ایف اے ٹی ایف: پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے پر انڈین صارفین امریکہ سے ناخوش اور اتنے مایوس کیوں؟

وقت اشاعت

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالے جانے کے بعد انڈیا نے اس پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انڈیا نے کہا ہے کہ پاکستان کا اس فہرست سے نکالا جانا دنیا کے مفاد میں ہے تاہم پاکستان کو انتہا پسندی کے خلاف مہم جاری رکھنی چاہیے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی فنڈنگ پر ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایف اے ٹی ایف کی جانچ پڑتال نے پاکستان کو کچھ بدنام دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے دہشت گرد بھی شامل ہیں جنھوں نے ممبئی میں عالمی برادری کے خلاف 26/11 کے حملے کیے تھے۔‘

’عالمی برادری پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد اقدامات اٹھانا دنیا کے مفاد میں ہے اور اسے ایسا کرنا ہی ہو گا۔ پاکستان کو اس (دہشت گردی) کے خلاف ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کی تحقیقات ہو سکیں اور جن کو واپس نہ لیا جا سکے۔ اسے اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی فنڈنگ جیسے اقدامات کو روکنا ہو گا۔‘

خیال رہے کہ جمعہ کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے اختتام پر ادارے کے سربراہ ٹی راجہ نے منی لانڈرنگ اور انتہا پسندی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کے اقدامات میں قابل ذکر پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس گرے لسٹ سے باہر نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے انڈیا پر مسلسل الزمات لگائے جاتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے۔

گذشتہ سال جون ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آنے سے ایک روز قبل پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا ایف اے ٹی ایف کے فورم کو ’سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے‘ اور یہ کہ انڈیا کو اس فورم کے سیاسی استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کے لیے خارجہ پالیسی سے متعلق منعقدہ ایک ٹریننگ سیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے انڈیا کے دباؤ پر پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جے شنکر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔‘

فیصلے پر انڈین صارفین کا ردعمل

اگرچہ انڈیا کی وزرات خارجہ نے اس معاملے پر محتاط انداز میں تبصرہ کیا ہے مگر گذشتہ روز یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد سے ’گرے لسٹ‘ انڈیا کے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز میں رہا۔ جہاں پاکستان میں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں انڈیا میں صارفین اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

سویڈن کی اپسلام یونیورسٹی میں پیس اینڈ کنفلکٹ کے شعبے میں پروفیسر اشوک سوائیں نے لکھا کہ 'دہشت گردی کی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ انڈیا کے پاکستان پر دہشتگردی کی پشت پناہی جیسے الزامات کے باوجود لیا گيا ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جانا انتہائی اہم تھا، نہیں تو پھر مغرب (مغربی ممالک) کس طرح انڈیا کے خلاف پراکسی وار جاری رکھتا؟‘

انڈیا فرسٹ کے مینیجنگ ایڈیٹر گورو سی ساونت نے لکھا: ’پاکستان کا ایف اے ٹی ایف سے باہر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ 9/11 اور اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں ہونے کے باوجود امریکہ اور نہ ہی عالمی قوتیں پاکستان سے نکلنے والے بنیاد پرست اسلام کے خلاف لڑنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں ہزاروں فوجی بھی کھوئے ہیں۔‘

جبکہ صحافی آدتیہ راج کول نے لکھا کہ ’چار سال پہلے میں بھی کشمیر میں تھا جب میں نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالے جانے کی خبر دی تھی۔ پھر سے میں کشمیر میں ہوں جب پاکستان کو (اس فہرست سے) نکالا گيا ہے۔ کشمیریوں کے خلاف پاکستان کی سپانسر کردہ دہشت گردی جاری ہے۔ امید کہ چین اور امریکہ کے زیر اثر (ادارہ) ایف اے ٹی ایف خودکشی کے راستے پر نہیں جا رہا ہے۔ وقت ہی بتائے گا۔‘

اس کے ساتھ انھوں نے اپنا پرانا ٹویٹ بھی شیئر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے بہت سے صارفین نے لکھا ہے کہ امریکہ ابھی تک پاکستان کی حمایت کر رہا ہے اور یہ کہ انڈیا امریکہ پر بھروسہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

فرنٹل فورس نامی ہینڈل سے لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گيا ہے۔ دریں اثنا سید صلاح الدین، مسعود اظہر، حافظ سعید اور اسامہ بن لادن کسی کونے میں ہنس رہے ہوں گے۔‘

انڈیا کو امریکہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے

بہت سے انڈین صارفین امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پنیت ساہنی نامی صارف نے لکھا: ’پاکستان آج ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آ گیا۔ آپ کی پکی حمایت کی پالیسی کچھ بھی ہو، ابھی تک امریکی صدر ٹرمپ ہی انڈیا کا سب سے بڑا دوست ثابت ہوا ہے جبکہ بائیڈن سب سے خراب رہا ہے۔‘

وکرانت نامی صارف نے لکھا: پاکستان ایف اے ٹی ایف سے نکل گیا جبکہ میانمار کو اس کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف سرکاری طور پر ایک لطیفہ، امریکہ کا ایک جمورا ہے۔ لیکن ایف اے ٹی ایف کا سربراہ ایک ہندوستانی ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’جب انڈیا نے یوکرین کے تنازعے پر امریکہ کی پالیسی کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا تو بائیڈن نے پاکستان اور اس کی دہشتگرد مشینری کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ پہلے تو اس نے پاکستان کی ایف-16 فلیٹ کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور اب پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے نکالنے میں مدد کی۔ انڈیا کو امریکہ اور برطانیہ پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔‘

بہر حال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 'عالمی برادری پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد اقدامات اٹھانا دنیا کے مفاد میں ہے۔۔۔‘

جمعہ کو پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے سربراہ ٹی راجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان نے منی لانڈرنگ اور انتہا پسندوں کو فنڈز فراہم کرنے کے خلاف اقدامات کر کے بلند عزم کا مظاہرہ کیا ہے، ایجنسی کی ٹیم ان اقدامات کی تحقیقات کے لیے پاکستان گئی تھی اور مطمئن ہو کر واپس لوٹی۔