آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ژونگ شانشن: ویکسین اور پانی انڈیا کے مکیش امبانی کو ایشیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں نیچے لے آیا
ایشیا کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں ویکسین اور پانی بیچنے کے کاروبار کی وجہ سے تبدیلی آئی ہے۔
ژونگ شانشن کی دولت اس سال سات ارب ڈالر بڑھی ہے اور اس طرح وہ انڈیا کے مکیش امبانی اور چین کے جیک ما سے زیادہ دولت مند ہو گئے ہیں۔
بلومبرگ بلیئنیئرز انڈیکس کے مطابق ان کے اثاثوں کی قیمت اب 77.8 ارب ڈالر ہے، جس کی بدولت وہ اب دنیا کے 11 ویں سب سے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔
’لون وولف‘ کے نام سے پہچانے جانے والے ژونگ مختلف پیشے اپناتے رہے ہیں اور وہ صحافت، مشروم (کھمبیوں) کی فارمنگ اور ہیلتھ کیئر کے پیشوں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ژونگ نے اپریل میں ویکسین بنانے والی کمپنی ’بیجنگ وانٹائی بائیولوجیکل‘ پبلک کی تھی اور اس کے شیئر چینی سٹاک مارکیٹ میں لسٹ کیے تھے۔
تین ماہ بعد انھوں نے اپنی پانی کی بوتلیں بیچنے والی کمپنی ’نونگفو سپرنگ‘ کے ساتھ بھی یہی کیا اور اسے ہانگ کانگ میں لسٹ کیا۔
اس طرح اس وقت ان کی دولت علی بابا کے بانی جیک ما سے بڑھ گئی تھی جو کہ پہلے چین اور ایشیا کے سب سے امیر ترین شخص تھے۔
اس کے بعد سے اب تک نونگفو سپرنگ ہانگ کانگ میں لسٹ ہونے والی ایک اہم کمپنی بن چکی ہے اور اس کے حصص کی قیمت 155 فیصد بڑھی ہے۔
بیجنگ وانٹائی بائیولوجیکل کے حصص کی قیمت بھی 2000 فیصد بڑھی ہے اور یہ ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو کووڈ 19 کی ویکسین بنا رہی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ژونگ شانشن کی ڈرامائی ترقی نے اب ان کو ایشیا کا سب سے امیر ترین شخص بنا دیا ہے اور وہ تاریخ میں تیزی سے دولت حاصل کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
امیر سے امیر تر
دنیا کے زیادہ تر امیر ترین افراد کی دولت میں عالمی وبا کے دور میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں ایمازون کے جیف بیزوز بھی شامل ہیں۔
انڈیا کے مکیش امبانی کی بھی دولت میں 18.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 76.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی وجہ وہ معاہدے ہیں جو انھوں نے اپنی ریلائنس انڈسٹریز کو ٹیکنالوجی اور ای کامرس کی بڑی کمپنی میں تبدیل کرنے کے لیے کیے ہیں۔
سنہ 2020 میں ہی فیس بک نے کہا تھا کہ وہ انڈین موبائل انٹرنیٹ کمپنی ریلائنس جیو میں 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور یہ کمپنی بھی مکیش امبانی کی ہے۔
تاہم جیک ما کی دولت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ 61.7 ارب ڈالر سے گر کر 51.2 ارب ڈالر پر آ گئی ہے۔ اس کی وجہ چینی ریگولیٹرز کی طرف سے ان کی کمپنی علی بابا کی اضافی جانچ پڑتال ہے۔
علی بابا کے متعلق تفتیش ہو رہی ہے کہ اس نے اجاردہ داری قائم کی ہوئی ہے جبکہ اس سے منسلک اینٹ گروپ کی سٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ کو نومبر میں بلاک کر دیا گیا تھا۔
چین کے زیادہ تر نئے ارب پتی افراد کا تعلق ٹیکنالوجی انڈسٹری سے ہے لیکن چین اور امریکہ کے درمیان ہواوے، ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر تناؤ کی وجہ سے چین کی ٹیکنالوجی کی کمپنوں کے حصص کی مالیت میں کمی ہوئی ہے۔