آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوربھ کرپال اگر دہلی ہائی کورٹ میں جج تعینات ہوئے تو وہ انڈیا کے پہلے ہم جنس پرست جج ہوں گے
- مصنف, سوچترا موہنتی
- عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
- وقت اشاعت
انڈین سپریم کورٹ کے کولیجیم نے جو ججوں کا تقرر کرتا ہے، سینیئر ایڈوکیٹ سوربھ کرپال کو دہلی ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ اگر وہ اس عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو وہ انڈیا کے پہلے ہم جنس پرست جج ہوں گے۔
سوربھ کرپال نے دہلی کے سینٹ سٹیفن کالج سے گریجویشن کی اور پھر سکالرشپ کے ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔
انھوں نے کچھ عرصہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے ساتھ بھی کام کیا اور پھر سنہ 1990 میں انڈیا آ گئے۔ یہاں وہ دو دہائیوں سے سپریم کورٹ میں وکالت کر رہے ہیں۔
سوربھ کرپال جب چھ سال کے تھے تو ان کے والد بی این کرپال ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے۔ انھوں نے گجرات سمیت کئی ہائی کورٹس میں کام کیا اور اس کے بعد وہ چیف جسٹس آف انڈیا بھی بنے۔
سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل وکاس سنگھ سوربھ کرپال کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
وکاس سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’سوربھ ایک بہت قابل وکیل ہیں۔ بطور ہائی کورٹ جج تعیناتی کے لیے ان کے نام کی سفارش ایک بہت اچھا قدم ہے اور یہ عدلیہ کے لیے بھی اچھا ہے۔ ملک کو وقت کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔'
سابق اٹارنی جنرل سے تربیت
سوربھ کرپال نے سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل مکل روہتگی سے تربیت حاصل کی ہے۔ اس بارے میں وکاس سنگھ کہتے ہیں کہ کرپال نے روہتگی کی ’قابل رہنمائی اور نگرانی میں بہت کچھ سیکھا۔ اس لیے قانون کے شعبے میں ان کی مہارت کو دیکھتے ہوئے کولیجیم نے ان کے نام پر غور کیا۔‘
وکاس سنگھ کہتے ہیں کہ 'سوربھ کرپال پوری طرح سے پیشہ ور ہیں اور ان کا قانون کا وسیع مطالع ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرپال نے زیادہ تر آئینی، تجارتی، دیوانی اور فوجداری قانون کے شعبے میں کام کیا ہے۔
دفعہ 377 کے معاملے میں وکیل
سوربھ کرپال انڈین حکومت بمقابلہ نوتیج سنگھ جوہر کے معاملے میں سپریم کورٹ میں جوہر کے وکیلوں میں سے ایک تھے۔ یہ کیس ایل جی بی ٹی کیو معاملے سے متعلق تھا۔
انھوں نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے خلاف مضبوط دلائل دیے تھے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے والی اس دفعہ کو منسوخ کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
سوربھ کرپال قانون کے شعبے میں اپنی صلاحیت کا سہرا اپنے والد سابق چیف جسٹس بی این کرپال اور سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے سر باندھتے ہیں۔
ایسٹرو فزکس میں دلچسپی اور آکسفورڈ کا انتخاب
سپریم کورٹ میں کئی برسوں سے پریکٹس کرنے والے ایک سینیئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سوربھ کرپال آکسفورڈ میں بہت کم لیکچر لیتے تھے۔ ان کی پہلی محبت ایسٹرو فزکس یعنی فلکی علم طبیعیات تھی۔ انھوں نے آکسفورڈ کے انتخاب میں 15 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سوربھ کرپال نے مختلف عدالتوں میں برابری کے لیے بہت سے لوگوں کی لڑائی لڑی اور انھیں انصاف دلایا۔
وہ ناز فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے ٹرسٹی بھی ہیں، جو انڈیا میں ہم جنس پرستی کو مجرمانہ فعل قرار دینے کے خلاف لڑنے والی پہلی این جی او تھی۔
سفارش میں تاخیر
چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں کولیجیم نے 11 نومبر سنہ 2021 کو سوربھ کرپال کو دہلی ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔
لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق اکتوبر سنہ 2017 میں ہی دہلی ہائی کورٹ کے کولیجیم نے سوربھ کرپال کو دہلی ہائی کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کر دی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ سوربھ کرپال کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے ان کے نام کی سفارش کرنے میں وقت لگا۔ کرپال کا نام بار بار مرکزی حکومت کو بھیجا گیا اور حکومت نے پہلے اس سفارش پر غور کرنے کا عمل روک دیا تھا۔
ایک انٹرویو میں سوربھ کرپال نے کہا تھا: 'یہ کہنا کہ میرا 20 سال پرانا پارٹنر غیر ملکی ہے، جس سے سکیورٹی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہ ایک مکارانہ توجیہ ہے اور یہ پوری سچائی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بطور جج میری ترقی پر میرے جنسی میلان کی وجہ سے غور نہیں کیا گیا۔'
معروف وکیل گیتا لوتھرا نے بی بی سی کو بتایا کہ جج کے انتخاب میں ان کے جنسی میلان یا کسی کی ذاتی ترجیحات کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
گیتا لوتھرا کہتی ہیں: 'سوربھ کرپال کی ذاتی ترجیحات کو بطور دہلی ہائی کورٹ کے جج ان کی تعیناتی میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم میرٹ اور قابلیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جج بننے کے لیے ان میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔'
گیتا لوتھرا کہتی ہیں: 'وہ ایک باصلاحیت وکیل ہیں اور قانون کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ واقعی ایک مستحق شخص ہیں جن کی دہلی ہائی کورٹ کے جج کے طور پر تقرری کے لیے سپریم کورٹ کولیجیم کی طرف سے سفارش کی جا سکتی ہے۔'