انڈین ریاست مغربی بنگال میں بیربھوم گاؤں میں آٹھ افراد کو مبینہ طور پر زندہ جلانے کا واقعہ، وزیراعلیٰ ممتا بنرجی آج دورہ کریں گی

وقت اشاعت

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی آج ضلع بیربھم کے بوگتوئی گاؤں کا دورہ کرنے والی ہیں، جہاں سوموار کے روز آٹھ افراد کو مبینہ طور پر زندہ جلا دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ممتا بنرجی کے استعفے اور ریاست میں وفاقی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دوسری جانب کلکتہ ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے چوبیس گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

ضلع بیربھوم کے بوگتوئی گاؤں میں فسادات اس وقت شروع ہوئے جب برسل گرام پنچایت کے نائب سربراہ اور ترنمول کانگریس پارٹی کے رہنما بھادو شیخ کو پیر کی شام کچھ نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا۔ اس قتل کے بعد علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے اور کچھ لوگوں نے چند گھروں کو آگ لگا دی جس میں آٹھ افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھادو شیخ پیر کی شام ایک دکان پر چائے پی رہے تھے۔ اسی وقت کچھ نوجوانوں نے ان پر بموں سے حملہ کیا۔ اس کے بعد انھیں نازک حالت میں رام پور ہاٹ ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔

ان کی موت کی خبر پھیلتے ہی پورے گاؤں میں کشیدگی پھیل گئی اور کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ فی الحال واقعے کے تیسرے روز بھی گاؤں میں خوف کا ماحول ہے جبکہ پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد یہاں تعینات ہے۔

ممتا بنرجی: ’قصورواروں کو نہیں بخشا جائے گا‘

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کو کہا تھا کہ ’اس معاملے میں قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی وجہ سے میں نے اپنے پروگرام کو ایک دن کے لیے بڑھا دیا۔‘

واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد بدھ کے روز کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے نمائندے بوگتوئی گاؤں پہنچے تھے۔

انڈیا میں قائد حزب اختلاف سبیندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی کے وفد کو موقع پر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

اس کے ساتھ ہی سبیندو ادھیکاری نے اس واقعے کی سی بی آئی اور این آئی اے سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعلیٰ اور گورنر آمنے سامنے

آٹھ لوگوں کے قتل کے اس معاملے کے بعد ایک بار پھر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور گورنر جگدیپ دھنکھڑ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔

دھنکھر اسے جمہوریت اور انسانیت کے لیے شرمناک واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ گورنر کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا، جس میں وہ ممتا بنرجی حکومت پر برہم دکھائی دے رہے ہیں۔

اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک اور ویڈیو پیغام میں گورنر دھنکھر نے اس واقعے کو ’خوفناک تشدد‘ قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے ریاست کے چیف سیکرٹری سے اس واقعے پر فوری اپ ڈیٹ طلب کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کو تشدد کے کلچر کا مترادف نہیں بننے دیا جا سکتا۔ اپنے بیان میں گورنر نے ریاستی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو ’متعصبانہ مفادات سے اوپر سوچنے کی ضرورت ہے اور ایسا لگتا نہیں۔‘

دوسری طرف ممتا بنرجی نے گورنر دھنکھر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ’نامناسب بیانات‘ دینے سے باز رہیں۔

بیان کے فوراً بعد گورنر کو لکھے گئے اپنے خط میں ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کے ریمارکس ایسے باوقار آئینی عہدہ پر فائز شخص کے لیے بدقسمتی اور غیر مہذب ہیں۔

ممتا بنرجی نے گورنر جگدیپ دھنکھر کو کہا کہ ’انتظامیہ کو منصفانہ تحقیقات کرنے دیں۔‘

اس خط میں بنرجی نے یہ بھی لکھا کہ ’یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ نے 21 مارچ کو رام پور ہاٹ واقعے میں ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر ایک وسیع اور غیر ضروری تبصرہ کرنے کا انتخاب کیا جس میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔‘

ممتا بنرجی نے خط میں لکھا کہ ’آپ کے بیانات میں سیاسی لہجہ ہے جو دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بنگال حکومت کو دھمکی دینے کی کوشش ہے۔‘

وزیراعظم مودی: ’امید ہے ریاستی حکومت کو سزا ملے گی‘

اس سے پہلے بدھ کو وزیر اعظم مودی بھی اس معاملے پر تبصرہ کر چکے ہیں۔

کولکتہ کے وکٹوریہ میموریل ہال میں ورچوئل میڈیم کے ذریعے ایک گیلری کا افتتاح کرتے ہوئے انھوں نے بیر بھوم واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ریاستی حکومت بنگال کی عظیم سرزمین پر ایسا گھناؤنا گناہ کرنے والوں کو ضرور سزا دے گی۔‘

وزیراعظم مودی نے ریاستی حکومت سے کہا کہ اگر مجرموں کو سزا دلانے میں کسی مدد کی ضرورت ہے تو حکومت اس کے لیے تیار ہے۔