عشروں بعد کانگریس کی قیادت گاندھی خاندان سے نکل گئی، ملیکا رجن کھڑگے نئے صدر منتخب

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
  • وقت اشاعت

انڈیا کی سب سے پرانی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس میں انتخاب کے بعد پارٹی کا نیا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ ملیکا رجن کھڑگے بڑی اکثریت کے ساتھ صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے ہیں ۔ انھیں 9385 مندوبین میں سے 7897 نے ووٹ دیا ۔ جبکہ ان کے مد مقابل ششی تھرور کو 1072 ووٹ حاصل ہوئے ۔ دو عشرے سے زیادہ عرصے کے بعد گاندھی پارٹی سے باہر کا کوئی رہنما پارٹی کا صدر منتخب ہوا ہے۔ اسے پارٹی کے اندر اور باہر ایک بڑی تبدیلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

کھرگے نے صدر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں ملک کے آئین اور جمہوریت پر ہونے والے حملوں کا متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ ہم تنطیم کو مضبوط کریں گے اور ان چیلنجز کا بھی مقابلہ کریں گے۔ ملک کو ایک تانا شاہ کی نذر نہیں کیا جا سکتا ۔ ہمیں پارلیمنٹ سے سڑک تک ہر جگہ لڑ نا ہوگا ۔ ''

ششی تھرور نے انتخاب کے بعد کہا ''انڈیا کے مضبوط رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کانگریس پارٹی مضبوط رہے ۔ میں نے اسی مقصد سے انتخاب لڑا تھا ۔ مجھے امید ہے کہ پارٹی اب مضبوطی سے آکے بڑھے گی ۔''

ملیکارجن کھڑگے کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی سونیا گاندھی پارٹی کی عبوری صدارت کا دور ختم ہو گیا اور اب پارٹی کی تنظیم نو کے پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

ان کے صدر بننے کے بعد پارٹی کے ایک رہنما مکل واسنک نے کہا '' کھڑگے پارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہیں۔ اب ہم ان کی قیادت میں ملک کی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ '' کانگریس کا نیا صدر منتخب ہونے کے بعد یہاں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا وہ گاندھی فیملی کے بغیر پارٹی میں نئی روح پھونک سکیں گے یا وہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے کنٹرول میں ہوں گے۔

کانگریس پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار پنکج ووہرا کہتے ہیں '' نئے صدر کے لیے سب سے بڑا چیلنج بیلنس آف پاور ہو گا جس کے تحت انھیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ پارٹی پر گاندھی فیملی کی گرفت برقرار رہے '' ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ششی تھرور کو ایک ہزار ووٹ ملنے کہا یہ مطلب ہے کہ پارٹی کے اندر بہت سے لوگ کھڑگے کی صدارت سے خوش نہیں ہیں اور وہ مستقبل میں ان کے لیے مشکلیں بھی پیدا کر سکتے ہیں ۔

کانگریس کے ایک سینیئر رہنما اکھیلیش پرتاپ سنگھ کہتے ہیں '' گاندھی فیملی کو عہدے کی لالچ نہیں ہے ۔ سونیا گاندھی نے وزارت عظمی کا عہدہ ایک بار نہیں دو دوبار منموہن سنگھ کو دیا ۔ ہمارے ہاں اجتما‏عی طور پر فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ گاندھی فیملی اپنے فیصلے پارٹی پر مسلط نہیں کرے گی۔ ''

ملیکارجن کھڑگے نے کانگریس کی قیادت ایک ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب وہ اپنی سیاسی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس وقت کانگریس ملک کی صرف دو ریاستوں چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اقتدار میں ہے۔ بہار میں بھی وہ موجودہ حکمراں اتحاد میں شامل ہے۔ کھڑگے کا تعلق کرناٹک ریاست سے ہے جہاں کانگریس قدرے مضبوط حالت میں ہے ۔

ان کا تعلق دلت برادری سے ہے۔ دلتوں کی اکثریت کانگریس چھوڑ کر بی جے پی اور دوسری جماعتوں کی طر ف جا چکی ہے۔ کانگریس کے دلت رہنماؤں کا خیال ہے کہ ان کے صدر بننے سے ملک کے موجودہ حالات میں بہت سے دلت ایک بار پھر کانگریس کی طرف واپس آ سکتے ہیں ۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اس وقت 'بھارت جوڑو' نعرے کے ساتھ ملک میں 3500 کلو میٹر لمبی ملک گیر پیدل یاترا پر ہیں ۔ انھیں ابتدائی مرحلے میں جنوبی ریاستوں کیرالہ اور کرناٹک میں عوام کی زبردست حمایت ملی ہے ۔ ان کی اس مہم میں بی جے پی اور نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کو محور بنایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ملک میں نفرت، تشدد اور پھوٹ ڈالنے کی سیاست کر رہی ہیں ۔ آئندہ مہینوں میں ہماچل پردیش اور گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ دونوں ہی انتخابات نئے صدر کے لیے بہت اہم ہونگے ۔

معروف تجزیہ کار آرتی جے رتھ نے ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا ''کانگریس کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ نئے صدر کی قیادت میں اجتماعی قیادت کا ایک طریقہ کار وضع کرے ۔ پارٹی کو ایسی جماعت میں تبدیل کرے جو سبھی کے لیے قابل قبول ہو اور اسے مستبل کے لیے تیار کرے۔ ''

حکمراں بی جے پی شمالی انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں کانگریس کو ہٹا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر چکی ہے۔ ہماچل ، ہریانہ گوا اور گجرات جیسی ریاستوں میں عام آدمی پارٹی بھی اپنے قدم جمانے کی کو شش کر رہی ہے۔ کانگریس کے سامنے جیلنجز بہت ہیں ۔ 80 سالہ کھڑگے کو پرانی ڈگر کا رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ اس مرحلسے پر پارٹی کو گاؤں ، بلاک ، ضلع ، ہر سطح پر مضبوط کرنا ہوگا ۔ کیا ان کے صدر بننے سے پارٹی میں نئی روح پیدہ ہو سکے گی ؟ کیا وہ بی جے پی جیسی ایک مضبوط جماعت کو انتخابات میں شکست دینے کے قابل بنا سکیں گے ؟ یہی وہ چیلنجز ہیں جن سے انھیں آنے والے دنوں میں گزرنا ہو گا ۔