اویغور: اقوامِ متحدہ کا چین پر ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا الزام

    • مصنف, میٹ مرفی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

اقوام متحدہ نے سنکیانگ میں اویغور آبادی سے بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ کی بنیاد پر چین پر ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کا الزام لگایا ہے

چین نے اقوام متحدہ پر زور دیا تھا کہ وہ اس رپورٹ کو جاری نہ کرے اور بیجنگ نے اسے مغربی طاقتوں کی طرف سے ترتیب دیا گیا ایک ’مذاق‘ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں اویغور مسلمانوں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی کے دعوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن کی چین تردید کرتا ہے۔

لیکن تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے تشدد کے ’قابلِ اعتبار ثبوتوں‘ کا انکشاف کیا ہے جو ممکنہ طور پر ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے مترادف ہیں۔

انھوں نے چین پر اقلیتوں کے حقوق کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے مبہم قوانین کا استعمال کرنے اور ’من مانی حراست کا نظام‘ قائم کرنے کا الزام لگایا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر آفس کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قیدیوں کو بدسلوکی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں ’جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات‘ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی افراد کو جبری طور پر طبی علاج اور ’خاندانی منصوبہ بندی اور پیدائش پر قابو پانے والی پالیسیوں‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ نے سفارش کی ہے کہ چین فوری طور پر ان تمام افراد کی رہائی کے لیے اقدامات کرے، جن سے ان کی آزادی چھینی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے کچھ اقدامات ’انسانیت کے خلاف جرائم سمیت بین الاقوامی جرائم ‘ کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت نے کتنے لوگوں کو حراست میں لیا ہے، انسانی حقوق کے گروپوں کا اندازہ ہے کہ شمال مشرقی چین میں سنکیانگ کے علاقے میں کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کئی ممالک اس سے قبل بھی سنکیانگ میں چین کے اقدامات کو نسل کشی قرار دے چکے ہیں لیکن بیجنگ نے بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ یہ کیمپ دہشتگردی سے لڑنے کا ایک ذریعہ ہیں۔

یہ رپورٹ مشعل بیچلیٹ کے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر ملازمت کے آخری دن (چار سال بعد) جاری کی گئی۔

جتنا عرصہ وہ اس عہدے پر رہیں، چین پر اویغوروں کے خلاف بدسلوکی کے الزامات لگتے آئے ہیں۔

بیچلیٹ کے دفتر کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات ایک سال سے جاری تھیں۔

لیکن اشاعت میں کئی بار تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے کچھ مغربی انسانی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا کہ اس رپورٹ میں بیجنگ کو نقصان پہنچانے والی تفصیلات ہیں، اسی لیے وہ بیچلیٹ کو رپورٹ شائع نہیں کرنے دے رہا۔

اور رپورٹ شائع ہونے سے کچھ گھنٹے پہلے بھی چین بیچلیٹ پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ اسے شائع نہ کریں۔

گدشتہ جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں، انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ رپورٹ کو شائع کرنے یا نہ شائع کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ میں تھیں لیکن انھوں نے تاخیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پر بیجنگ کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس میں شامل جرائم کی جانب سے ’آنکھیں موڑ رہی ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

ہیومن رائٹس واچ میں چین پر نظر رکھنے والی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں شامل انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ ’چینی حکومت رپورٹ کی اشاعت کو روکنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور کیوں لگا رہی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کو اس رپورٹ کی بنیاد پر چینی حکومت کے انسانیت کے خلاف جرائم (خاص کر ایغوروں اور دیگر افراد) کی جامع تحقیقات شروع کرنی چاہیے اور ذمہ داروں سے جواب مانگنا چاہیے۔‘

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنس کالمارڈ نے رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کو ناقابلِ معافی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

کالمارڈ نے کہا کہ ’انسانیت کے خلاف چینی حکومت کے جرائم کے لیے اس کا احتساب ہونا چاہیے، اُن افراد کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، جو اس سب کے لیے ذمہ دار ہیں۔‘

اس سال کے شروع میں بی بی سی کو وہ فائلیں ملیں جن میں بہت سے کیمپوں میں اویغور مسلمانوں کے اجتماعی ریپ، جنسی زیادتی اور تشدد کے منظم نظام کا انکشاف ہوا۔

بی بی سی کو بھجوائی گئیں ان فائلز کو ’سنکیانگ پولیس فائلز‘ کا نام دیا جاتا ہے، ان میں چینی رہنما شی جن پنگ کے احکامات پر اویغور کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا انکشاف کیا گیا۔

سنہ 2020 میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اویغوروں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر ٹرینوں کی طرف لے جاتے دکھایا گیا تھا، جس کے بعد اس وقت کے برطانیہ کے سکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے چین پر اپنی مسلم آبادی کے خلاف انسانی حقوق کی ’سنگین‘ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا تھا۔

اس فوٹیج پر بین الاقوامی سطح پر بہت ردِعمل سامنے آیا لیکن برطانیہ میں چین کے اس وقت کے سفیر لیو شیاؤمنگ نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو میں اصرار کیا کہ ’سنکیانگ میں ایسے کوئی حراستی کیمپ نہیں۔‘

چین کیا کہتا ہے؟

چین سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سنکیانگ پولیس فائلز کے جواب میں، چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دستاویزات اس چیز کی تازہ مثال ہے کہ ’چین مخالف آوازیں کس طرح چین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ سنکیانگ میں استحکام اور خوشحالی ہے اور وہاں کے شہری خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں کریک ڈاؤن دہشتگردی کی روک تھام اور اسلام پسند انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری ہے اور یہ کیمپ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قیدیوں کو دوبارہ تعلیم دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔

چین کا اصرار ہے کہ اویغور عسکریت پسند بم دھماکوں، تخریب کاری اور شہری بدامنی کی منصوبہ بندی کر کے ایک آزاد ریاست کے لیے پرتشدد مہم چلا رہے ہیں لیکن چین پر الزام ہے کہ وہ اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ ایغوروں کے خلاف جرائم کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

چین نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اویغور آبادی کو بڑے پیمانے پر نس بندی کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے، اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جبری مشقت کے الزامات ’مکمل طور پر من گھڑت‘ ہیں۔