سماجی رابطوں کا پلیٹ فارم فیس بک اب آپ سے پوچھے گا کہ کیا آپ کا دوست شدت پسند ہے؟

illustration shows a Facebook logo reflected in a person"s eye.

،تصویر کا ذریعہReuters

وقت اشاعت

امریکہ میں فیس بک ایک نیا فیچر ٹیسٹ کر رہی ہے جہاں وہ صارفین سے یہ پوچھتے ہیں کہ انھیں اس بات کی پریشانی تو نہیں کہ ان کے جاننے والوں میں سے کوئی شدت پسندی کی طرف جا رہا ہو۔

اس کے علاوہ کچھ صارفین کو یہ تنبیہی پیغام بھی بھیجا جائے گا کہ انھوں نے شدت پسندی پر مبنی مواد دیکھا ہے۔

یہ دونوں فیچر فیس بک کے ری ڈائریکٹ انیشیٹیو کے تحت ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد شدی پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہ پیغامات صارف کو ایک ایسے صفحہ پر از خود لے جاتے ہیں جہاں ان کے پاس اس سب سے نمٹنے کے لیے سپورٹ موجود ہوتی ہے۔

فیس بک کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ٹیسٹ ان دیگر بڑے اقدامات کا حصہ ہیں جہاں ہم ایسے لوگوں کی مدد اور انھیں وسائل فراہم کر رہے ہیں جنھیں شدی پسندانہ مواد کا سامنا کرنا پڑا ہو یا وہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جو کہ شدت پسند بن رہا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی غیر سرکاری تنظیموں اور سیکٹر کے ماہرین کے ساتھ مل کر اس پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔

کیا کوئی شدت پسند بن رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ان تنبیہی یپغام کے پاپ اپ شیئر کیے جا رہے ہیں۔

ایک پیغام میں لکھا تھا کہ ’کیا آپ کو فکر ہے کہ آپ کا کوئی جاننے والا شدت پسند بن رہا ہے۔‘

Illustration of phones and the Facebook logo

ایک اور پیغام میں لکھا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ آپ کا سامنا نقصان دہ شدت پسندانہ مواد سے ہوا ہو۔ پرتشدد گروہ آپ کے غصے یا مایوسی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے قدم اٹھا سکتے ہیں۔‘

یہ دونوں پیغامات صارفین کو شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے مدد دینے والے صفحات پر لے جاتے ہیں۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ ایسے صارفین کی نشاندہی کرتا ہے جنھوں نے ابھی یا پھر ماضی میں ایسا مواد دیکھا ہو جو کہ اس پلیٹ فارم کے قوائد کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کمپنی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ کچھ مواد اور اکاؤنٹ جو کہ ان کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے انھیں اس سے پہلے ہی روک یا ہٹا دیتی ہے اس سے پہلے کہ صارفین اسے دیکھیں تاہم کچھ قابلِ اعتراض مواد ہٹائے جانے سے قبل لوگوں کی نظروں میں آجاتا ہے۔

یو کے سیفر انٹرنیٹ سنٹر کی آن لائن سیفٹی کنسلٹنٹ جیس مکبیتھ کہتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا کمپنیاں اب بہت سے طریقے آزما رہی ہیں کہ اپنے پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کو کیسے روکا جائے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس طریقے کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظریے پر مبنی ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم آن لائن مواد سے متاثر نہیں ہوتے مگر دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔‘