آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جان پینیکوئک: انڈیا میں 127 سال پرانے ڈیم بنانے والے برطانوی انجینیئر جن کی یاد میں آج بھی بچوں اور دکانوں کے نام رکھے جاتے ہیں
- مصنف, سوامینتھن نترنجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
ایک ایسے وقت میں جب نوآبادیاتی نظام اور غلاموں کی تجارت میں ملوث شخصیات کے مجسمے اکھاڑ پھینکے جا رہے ہیں، انڈیا کی تمل ناڈو ریاست کی حکومت وکٹورین عہد کے ایک برطانوی انجینیئر کا مجسمہ عطیہ کر رہی ہے جسے لندن سے 50 کلومیٹر دور کیمبرلے کے پارک میں 10 ستمبر کو نصب کیا جائے گا۔
یہ مجسمہ کرنل جان پینیکوئک کا ہے جنھوں نے جنوبی تمل ناڈو میں ملاپیریار ڈیم ڈیزائن اور تعمیر کیا تھا۔
لندن کے سنتھانا ابراہیم ڈاکومینٹریز بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’برطانوی راج کے دوران بہت مظالم ڈھائے گئے۔ ہم ان کو کبھی نہیں بھولیں گے لیکن اچھے کاموں کو بھی یاد رکھا جانا چاہیے۔‘
برطانیہ میں اس مجسمے کو نصب کرنے کے منصوبے میں ان کا بھی اہم کردار ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کرنل جان پینیکوئک کے کام کو اب تک وہ شناخت نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ صرف ہماری ریاست کے لوگ ہی ان کے بارے میں جانتے ہیں۔‘
برطانوی انجینیئر، جن کے نام پر بچوں کا نام رکھا جاتا ہے
جن علاقوں کو اس ڈیم نے سیراب کیا، وہاں کے لوگوں میں کرنل جان پینیکوئک ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں جن کی عزت کی جاتی ہے۔ تھینی ضلع کی دکانوں، گھروں اور سرکاری دفاتر تک میں ان کی تصاویر لگی ہیں۔
لیکن اس صدی کے آغاز تک ملک کے دیگر علاقوں میں لوگ کرنل جان پینیکوئک کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔
کئی لڑکوں کا نام ان کے نام پر اور لڑکیوں کا نام ان کی والدہ کی یاد میں سارہ رکھا جاتا ہے۔ ایک لڑکا، جس کا نام پینیکوئک رکھا گیا، سکول میں اسی وجہ سے مذاق کا شکار ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پینیکوئک نامی اس لڑکے نے بتایا کہ ’مجھے بہت عجیب لگتا تھا اور اپنے والد پر غصہ بھی آتا تھا کہ انھوں نے میرے لیے اس نام کا انتخاب کیوں کیا۔‘
ان کے والد یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں جن کا تعلق ضلع مدورائی سے ہے۔ وہ کام کی تلاش میں وسطی تمل ناڈو کے شہر تروچراپلی منتقل ہوئے جہاں لوگ پینیکوئک سے آشنا نہیں تھے۔
اپنے بیٹے کی مشکل کو آسان کرنے کے لیے ایک دن وہ اسے ڈیم پر لے گئے اور انھوں نے اسے ایک یادگار بھی دکھائی۔
’وہاں میں نے کرنل جان پینیکوئک کا ایک مجسمہ دیکھا اور فوراً ہی مجھے احساس ہوا کہ انھوں نے کتنا بڑا کام کیا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘
وکٹورین انجینیئر
جان پینیکوئک سنہ 1841 میں انڈیا کے شہر پونا میں پیدا ہوئے تھے۔
لندن میں فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ انڈیا واپس لوٹے جہاں وہ فوج میں شامل ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد وہ مدراس پریزیڈنسی کے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بن گئے۔
اسی دوران انھوں نے ایک ڈیم کو ڈیزائن اور پھر تعمیر کیا جس کی مدد سے پیریار دریا کا پانی وائیگئی دریا منتقل کیا گیا۔
اپنے ایک پیپر میں انھوں نے اعتراف کیا کہ ڈیم کی تعمیر کا خیال ان سے پہلے کے وقت کا تھا۔
’اس کا سب سے پہلا منصوبہ صدی کے اوائل میں بنا جب یہ جانچنے کے لیے سروے بھی کیا گیا کہ یہ منصوبہ قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ اس سروے، جو غالبا جلدی بازی میں کیا گیا، کا نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ منصوبہ نہیں بن سکتا۔‘
متعدد چیلنجز
جان پینیکوئک ہار ماننے والے نہیں تھے۔ انھوں نے پہلے اس منصوبے کے لیے اجازت لی اور پھر سنہ 1888 کے آخر میں اس کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔
جان پینیکوئک نے لکھا کہ ’ڈیم کا مقام نزدیکی سڑک سے سات میل دور بے آباد جنگل تھا اور قریبی آبادی سے تقریبا 20 میل دور تھا۔‘
اپریل اور جون کے درمیان جنگلی بخار کی وجہ سے کام نہیں ہو سکا۔ بارش اور سیلاب کی وجہ سے مزید چار ماہ ضائع ہو گئے۔
ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر میں 4000 سے 6000 تک مزدور شامل تھے اور اس منصوبے کو سات سال بعد 1895 میں مکمل کر لیا گیا۔
جان پینیکوئک نے تعمیراتی سامان پہنچانے کے لیے کشتیوں اور بیل گاڑیوں کا سہارا لیا۔
سواسبرامنیم ایک سابق پروفیسر ہیں جنھوں نے تامل ناڈو میں پانی کے انتظام پر کافی تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 19ویں صدی کے اواخر تک جنوبی انڈیا میں بہت کم ڈیم تھے۔
’یہ ڈیم انجینیئرنگ کا شاہکار تھا جس نے موجودہ تمل ناڈو کے پانچ اضلاع میں پانی کی کمی کو دور کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
’جان پینیکوئک ہمارے لیے بھگوان جیسے ہیں‘
یہ ڈیم آج بھی فصلوں کو سیراب اور کسانوں کو خوشحال بنا رہا ہے۔
32 سالہ دیسیکا تھرولن اپنے خاندان کی پہلی انجینیئر ہیں جنھوں نے ایک بڑی کمپنی میں ملازمت ترک کی تاکہ وہ کاشتکاری کر سکیں۔ ان کے خاندان کے پاس تھینی ضلع میں 50 ایکڑ زمین ہے جسے اس ڈیم کی وجہ سے پانی میسر ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جان پینیکوئک ہمارے لیے بھگوان جیسے ہیں۔ شکر ہے کہ ہمارے پاس پانی کی فراوانی ہے۔‘
دیسیکا تھرولن سال میں چاول کی دو فصلیں اگاتی ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد کو پانی کے لیے بارش کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
’ڈیم سے پہلے یہاں خشک سالی اور قحط کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے۔‘
خاندانی رشتہ
دیسیکا تھرولن اپنا خاندانی تعلق ایک مقامی شخص پیا تھوار سے جوڑتی ہیں جو ڈیم کی تعمیر کے وقت مزدوروں کو خوراک فراہم کرتا تھا۔
ان کا خاندان آج بھی پیا تھوار اور جان پینیکوئک کو یاد کرتا ہے۔
جان پینیکوئک کے اس کارنامے کے ساتھ کئی مقامی افسانے بھی جنم لے چکے ہیں۔
ان کے پڑپوتے سٹورٹ سیمپسن نے منٹ ویب سائٹ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اس مشہور دعوے کی تردید کی کہ برطانوی انجینیئر نے اس ڈیم کو تعمیر کرنے کے لے ذاتی پیسہ لگایا تھا۔
حفاظت سے جڑے خدشات
اس ڈیم کے ساتھ تنازعات بھی جڑے رہے ہیں۔
1990 کی دہائی میں کیرالہ کی ریاست نے اس کی حالت پر خدشات کا اظہار کیا جس کے بعد کئی سال ایک سیاسی اور قانونی جنگ چلتی رہی۔
انڈیا کی سپریم کورٹ کی بنائی گئی ایک کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ ڈیم مضبوط اور محفوظ ہے تاہم ڈیم میں پانی کی سٹوریج کی سطح کم کر دی گئی۔
سواسبرامنیم کہتے ہیں کہ ’یہ ڈیم پہلے 340000 ایکڑ کو پانی فراہم کرتا تھا لیکن اب اس کا آدھا رقبہ ہی سیراب ہوتا ہے۔‘
لیکن اس تنازعے نے جان پینیکوئک کی شہرت میں اضافہ کر دیا۔
دیسیکا تھرولن کہتی ہیں کہ ’لوگوں نے ان کی سالگرہ منانے کی روایت کا آغاز پندرہ سال قبل ہی کیا جو ہمارے یہاں فصکل کی کٹائی کے مقامی تہوار کی تاریخ پر ہی آتی ہے یعنی 15 جنوری کو۔‘
نوآبادیاتی نظام کے جرائم
جان پینیکوئک کو اس علاقے میں جس طرح سے تقریباً پوجا جاتا ہے، وہ کسی طرح سے بھی نو آبادیاتی نظام کی حمایت نہیں۔
دیسیکا تھرولن کہتی ہیں کہ ’کئی برطانوی سرکاری افسران نے ہماری دولت لوٹی۔‘
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق انڈیا پر برطانوی راج کے دوران معاشی نقصان کا تخمینہ 45 کھرب ڈالر لگایا گیا جو 2021 کی امریکی معیشت کے حجم سے دوگنا ہے۔
دیسیکا تھرولن کے مطابق ’اسی انتظامیہ میں چند افسران نے ہماری مدد بھی کی۔ جان پینیکوئک صرف اپنے جذبے اور ہمت سے ایک ایسا ڈیم بنانے میں کامیاب ہوئے جو آج تک موجود ہے اور ہمیں پانی فراہم کر رہا ہے۔ ہم صرف ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔‘
انڈیا میں کئی قوم پرست، برطانوی راج کو مظالم اور آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے یاد کرتے ہیں۔ تمل ناڈو میں نوآبادیاتی نظام کے خاف تحریک پرامن مظاہروں تک محدود رہی اور یہاں امرتسر کے جلیانوالہ باغ قتل عام جیسے واقعات یا آزادی کے بعد ہندو مسلمان فسادات نہیں ہوئے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے جان پینیکوئک کا مجسمہ عطیہ کرنے کے فیصلے کے خلاف معمولی سا زبانی احتجاج بھی نہیں ہوا۔
ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد جان پینیکوئک برطانیہ لوٹ گئے جہاں 9 مارچ 1911 کو کمبرلے میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کو وہیں دفن کیا گیا۔
ابراہیم امید کرتے ہیں کہ کمبرلے میں ان کے مجسمے کو نصب کرنے کی تقریب کے بعد تمل ناڈو اور اس کی ثقافت کے بارے میں بھی دلچسپی پیدا ہو گی۔
لیکن 20 سالہ پینیکوئک اس بات پر خوش ہیں کہ اب ان کا نام سن کر کسی کو حیرانی نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی ان کا نام مظالم سے نہیں جوڑتا۔
چند ماہ بعد وہ بزنس مینیجمنٹ میں ڈگری حاصل کر لیں گے اور وہ فارغ وقت میں برطانوی راج کے بارے میں پڑھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
’کسی دن میں خود برطانیہ جا کر جان پینیکوئک کا مجسمہ بھی دیکھوں گا۔‘