افریقی ہاتھیوں کے معاشروں میں عمر رسیدہ ہاتھیوں کی اہمیت کا راز کیا ہے؟

کونی ایلن

،تصویر کا ذریعہCONNIE ALLEN

،تصویر کا کیپشنکونی ایلن
وقت اشاعت

افریقی ہاتھیوں پر کی جانی والی ایک تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ ہاتھی اپنے ہنر اور تجربہ کو نوجوان ہاتھیوں میں منتقل کر کے اپنی نسلوں کی بقا میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہتھنیاں اپنی بیٹیوں اور ان کے بچوں کے ریوڑ کی سربراہی کرتی ہیں جبکہ ہاتھی بڑے ہوتے ہی ریوڑ سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔

محققین کے مطابق بوڑھے ہاتھی ان نوجوان ہاتھیوں کی تربیت کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا غیر قانونی شکار کرنے کے ’تباہ کن نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق کے سائنٹیفک رپورٹس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق بوڑھے ہاتھیوں کا اپنے معاشرے میں وہی کردار ہوتا ہے جو ہتھنیاں ریوڑوں کی افزائش میں اپناتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یونیورسٹی آف ایگزیٹر اور ایلیفینٹس فار افریقہ نامی خیراتی ادارے سے منسلک کونی ایلن کہتی ہیں کہ ’ہمیں اس بات کا تو ایک عرصے سے علم تھا کہ بوڑھی ہتھنیوں کے کثیر تجربے کے باعث وہ ریوڑوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم (اس تحقیق میں) ہم اس دعوے کے ٹھوس ثبوت فراہم کرتے ہیں کے ہاتھیوں کا بھی معاشرے میں یہی کردار ہے۔

محققین نے اس تحقیق کے لیے 1250 سے زیادہ افریقی سوانا نسل کے ہاتھیوں کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیا۔

اس دوران ان ہاتھی بوٹسوانا کے میکگیدکگدی پینز نیشنل پارک میں موجود دریائے بوٹیٹی تک گئے اور وہاں سے واپس آئے۔

ہاتھی

،تصویر کا ذریعہCONNIE ALLEN

،تصویر کا کیپشنہاتھی

ان ہاتھیوں کی گزرگاہوں پر نصب خفیہ کیمروں میں ہر پانچواں ہاتھی اکیلا ہاتھی تھا اور کم عمر ہاتھی ان گزرگاہوں پر توقع سے کم پائے گئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نو عمر اور ناتجربہ کار ہاتھیوں کے لیے اکیلے سفر کرنا خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

عمر رسیدہ اور تجربہ کار ہاتھی ہاتھیوں کے ریوڑ کی سربراہی کرتے پائے گئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان گروہوں میں اہم رہنما مانے جاتے ہیں جن کے پاس خطے کے بارے میں قیمتی ماحولیاتی معلومات موجود ہیں۔

بقا کے راز

عام طور پر یہ خیال کہ تنہائی پسند عمر رسیدہ ہاتھی اپنی نسل کی بقا کے لیے کچھ زیادہ نہیں کرتے قانونی ٹرافی ہنٹنگ کی بحث میں بنیاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

تاہم نئی تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ ہاتھیوں کو ہلاک کرنا ہاتھیوں کے معاشرے سے اہم کردار ہٹانے کے مترادف ہے جس کے ’تباہ کن نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔

کونی ایلن کہتی ہیں کہ ’ہماری تحقیق کہ مطابق عمر رسیدہ ہاتھیوں کے نر ہاتھیوں کے گروہوں کی سربراہی کرنے کے امکانات زیادہ پائے گئے کیونکہ ان کہ پاس ماحولیات اور وسائل کے استعمال سے متعلق نہایت اہم معلومات اور دہائیوں کا تجربہ ہوتا ہے۔‘

’اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں آزادی پانے والے نوجوان یا نوعمر ہاتھی ایسے ہاتھیوں سے سماجی اور ماحولیاتی علم حاصل کرتے ہیں۔

ہاتھی

،تصویر کا ذریعہCONNIE ALLEN

،تصویر کا کیپشنہاتھی

’ان اہم اور نایاب ہاتھیوں کو ہلاک کرنے کے ہاتھیوں کی آبادی پر تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں اور اس کے باعث نسل در نسل منتقل ہونے والی معلومات میں بہت بڑا خلل پیدا ہو سکتا ہے۔‘

اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہاتھی اپنے خاندان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر تنہائی کی زندگی بسر کرتے ہیں تاہم اب اس حوالے سے شواہد مل رہے ہیں کہ نر اور مادہ دونوں ہی بھرپور سماجی زندگی گزارتے ہیں۔

یہ ان ہاتھیوں میں تحقیق کرنا مشکل رہا ہے کیونکہ یہ لمبے سفر کے عادی ہوتے ہیں اور انھیں اس دوران ان کا جائزہ لینا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایگزیٹر کے پروفیسر ڈیرن کرافٹ کہتے ہیں کہ اس نئی تحقیق سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ عمر رسیدہ ہاتھی علاقہ شناس ہوتے ہیں اور ان کے پاس ماحولیات کے حوالے سے خاصا علم موجود ہوتا ہے۔ جیسے کہ کس وقت اور کہاں کھانے پینے کا بندوبست ہو سکے گا جس کے باعث نوجوان نر ہاتھی یہ باتیں سیکھتے بھی ہیں اور ان سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔‘

ہاتھی

،تصویر کا ذریعہCONNIE ALLEN

انھوں نے کہا کہ ’ان نتائج کے سامنے آنے کے بعد ٹرافی ہنٹنگ اور غیر قانونی شکار کے حوالے سے خدشات میں اور ان کی حفاظت کرنے کی اہمیت میں اضافہ۔‘

اس سال کے آغاز میں بوٹسوانا میں 275 ہاتھیوں کی اچانک ہلاکت شہ سرخیوں کی زینت بنی۔

مردہ ہاتھیوں پر کیے جانے والے ٹیسٹوں کے نتائج غیر تنیجہ خیز رہے اور اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کی متعدد ممکنہ وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں قدرتی زہر بھی شامل ہے۔

پچھلے دنوں ہمسایہ ملک زمبابوے میں 20 سے زیادہ ہاتھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کے ہلاک ہونے کی وجہ ایک بیکٹیریئل انفیکشن یا کھانے پینے تک رسائی کے لیے میلوں سفر کے باعث تھکاوٹ بتائی جا رہی ہے۔

دونوں اثنا میں غیرقانونی شکار یا ٹرافی ہنٹنگ کے خدشے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔