پانی کے ذریعے لاش کو دفن کرنے کا عمل جسے میت سوزی کا ’ماحول دوست‘ متبادل سمجھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی افریقہ کے نوبیل انعام یافتہ آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو، جنھوں نے ملک کو نسلی امتیاز والے قوانین کے دور آپارتھائڈ سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ ان کی تدفین میت سوزی کے بجائے پانی کے ذریعے کی جائے۔
ریوورینڈ مائیکل ویڈر کے مطابق وہ ماحول کے تحفظ کے کارکن تھے، اس لیے انھوں نے یہ مطالبہ کیا تھا۔
پانی کے ذریعے تدفین یعنی آیکوامیشن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مردہ کو جلانے کا ’ماحول دوست‘ متبادل ہے۔ اس عمل کا سائنسی نام الکلائن ہائیڈرولائسس ہے جس میں میت راکھ میں تبدیل ہو جاتی ہے، جیسا کہ میت سوزی میں بھی ہوتا ہے۔ مگر آیکوامیشن میں آگ کی نہیں بلکہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
برطانیہ میں اس شعبے سے منسلک ایک کمپنی ریزومیشن کے مطابق ایک آزادانہ ماحولیاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ میت سوزی کے بجائے آیکوامیشن سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج تقریباً 35 فیصد کم ہوجاتا ہے۔
اسی نوعیت کی ایک امریکی کمپنی بائیو رسپانس نے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں آگ استعمال نہیں ہوتی جس سے توانائی کا استعمال 90 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
الکلائن ہائیڈرولائسس میں لاش کے وزن کا تعین کرنے کے بعد اسے پانی اور پوٹاشیئم ہائیڈرو آکسائیڈ کے مرکب میں 90 منٹ تک 150 ڈگری سیلسیئس کے درجہ حرات پر گرم کیا جاتا ہے۔
اس سے جسم کے ٹشو تحلیل ہوجاتے ہیں اور صرف ہڈیاں بچتی ہیں۔ ان ہڈیوں کو 120 ڈگری سیلسیئس کے درجہ حرارت پر رکھنے کرنے کے بعد کریمولیٹر نامی مشین میں پیس دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان تمام مراحل کے بعد باقیات کو مرحوم کی خواہشات کے مطابق زمین میں دفن کیا جاسکتا ہے یا پانی میں بہایا جاسکتا ہے، جیسا کہ عام طور پر میت سوزی کے بعد ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آیکوامیشن یا الکلائن ہائیڈرولائسس کا عمل درحقیقت ہمارے جسم کے قدرتی نظام کی ایک مصنوعی شکل ہے۔ یعنی جسم کے گلنے کے لیے درکار قریب 20 سال کا دورانیہ سائنس کی مدد سے کچھ گھنٹوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔
آیکوامیشن کو کئی برسوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن صرف چند ملکوں میں۔
یہ بھی پڑھیے
مثلاً سنہ 2011 میں امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک فیونرل ہوم نے الکلائن ہائیڈرولائسس کے لیے پہلی کمرشل مشین نصب کی تھی۔
سنہ 2014 میں ورجینیا ٹیک سے منسلک ٹیکنالوجیکل ایتھکس کے ماہر فیلپ اولسن نے لکھا تھا کہ آیکوامیشن کے حامی سمجھتے ہیں کہ الکلائن ہائیڈرولائسس ماحول کے لیے مثبت طریقہ ہے جس سے تدفین میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک نئی ماحولیاتی مہم کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
انھوں نے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ امریکہ میں یہ تکنیک پہلی بار 1990 کی دہائی میں البینی میڈیکل کالج کے محققین نے استعمال کی تھی جس میں وہ جانوروں کی تابکار باقیات ٹھکانے لگانے کا موثر اور سستا طریقہ تلاش کر رہے تھے۔
محققین کے مطابق سنہ 2014 میں یہ طریقہ امریکہ کی آٹھ ریاستوں میں قانونی قرار دیا گیا تھا تاہم بعض حلقوں نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

























