ای میلز یا برقی ڈاک کے انبار سے کیسے نمٹا جائے؟

    • مصنف, بین مورِس
    • عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

اینڈرو کراسبی کے اِنباکس میں سات ہزار ای میلز یعنی برقی ڈاک پڑھے جانے کی منتظر ہیں۔

وہ ایک سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی میں اعلیٰ افسر ہیں جس کے یورپ بھر میں آٹھ دفاتر ہیں۔ وہ روزانہ ایک سو چالیس ای میلز دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے مطلب کی ای ملیز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے کیونکہ بہت سی ای میلز کی محض نقل آپ کو بھیجی جاتی ہے جس کا آپ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

مگر مشکل یہ ہی ہے کہ کوئی ایسی بات جو سال بھر میں آپ کے کسی کام کی ہو آپ کے اِنباکس میں کہیں دفن ہو کر رہ جاتی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں ای میلز کے آپ کی صحت پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں ماہرِ نفسیات پروفیسر کیری کُوپر کہتے ہیں کہ ’ای میلز کا انبار لوگوں کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔‘

ان کی تحقیق کے مطابق کام کے دباؤ اور ای میلز کے انبار میں براہ راست تعلق ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ای میلز کے استعمال اور جو چیزیں ہمیں نہیں کرنی چاہئیں کے بارے میں راہنمائی کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔

’ہم بجائے ایک یا دو متعلقہ افراد کو کاپی کرنے کے بجائے ہر ایک کو ای میل ارسال کر دیتے ہیں۔ اسی طرح لائن منیجر کو دفتری اوقات کے بعد ای میل بھیجنے سے اجتناب برتنا چاہیے، جب تک کہ ایسا کرنا انتہائی ضروری ہو۔

’اسی طرح جمعہ کی شام یہ کہہ کر ای میل بھیجنا کہ پیر تک اس پر کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے فضول ہے کیونکہ پھر لوگوں کو پہلے سے فکر لاحق ہوجاتی ہے اور ویک اینڈ اس کے بارے میں سوچتے گزر جاتا ہے۔‘

تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ای میلز بھیجی ہی نہ جائے۔

پروفیسر کوپر کہتے ہیں کہ ای میلز رابطے اور معلومات کے تبادلے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مگر اصل مسئلہ اس ذریعے کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا ہے۔

جبری وقفے

فرانس نے صورتحال کی بہتری کے لیے 2017 میں ایک قانون متعارف کروایا جس میں اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو دفتری ای میلز میں وقفہ دیں۔

انباکس زیرو

کلیئر گاڈسن نیویارک میں ایک لا فرم میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ چھ ماہ قبل انھوں نے انباکس زیرو کا طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور اب تک اس پر کاربند ہیں۔ یعنی یہ اہتمام کریں کہ آپ کے انباکس میں کوئی ای میل یوں ہی نہ پڑی رہے۔

اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر کافی رہنمائی موجود ہے۔ بس بنیادی بات یہ ہے کہ آپ کو جو بھی ای میل آئے آپ اس کے بارے میں فوری اقدام کریں۔

کلیئر گاڈسن کہتی ہیں کہ ’اس طرح میرے ای میلز سے نمٹنے کے طریقے میں ایک انقلاب برپا ہوگیا ہے۔ اب میں اس فکر سے آزاد ہوں کہ وہاں کوئی چیز ہے جو میرے سر پر لٹک رہی ہے اور میں اس کے بارے میں بھول چکی ہوں۔‘

’یہ بہت اطمینان بخش طریقۂ کار ہے۔ اس طرح میں خود کو زیادہ مستعد اور ذہنی طور پر ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہوں۔‘

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہمہ وقت اپنے انباکس میں رہتی ہوں گی اور ای میلز کو چیک، ڈیلیٹ اور سٹور کرنے کے علاوہ کچھ کرتی ہی نہیں ہوں گی۔

مگر وہ اس خیال کو مسترد کرتی ہیں۔ ’آپ جس قدر مصروف ہوں گے آپ کو اتنا ہی منظم ہونا پڑے گا۔‘

مگر دفتر میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے انباکس زیرو شاید ممکن نہ ہو۔

اس لیے سلیک نامی امریکی فرم نے 2014 میں ایک سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے کسی کمپنی کے ملازمین ایک دوسرے کو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔

سلیک کے مطابق چھ لاکھ سے زیادہ ادارے اس سروس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس میں پیغام رسانی انباکس کی بجائے گروپس میں کی جاتی ہے۔

سافٹ ویئر کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے نیویارک کی سٹاک مارکیٹ میں رجسٹر کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔