پاکستان میں ای کورٹس کا اجرا: اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی میں مقدمہ نمٹا دیا

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پیر کو اسلام آباد میں عدالتِ عظمیٰ کے کورٹ روم نمبر ایک میں بیٹھے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1450 کلومیٹر دور کراچی میں چار مقدمات نمٹا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔

یہ کاوش پاکستان میں ای کورٹس (e-Courts) کی شروعات ہے، اور بقول چیف جسٹس کے اس نظام سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔

پاکستان میں جہاں ہزاروں مقدمے التوا کا چکار ہیں، یہ سسٹم کئی سائلوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔

پیر کی صبح اس نئے نظام کے تحت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پہلی سماعت کی۔

سماعت کا آغاز ساڑھ نو بجے ہوا اور گیارہ بجے تک بینچ چار مقدمات نمٹا دیے گئے۔

مزید پڑھیے

سماعت کے دوران کورٹ روم نمبر ایک کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری سے بذریعہ انٹرنیٹ ویڈیو لنک سے جوڑا گیا۔

کراچی میں تین بڑی اسکرین نصب کی گئی تھیں، جن میں سے ایک بڑی سکرین پر چیف جسٹس اور بینچ کے دیگر جج دیکھے جا سکتے تھے، جبکہ اسی سکرین کی دو مزید ونڈوز میں عدالتی عملہ اورسائل نظر آ رہے تھے۔

اس طرح دیگر دو سکرینوں پر وکیل اور پبلک پراسیکیوٹر کا عملہ موجود تھا، جن کو جج صاحبان دیکھ اور سن سکتے تھے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری اس ای کورٹ میں پہلے وکیل کے طور پر پیش ہوئے۔ وہ قتل کے ایک مقدمے کے سلسلے میں اپنے موکل کی درخواست ضمانت کی پیروی کر رہے تھے۔

سماعت میں کیا ہوا؟

ایڈووکیٹ یوسف لغاری نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی درخواست ضمانت 2016 میں ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اور عدالت نے تین سال بعد فروری 2019 اس درخواست کو مسترد کیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ’میرے لیے یہ حیران کن بات ہے کہ ہائی کورٹ نے اپیل پر اتنا وقت لیا، پورے تین سال۔‘ انھوں نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ’کیا آپ کے پاس کوئی وضاحت ہے کہ اب تک اس کیس پر فیصلہ کیوں نہیں ہوا؟‘

عدالت نے ملزم نور محمد کی درخواست ضمانت منظور کر لی اور ریمارکس دیئے کہ ہم نے ماڈل کورٹس اسی لیے بنائی ہیں کہ مقدمات تین دن میں نمٹ سکیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور وہ یہ ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ای کورٹ سسٹم سے آج کے دن سائلین کے 20 سے 25 لاکھ بچ گئے، وکلاء بزنس کلاس میں سفر کرتے اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہتے ہیں اور سائلین کے خرچ پر اسلام آباد میں کھانے بھی کھاتے ہیں۔‘

'تاریخ پر تاریخ'

سینئر وکیل یوسف لغاری نے پہلی ای عدالت میں پیشی کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے سائلوں اور وکلا دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ یہ نظام ہائی کورٹ اور ان سرکٹ بینچز میں بھی متعارف کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے ایک اعلامیے کے مطابق ابتدائی طور پر ای کورٹس کے نظام کے تحت کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔

ایڈووکیٹ یوسف لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے کراچی، لاہور اور کوئٹہ رجسٹری کے وکلا اور سائلین خرچہ کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد جاتے تھے، وہ اخراجات بچ جائیں گے اور وہ وکلا جو پیش نہیں ہوتے تھے اب مقامی رجسٹری میں پیش ہوں گے۔

’اس نظام سے مقدمات کے فیصلے بھی جلد ہوں گے اور جو تاریخ پر تاریخ ملتی تھی اس کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘