کر لگڑ بگڑوں تک، کئی جانوروں کی آوازوں پر تحقیق کر چکے ہیں۔
پروفیسر نکولس کہتے ہیں کہ دریائی گھوڑے ایک سے زیادہ قسم کی آوازیں نکال سکتے ہیں، لیکن ہم کم ہی جانتے ہیں کہ یہ جانور آپس میں پیغام رسانی کیسے کرتے ہیں۔
ان کے بقول خرخراہٹ والی بلند آواز میں کسی مخصوص دریائی گھوڑے کی شناخت موجود ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ محض چنگھاڑ نہیں ہوتی بلکہ باقاعدہ ’آواز‘ ہوتی ہے اور اسی مخصوص آواز کی بدولت وہ ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں اور آواز پہچاننے کی یہی اہلیت انھیں ایک دوسرے سے معاشرتی تعلقات قائم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریائی گھوڑوں کے درمیان ’گفتگو‘ اور پیغام رسانی کے بارے میں مزید جاننے کے لیے فرانسیسی سائنسدانوں نے موزمبیق میں جنگلی حیات کے لیے مختص پارک ’مپوٹو سپیشل ریزرو‘ میں رہنے والے دریائی گھوڑوں کی آوازیں ریکارڈ کیں۔
اس تحقیق کے مطابق دریائی گھوڑے جو مختلف آوازیں نکالتے ہیں ان میں سب سے نمایاں خرخراہٹ والی بلند آواز ہوتی ہے جو ایک کلومیٹر دور تک سُنی جا سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے کئی دریائی گھوڑوں کی ان آوازوں کو ریکارڈ کر کے پارک میں واقع مختلف جھیلوں کے کناروں سے نشر کیا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ آواز سُن کر دریائی گھوڑوں کا ردعمل کیا ہو گا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ دریائی گھوڑے اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور اجنبی دریائی گھوڑوں کی آوازوں میں تمیز کر سکتے ہیں۔ ٹیم کے مطابق کسی دشمن (یا کم از کم اجنبی) دریائی گھوڑے کی آواز کو پہچاننے کے علاوہ شاید یہ جانور اپنے قریبی ساتھیوں کی انفرادی آوازوں میں بھی تمیز کر سکتے ہیں، تاہم ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ بڑی جسامت والا یہ جانور بظاہر دنیا سے بے خبر پانی میں پڑا رہتا ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ انھیں اپنے ارد گرد کے ماحول کی پوری خبر ہوتی ہے اور انھیں جب بھی ریکارڈ کی ہوئی آواز سُنائی گئی انھوں نے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔
اجنبی دریائی گھوڑوں کی آواز کے جواب میں ان کی آواز زیادہ غصیلی ہو جاتی ہے، اس میں تیزی آ جاتی ہے اور یہ جواب زیادہ بلند آواز میں ہوتا ہے۔ اکثر اس زور دار جواب کے ساتھ ساتھ دریائی گھوڑا اپنے ارد گرد گوبر پھیلا کر بتا دیتا ہے کہ یہ علاقہ میرا ہے۔
پروفسیر نکولس کہتے ہیں کہ انسان اور دریائی گھوڑوں کے درمیان کسی تنازع سے بچنے کے لیے یہ اہم ہے کہ ہم اس جانور کی حیاتیات کے بارے میں زیادہ علم حاصل کریں۔
’اس علم سے ہمیں شاید دریائی گھوڑوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کیونکہ کئی مرتبہ ہمیں ایک علاقے میں دریائی گھوڑوں کی نسل کو صحت مند رکھنے کے لیے ان میں سے کچھ کو دوسری جگہ منتقل کرنا پڑتا ہے۔‘
پروفیسر نکولس کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تحقیق جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کو ترغیب دے سکتی ہے کہ وہ کسی علاقے میں نئے دریائی گھوڑے متعارف کرانے سے پہلے ان کی آوازیں ریکارڈ کر کے مقامی دریائی گھوڑوں کو سنائیں تاکہ وہ نئے آنے والوں سے پہلے ہی مانوس ہو جائیں۔
ہِپوز یا دریائی گھوڑے ابھی تک معدومیت کے خطرے سے دوچار نہیں ہیں لیکن دنیا میں ان کی تعداد بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی ممالک میں انسانی آبادی پھیلنے کے ساتھ ساتھ دریائی گھوڑوں اور انسانوں کے درمیان لڑائی بڑھتی جا رہی ہے اور ہر سال دریائی گھوڑے سینکڑوں انسانوں کی موت کا سبب بن جاتے ہیں۔