انڈیا کے مقابلے میں چین سری لنکا کی حمایت میں سامنے آیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے اپنے پڑوسی ملک سری لنکا کے ساتھ تعلقات ویسے تو معمول کے مطابق رہے ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں میں وہاں چین کی سرمایہ کاری کے بعد ان تعلقات کی گرمجوشی میں کمی آئی ہے۔
گزشتہ ماہ چینی جنگی جہاز 'یوآن وانگ 5' کے سری لنکا پہنچنے کے بعد انڈیا اور سری لنکا کے درمیان تعلقات میں مسلسل دوری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
انڈین حکومت نے سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر اس جنگی جہاز کے رکنے پر عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد بھی سری لنکا کی حکومت نے اس جنگی جہاز کو ہمبنٹوٹا میں رکنے کی اجازت دی تھی۔
لیکن اب دونوں ممالک کے تعلقات پر اس کے اثرات صاف نظر آ رہے ہیں۔
پیر کو انڈین حکومت نے سری لنکا کی تامل کمیونٹی کے انسانی حقوق کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے یو این ایچ سی آر میں سری لنکا کو گھیرنے کی کوشش کی۔
سری لنکا نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔
چین نے اس معاملے پر سری لنکا کا دفاع کرتے ہوئے انڈیا کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر سری لنکا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بھارت نے اس معاملے میں کیا کہا؟
اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل نمائندے اندر منی پانڈے نے کہا ہے کہ حکومت ہند کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی حقوق اور بین الاقوامی بات چیت اور تعاون کو فروغ دینا ممالک کی ذمہ داری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سری لنکا میں رہنے والی تامل کمیونٹی کے تئیں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا نے کہا کہ نسلی مسائل کو حل کرنے کے لیے سری لنکا نے جس سیاسی حل کی بات کی تھی، اس سمت میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ یہ آئین کی 13ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی کونسلوں کو اختیارات دینے اور جلد از جلد صوبائی کونسلوں کے انتخابات کا انعقاد کرنا تھا۔
انڈین سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ انڈیا اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ سری لنکا میں امن اور مفاہمت کا راستہ متحدہ سری لنکا کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے جو سری لنکا کی تامل کمیونٹی کے لیے انصاف، امن، مساوات اور احترام کو یقینی بناتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/MFA_SRILANKA
سری لنکا نے اپنے دفاع میں کیا کہا؟
سری لنکا کے وزیر خارجہ ایم ایم علی صابری نے یو این ایچ سی آر کو بتایا ہے کہ ان کی حکومت انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، 'تمام چیلنجوں کے باوجود، سری لنکا آزاد جمہوری اداروں کے ذریعے انسانی حقوق کے تحفظ اور مفاہمت کی جانب قابل قدر پیش رفت کر رہی ہے'۔
انہوں نے کہا ہے کہ سری لنکا کے عوام نے، جو کہ ایشیا کی قدیم ترین جمہوری برادریوں میں سے ایک ہے، اپنی جمہوری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی استقامت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
صابری نے کہا کہ 'اس وقت سری لنکا کی ترجیح معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ لیکن ہمارے لیے سری لنکا کے لوگوں کے انسانی حقوق کو آگے بڑھانا بھی اتنا ہی ا ہم ہے'۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے اس معاملے پر کیا کہا؟
انڈیا کی جانب سے گھیرے جانے کے بعد چین نے سری لنکا کا ساتھ دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے چن سو نے یو این ایچ سی آر میں دیے گئے اپنا بیان ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا، 'میں نے سری لنکا کی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ میں تمام فریقوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آزادانہ طور پر ترقی کے راستے کا انتخاب کرنے میں سری لنکا کے حقوق کا احترام کریں'۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے بھی ٹوئٹ کر کے چن شو کا بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ'چین انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے سری لنکا کی کوششوں کو سراہتا ہے، اور انسانی حقوق کے ذریعے سری لنکا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کی مخالفت کرتا ہے'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بھارت کا جوابی حملہ؟
انڈیا اور سری لنکا تعلقات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار انڈیا کے اس ردعمل کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔
کیونکہ اسی بیان میں انڈیا نے یہ بھی کہا ہے کہ 'سری لنکا کے موجودہ بحران نے قرضوں پر مبنی معیشت کی حدوں کو واضح کر دیا ہے اور اس کے معیار زندگی پر اثرات بھی سامنے آئے ہیں'۔
تجزیہ کار چین کا نام لیے بغیر اس کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
تکشلا سنستھان سے وابستہ یوسف اُنجھاوالا نے ایک ٹویٹ میں لکھا، ’انڈیا نے سری لنکا میں تامل کمیونٹی کے مسائل کے سیاسی حل کی طرف خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت کے بحران کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت چینی جنگی جہاز کی ہمبنٹوٹا میں آمد کے چند روز بعد سامنے آئی ہے اور انڈیا نے اس پر عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
بھارت کا اب تک کیا موقف رہا ہے؟
انڈیا کی حکومت ایک عرصے سے سری لنکا میں رہنے والی تامل برادری کے مسائل کے سیاسی حل کے لیے سری لنکا کی حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
انڈیا کی حکومت چاہتی ہے کہ سری لنکا 1987 میں انڈیا سری لنکا معاہدے کے تحت لائی گئی 13ویں ترمیم کو منظور کرے۔
لیکن سری لنکا کی حکمران جماعت سری لنکا پیپلز پارٹی کے سنہالا برادری کے اکثریت والے سخت گیر رہنما، صوبائی کونسل کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں ہیں۔
لیکن انڈیا اس معاملے پر عوامی سطح پر اپنا موقف پیش کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔
اس سے قبل 23 مارچ 2021 کو انڈیا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے میں سری لنکا کے خلاف لائی گئی قرارداد میں ووٹنگ کے عمل سے دور رہا تھا ۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈین ریاست تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کی طرف بڑھ رہی ہے اور سری لنکا کی تمل کمیونٹی کا مسئلہ انڈیا کی مقامی سیاست میں بہت اہم ہے۔
لیکن چینی جنگی جہاز 'یوآن وانگ 5' کے سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر رکنے پر انڈیا کے اعتراض کے باوجود بھی وہ جہاز وہاں رکا رہا جسکے بعد اب انڈیا کا موقف بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
سری لنکا: کچھ اہم حقائق
انڈیا کا پڑوسی ملک سری لنکا 1948 میں برطانیہ سے آزاد ہوا۔
سری لنکا کی آبادی تقریباً 2 کروڑ بیس لاکھ ہے، سنہالی اکثریت میں ہیں جبکہ ، تامل اور مسلمان اقلیت میں ہیں۔راجا پاکشے خاندان کئی سالوں سے اقتدار میں رہا ہے ۔
1983 میں تامل باغی تنظیم ایل ٹی ٹی ای اور حکومت کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔
2005 میں وزیر اعظم مہندا راجا پاکشے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔
ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ طویل جنگ 2009 میں ختم ہوئی ، تامل باغی ہار گئے، مہندا راجا پاکشے ہیرو بن کر ابھرے
پھر گوٹابایا راجا پاکشے وزیر دفاع تھے جو 2019 میں صدر بنے، وہ مہندا راجا پاکشے کے چھوٹے بھائی ہیں۔
مہینوں کے شدید احتجاج کے بعد 2022 میں، مہندا راجا پاکشے نے وزیر اعظم اور پھر گوٹابایا نے بطور صدر استعفیٰ دے دیا ۔
رانیل وکرما سنگھے کو پہلے وزیر اعظم اور پھر صدر بنایا گیا، وہ 2024 تک عہدے پر رہیں گے۔
سری لنکا میں صدر ملک، حکومت اور فوج کا سربراہ ہوتا ہے۔






















