چین میں بدصورت اور نامناسب کارٹونز کی شکایات کے بعد درسی کتب پر نظر ثانی، نئے منظور شدہ خاکے جاری

    • مصنف, کیری ایلن
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت

چین نے پرائمری سکول کی کئی نصابی کتابوں میں چھپے ہوئے کارٹونز کو تبدیل کر دیا گیا ہے کیونکہ پہلے سے موجود ​​مواد کو لوگوں نے ناگوار قرار دیا تھا۔

اگرچہ اصل کارٹون کئی سالوں سے کتب میں استعمال ہو رہا تھا لیکن مئی میں اچانک اس پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب گلوبل ٹائمز نے انھیں ’بدصورت، نسل پرستانہ، خوفناک اور جنسی ارادے ظاہر کرنے والا‘ قرار دیا۔

پبلشر نے اس وقت معافی مانگی اور کارٹون دوبارہ بنانے کا وعدہ کیا۔

ہزاروں کتابوں کا اب جائزہ لیا جا چکا ہے اور کئی مصوروں اور پبلشرز کی سرزنش کی گئی یا انھیں برطرف کر دیا گیا ہے۔

چین کے گلوبل ٹائمز اخبار نے کچھ تصویروں کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا کہ ان تصویروں میں ایک لڑکے کے ’ٹخنے پر بظاہر ایک ٹیٹو ہے‘ ’خرگوش کے لباس‘ میں ایک لڑکی اور امریکی جھنڈے پہنے ہوئے بچوں کو دکھایا گیا ہے۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کارٹونز کے بہت سے نقادوں نے مصوروں پر ’جان بوجھ کر چینی لوگوں کی جمالیات کو خراب کرنے‘ کا الزام لگایا اور پبلشرز کو ’غیر ذمہ دار‘ قرار دیا۔

350 ماہرین کی ایک ٹیم کو تقریباً 2,000 کتابوں کی جانچ کرنا پڑی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نیا مواد مناسب ہے۔ پیر کو، نئی تصویری مثالیں منطر عام پر لائی گئیں جن کی منظوری چین کی قومی ٹیکسٹ بک کمیٹی نے دی تھی۔

چائنہ ڈیلی اخبار نے کہا کہ مجموعی طور پر 27 افراد کو کسی نہ کسی طرح سزا دی گئی ہے۔

ان میں پیپلز ایجوکیشن پریس کے سربراہ ہوانگ کیانگ شامل ہیں، جنھیں ’سنگین وارننگ‘ دی گئی اور پبلشر کے ایڈیٹر انچیف جنھیں برطرف کر دیا گیا تھا۔

اس سکینڈل پر کم از کم تین مصوروں کو برطرف کیا گیا تھا اور پیر کو چینی میڈیا نے رپورٹ دی کہ کئی دوسروں کو ’فرائض سے غفلت‘ برتنے پر سزا دی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر نصابی کتب کی تبدیلی کی بڑے پیمانے پر تعریف کی جا رہی ہے۔ تاہم، ان میں سے زیادہ تر تبصرے چین کی 50 سینٹ پارٹی کا کام دکھائی دیتے ہیں۔ یہ حکومت کی طرف سے رقم لے کر حکومت کی حمایت میں پیغامات پوسٹ کرنے والے سوشل میڈیا صارفین ہوتے ہیں۔

مئی میں نصابی کتابوں میں اصلاحات پر کچھ ابہام تھا۔ ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سینا ویبو پر کچھ لوگوں نے تبصرہ کیا تھا کہ ’جمالیات موضوعی ہیں‘۔

دوسروں نے مشورہ دیا کہ یہ اقدام چینی رویوں میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں امریکی جھنڈا پہننے والے بچے کو کم از کم قابل قبول بنا دیا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ چین میں چینی لوگوں کی عکاسی کرنے والے ثقافتی مواد کے حوالے سے حسّاسیت پائی گئی ہے۔

نومبر میں، ایک چینی فوٹوگرافر نے فرانسیسی لگژری برانڈ ڈائر کے لیے بنائی گئی ایک تصویر پر لوگوں کی ناراضی کے بعد اپنی ’لاعلمی‘ کے لیے معافی مانگی۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک چینی خاتون کی ’توہین آمیز‘ تصویر ہے جسے مغربی دقیانوسی تصورات پر بنایا گیا ہے۔

2019 میں، آن لائن ایک بحث چھڑ گئی کہ زارا مہم میں چہرے پر چھائیوں والی چینی ماڈل کے ذریعے چینی لوگوں کو ’بدصورت‘ دکھایا گیا ہے۔