انڈیا: پنجاب کے ایک گاؤں میں داماد نے بیوی بچوں سمیت ساس سسر کو زندہ جلا دیا

    • مصنف, جسبیر شیترا اور پردیپ پنڈت
    • عہدہ, بی بی سی کے لیے جالندھر سے
  • وقت اشاعت

انڈین پنجاب کے ضلع جالندھر میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو زندہ جلانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ جگراؤں جالندھر روڈ پر ستلج ندی کے پُل کے ساتھ واقع گاؤں بٹلاں کا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے اپنے میکے آنے والی بیوی، دو بچوں، ساس اور سسر کو زندہ جلا دیا۔ مرنے والوں میں ملزم کی 28 سالہ اہلیہ پرمجیت کور، سات سالہ بیٹی ارشدیپ کور، پانچ سالہ بیٹا انمول سنگھ، سسر سرجن سنگھ اور ساس جوگندر بائی شامل ہیں۔

’کمرے میں بند کر کے پیٹرول چھڑکا‘

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کو ایک کمرے میں بند کر کے پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی۔ ملزم پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے بعد کمرے کو باہر سے تالا لگا کر فرار ہو گیا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مرنے سے پہلے بُری طرح جھلس جانے والے خاندان کے ایک فرد نے ایک بیان میں واقعے کی معلومات دی تھیں۔

بٹلاں گاؤں کی پرمجیت کور کی شادی خورسید پورہ گاؤں کے کلدیپ سنگھ کالی سے ہوئی تھی۔ یہ پرمجیت کور کی دوسری شادی تھی اور ان کے دونوں بچے ان کی پہلی شادی سے تھے۔

گاؤں والوں نے بتایا کہ پرمجیت کور کچھ دن پہلے ہی گھریلو جھگڑے سے پریشان ہو کر گھر آئی تھی جبکہ گذشتہ رات شوہر کلدیپ سنگھ کالی سسرال آیا ہوا تھا۔

پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے اور اس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ لاشوں کو نکودر ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر درج

جالندھر دیہی ایس پی (ڈی) سربجیت سنگھ بہیا کے مطابق: ’خاندان کے پانچ افراد کی موت ہو گئی ہے۔ تین افراد کی موت ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہو گئی تھی جبکہ دو زخمی افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے۔‘

’پولیس نے کلدیپ سنگھ کالی اور کچھ نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ہم انھیں جلد ہی پکڑ لیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاملہ شادی کے بعد ہراساں کرنے سے بڑھ کر ہے، داماد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سسرال میں گھس آیا۔ گھر میں سونے والے پورے خاندان پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ پھر اس نے گھر کا دروازہ باہر سے بند کر دیا۔‘

چیخ و پکار سن کر پرمجیت کور کے چچا نے آ کر دروازہ کھولا تاہم تب تک جانی و مالی نقصان ہو چکا تھا۔

مرنے والی خاتون پرمجیت کور کی بھابھی جسوندر کور نے بتایا: ’پرمجیت کور کی شادی ایک سال قبل ہوئی تھی۔ 2-3 ماہ تک وہ اپنے سسرال رہی پھر وہ آتی جاتی رہتی تھی۔ کبھی وہ واپس آجاتی تو کبھی کبھی اسے زبردستی لے جایا جاتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایک پڑوسی جسپال سنگھ نے بتایا کہ یہ واقعہ رات کے دو بجے کے قریب پیش آیا۔ جسوندر کور کے مطابق کلدیپ اسے ہراساں کرتا تھا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کلدیپ سنگھ کالی پر سنگین الزامات لگائے: ’وہ وہاں ان کی پٹائی کرتا تھا، ان کے کپڑے پھاڑ دیتا تھا۔ کبھی کبھی وہ یہاں آ کر کہتا تھا کہ میں بچوں کو آگ لگا دوں گا۔ تمہارے پورے کنبے کو جلا دوں گا؟‘

گھر والوں نے بتایا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے پرمجیت اپنے سسرال نہ رہ پائیں اور میکے چلی آئیں۔

خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ ’وہ سپرے والے پمپ میں تیل لے کر آیا تھا۔ کلدیپ کے پاس دو خنجر بھی تھے۔‘

خاندان کے ایک پڑوسی جسپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے کسی نے بھاگ کر آنے کے لیے کہا۔ میں نے جا کر دیکھا کہ سرجن سنگھ کا گھر آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہم نے دروازہ کھول کر انھیں باہر نکالا لیکن وہ بری طرح جل چکے تھے۔ اُن میں سے دو کی تو اندر ہی موت ہو گئی تھی باقی لوگوں کو ایمبولینس میں ہسپتال بھیجا گیا۔‘