جرمنی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر پر بیان پر انڈیا برہم کیوں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے برلن کے سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے حالیہ مشترکہ بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کو ’غیر ضروری‘ تبصرہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے جرمنی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان پر انڈیا نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بجائے پاکستان میں موجود انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنے پر توجہ مرکوز کریں، جو ایک طویل عرصے سے اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری جرمنی کے دورے پر ہیں۔ بلاول بھٹو نے سنیچر کو جرمنی کے شہر برلن میں وزیر خارجہ اینالینا بیئرباک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا بھی ذکر کیا۔ اس دوران جرمن وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ’اقوام متحدہ کے مذاکرات کی حمایت‘ کرتا ہے۔

سنیچر کو پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ انڈین وزارت خارجہ کے بیان نے 'ایک ایسے ملک کی مایوسی کو بے نقاب کیا ہے جو جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے اور انسانی حقوق کی قابل مذمت خلاف ورزیوں کے معاملے پر خود کو تیزی سے تنہا ہوتا ہوا محسوس کر رہا ہے۔'

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انڈیا ’ایف اے ٹی ایف کی سیاست کر رہا ہے اور پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی اپنی رکنیت کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ ایف اے ٹی ایف کو اس غیر ذمہ دارانہ بیان کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔‘

جرمنی کی وزیر خارجہ نے کیا کہا؟

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئرباک سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میرا پختہ یقین ہے کہ دنیا کے ہر ملک کا کردار تنازعات کو ختم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم ایک پرامن دنیا میں رہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میری اپیل صرف یورپ کی صورتحال کے بارے میں نہیں ہے، جہاں روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ (بلکہ) یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسرے علاقوں کو بھی دیکھیں جہاں کشیدگی اور جنگ کی صورتحال ہے۔

’میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے جرمنی کا بھی ایک کردار اور ذمہ داری ہے۔ تاہم ہم پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

اس کے بعد جرمنی کی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی پاکستان کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحد پار تعاون میں مثبت اشارے دیکھے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے اور جرمنی اس کی حمایت کرتا ہے اور انڈیا اور پاکستان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ جنگ بندی اور اقوام متحدہ کے راستے پر چلتے ہوئے سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔

ان کے ساتھ موجود پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈیا پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اس کی وجہ سے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ ہے اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے بغیر ممکن نہیں۔

اسی پریس کانفرنس کے دوران جرمنی کی وزیر خارجہ نے بتایا کہ جرمنی سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی مدد کرنے جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جرمنی پاکستان کو انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے پانچ کروڑ یورو دے گا۔

اس کے علاوہ جرمنی نے پاکستان کو ہنگامی امداد کے لیے اضافی ایک کروڑ یورو دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب جرمنی نے انڈیا کے حوالے سے بڑا بیان دیا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں جرمن وزارت خارجہ نے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی گرفتاری پر ایک بیان جاری کیا تھا اور ایک طرح سے انڈیا کی جمہوریت پر طنز کیا تھا۔

درحقیقت جرمن وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں محمد زبیر کی گرفتاری پر سوال پوچھا گیا تھا۔ جس کے جواب میں جرمن وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’انڈیا خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔ ایسے میں ان سے آزادی اظہار اور پریس جیسی جمہوری اقدار کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے۔ پریس کو ضروری جگہ دی جائے۔ ہم آزادی اظہار کے لیے پرعزم ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم دنیا بھر میں پریس کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس کا اطلاق انڈیا میں بھی ہوتا ہے۔ آزادانہ رپورٹنگ کسی بھی معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے۔ صحافت پر پابندیاں تشویشناک ہیں۔ صحافیوں پر پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں۔ بولنے اور لکھنے کی وجہ سے جیل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔‘

انڈیا کا جرمنی کو جواب

مسئلہ کشمیر پر جرمنی اور پاکستان کے بیانات کے فوراً بعد انڈین وزارت خارجہ نے اس پر بیان جاری کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کے تمام ایماندار ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی دہشت گردی اور خاص طور پر سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ کریں۔

پاکستان کا براہ راست نام لیے بغیر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے جو اب بھی جاری ہے۔

انڈیا نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے کشمیر کے ساتھ ساتھ انڈیا کے دیگر حصوں میں بھی غیر ملکی شہری نشانہ بنے ہیں۔

اس کے بعد انڈین وزارت خارجہ نے 26/11 ممبئی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور ایف اے ٹی ایف اب بھی پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

اس کے بعد انڈیا نے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ 'جب قومیں خود غرضی یا اختلافات کی وجہ سے اس طرح کے خطرے کو قبول نہیں کرتیں تو وہ امن کے کام کو فروغ نہیں دیتیں بلکہ اسے نظر انداز کرتی ہیں۔ وہ دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ بھی سنگین ناانصافی کرتے ہیں۔‘

انڈیا اور پاکستان کے سابق سفارت کاروں نے کیا کہا؟

کئی سابق سفارت کار جرمنی کے اس رویے پر تنقید کر رہے ہیں۔ انڈیا کے سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے ٹویٹ کر کے سوال کیا ہے کہ ’جرمنی کو کشمیر میں کوئی کردار اور ذمہ داری کس نے دی ہے؟‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’جرمنی کو ہمارے خطے میں خود کو ایک بڑی طاقت سمجھنے کے بجائے یورپ میں اپنی بگڑتی ہوئی پوزیشن پر فکر مند ہونا چاہیے۔‘

سابق سفارت کار ایم کے بھدر کمار نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’انڈیا کو اس حقیقت پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے کہ مسلسل ایک پیٹرن بنایا جا رہا ہے۔ بیئر باک مغرب کے لیے وفادار ہیں اور روس مخالف ہیں اور وہ واشنگٹن سے اشارے لیتی ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے کہا تھا کہ جرمن عوام چاہے کچھ بھی کہے، وہ یوکرین کی حمایت کرنے سے نہیں ڈریں گی۔‘

انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کشمیر پر بلاول بھٹو کے بیان کو سراہا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ روس کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو کا سیدھا جواب درست نہیں ہے۔

بلاول بھٹو سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو پاکستان کیا سوچتا ہے، جس پر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا کہ ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں ہونے چاہییں۔

اس پر پاکستان کے سابق سفارت کار عبدالباسط نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کا یہ بیان کہ ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں ہونے چاہییں پاکستان کی پالیسی کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’فرض کریں کہ اگر انڈیا کشمیر کے ہمارے حصے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو کیا ہم بیٹھے رہیں گے؟ انڈیا نے سنہ 2017 کے بعد جو کوئک ایکشن پالیسی بنائی ہے، کیا اس کے بعد ہم خاموش رہیں گے؟'

باسط نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد کے مطابق برلن میں بیان دینا چاہیے تھا، جس میں ایک ایٹمی ریاست کو دوسری غیر جوہری ریاست پر حملہ کرنے کی ممانعت ہے۔

روس کی وجہ سے جرمنی ناراض ہے؟

انڈیا کے معاملات پر جرمنی کئی بار تبصرہ کر چکا ہے اور روس یوکرین جنگ کے بعد انڈیا کی طرف سے روس سے تیل خریدنے پر بھی بہت ناراض ہے۔ دوسری طرف روس یوکرین جنگ میں انڈیا نے کبھی کھل کر روس پر تنقید نہیں کی بلکہ وہ بات چیت کے ذریعے پرامن حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ روس کے خلاف کھل کر نہ کھڑے ہونے کے انڈیا کے موقف پر جرمنی اور مغربی ممالک میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد گئے۔وہاں انھوں نے پاکستان امریکہ المنائی کے ارکان کے ساتھ ایک میٹنگ میں شرکت کی۔

اس ملاقات کے حوالے سے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ کیا گئی جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو 'آزاد کشمیر' لکھا گیا تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ اب تک امریکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کہتا تھا لیکن اچانک اس نے 'آزاد جموں و کشمیر' کہہ دیا۔

انڈیا روس کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز میں بہت احتیاط سے قدم اٹھا رہا ہے۔ سنیـچر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) نے روس کے خلاف قرارداد پر ووٹ کیا جس میں انڈیا غیر حاضر رہا۔

درحقیقت یہ تجویز روس میں انسانی حقوق کے ریکارڈ کے لیے ایک آزادانہ ماہر کی تقرری کے لیے پیش کی گئی تھی جسے 17 ووٹوں کی حمایت اور چھ ووٹوں کی مخالفت سے منظور کیا گیا جب کہ انڈیا اور برازیل سمیت 24 ممالک نے ووٹنگ میں شرکت سے گریز کیا۔