کولکتہ کی سینٹ زیویئر یونیورسٹی کی پروفیسر: ’انسٹاگرام پر تصویر شیئر کرنے پر نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا گیا‘

سوشل میڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
  • وقت اشاعت

انڈیا کے مشرقی شہر کولکتہ کی ایک معروف پرائیوٹ یونیورسٹی حالیہ مہینوں میں ایک بدنما تنازع میں گھری نظر آئی ہے۔

سینٹ زیویئر یونیورسٹی کی ایک سابق اسسٹنٹ پروفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انسٹاگرام پر بکنی میں اپنی تصویریں شیئر کرنے پر انھیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے اٌن کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

31 سالہ استاد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی کے اہلکاروں پر ’جنسی طور پر ہراساں کرنے‘ کا بھی الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ ’میرے ساتھ بدتمیزی کی گئی، اور اخلاقی پولیسنگ کا نشانہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے اور یونیورسٹی کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ یونیورسٹی نے اس کے جواب میں خاتون پر ہتک عزت کا الزام لگاتے ہوئے 99 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مجھے ایک تفتیشی کمرے میں لے جایا گیا

اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ انھوں نے 9 اگست سنہ 2021 کو انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کلاسز کو انگریزی پڑھانے کے لیے یونیورسٹی فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دو ماہ بعد انھیں وائس چانسلر کے دفتر میں میٹنگ کے لیے بلایا گیا۔

انھیں ’ایک تفتیشی کمرے میں لے جایا گیا‘ جہاں وائس چانسلر فیلکس راج، رجسٹرار آشیش مترا اور پانچ خواتین پر مشتمل ایک کمیٹی نے ان سے پوچھ گچھ کی۔

انھیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف پہلے سال کے انڈرگریجویٹ طالب علم کے والد کی جانب سے شکایت کی گئی ہے۔

’وائس چانسلر نے کہا کہ بچے کے والدین نے اپنے بیٹے کو انسٹاگرام پر میری تصویریں دیکھتے ہوئے پایا جس میں میں نے صرف اپنے زیر جامہ پہن رکھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ واضح طور پر جنسی (نوعیت کی) ہیں اور یونیورسٹی سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے کو اس طرح کی فحاشی سے بچایا جائے۔‘

بورڈ کے ممبران میں ’پانچ چھ تصاویر‘ کے ساتھ کاغذ کا ایک ٹکڑا گھمایا گیا اور ان سے اس کی تصدیق کرنے کے لیے کہا گیا۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مجھے احساس ہوا کہ مجھے ذہنی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے

ان کا کہنا ہے کہ تصاویر میں انھوں نے ٹو پیس کا سوئمنگ سوٹ پہنا ہوا تھا اور یہ تصاویر ان کے کمرے میں لی گئی سیلفیز تھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسے انھوں نے انسٹاگرام پر ایک ’سٹوری‘ کے طور پر شیئر کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ 24 گھنٹے بعد از خود غائب ہو جائيں گی۔

لیکن پینل نے ان کی وضاحت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ تصاویر 13 جون 2021 کو پوسٹ کی گئی تھیں یعنی ان کے یونیورسٹی میں آنے سے تقریباً دو ماہ قبل کی تھیں۔

انھوں نے مجھے بتایا: ’میں صدمے میں آ گئی۔ جب میں نے وہ تصاویر دیکھیں تو مجھ پر گھبراہٹ کا حملہ ہوا۔ یہ ماورائے حقیقت نظر آ رہا تھا کہ میری ذاتی تصاویر میری مرضی کے بغیر شیئر کی جا رہی ہیں۔‘

’ایک لمحے کے لیے تو میں اپنی تصویروں کو دیکھنے کی ہمت بھی نہ کر سکی کیونکہ جس طرح سے وہ مجھے پیش کی گئيں اور ان کے متعلق ہونے والی گفتگو نے مجھے انھیں گھٹیا سمجھنے پر مجبور کر دیا۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے نفسیاتی دباؤ کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ مجھے دبائے جانے کا احساس ہونے لگا۔‘

کیا آپ کے والدین نے آپ کی تصاویر دیکھی ہیں؟

’مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ ایک عورت کے ناطے کیا آپ کو یہ قابل اعتراض نہیں لگتا؟ ایک پروفیسر کی حیثیت سے کیا یہ معاشرے کے لیے آپ کا فرض نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو مناسب طریقے سے رکھیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ خواتین کے لیے ڈریس کوڈ ہوتا ہے؟

’انھوں نے مجھے باور کرایا کہ میں یونیورسٹی کی بدنامی اور شرمندگی کا باعث بن رہی ہوں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میرے والدین انسٹاگرام پر ہیں اور کیا انھوں نے وہ تصاویر دیکھی ہیں؟ مجھے متلی اور صدمے کا احساس ہونے لگا۔‘

انھیں اگلے دن تحریری رپورٹ کے ساتھ پھر سے آنے کو کہا گیا۔

پینٹنگ

،تصویر کا ذریعہINDU HARIKUMAR

،تصویر کا کیپشنعلامتی پینٹنگ

معافی اور جبری استعفیٰ

استاد اگلے دن وائس چانسلر کے دفتر میں واپس آئی اور معافی نامہ جمع کرایا جو کہ ’کچھ فیکلٹی ممبران کے مشورے پر لکھا گیا جس میں صنفی سیل کے سربراہ بھی شامل تھے۔‘ وہ ان کے سابق ہم جماعت اور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور اس پینل میں شامل تھے جس نے گذشتہ روز ان سے سوالات کیے تھے۔

انھوں نے لکھا کہ ’اگر میری تصاویر کی اس طرح تشریح کی جاتی ہے کہ ان سے یونیورسٹی کی ساکھ خراب ہوئی ہے، تو آئی ایم سوری۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک ’انتہائی ناخوشگوار تجربہ‘ تھا، لیکن انھیں امید تھی کہ معاملہ وہیں ختم ہو جائے گا۔

’لیکن وائس چانسلر نے مجھے بتایا کہ بورڈ نے متفقہ طور پر میری برطرفی کی سفارش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی تصاویر وائرل ہوئی ہیں، زیادہ تر طلبا نے انھیں دیکھا ہے اور وہ آپ کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے اور والدین شکایت کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ بہتر ہوگا اگر میں رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وائس چانسلر نے کہا کہ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو وہ ’جیل جائیں گی کیونکہ والدین پولیس میں شکایت درج کروانا چاہتے ہیں اور (ان کی شکایت پر) مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

وہ کہتی ہیں: ’میں نے اپنے آپ کو گھرا ہوا محسوس کیا اور میں نے استعفی دے دیا۔‘

انھوں نے کہا: ’لیکن مجھے بہت غصہ بھی آیا اور میں نے قانونی طور پر مشورہ کیا۔ میرے وکیل نے مشورہ دیا کہ کیونکہ میری تصاویر ڈاؤن لوڈ کی گئیں، سکرین شاٹس لیے گئے اور میری رضامندی کے بغیر شیئر کی گئیں اس لیے میں سائبر کرائم پولیس میں جنسی ہراسانی کی شکایت درج کرواؤں۔‘

انسٹا گرام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہم نے انھیں استعفی کے لیے نہیں کہا

فادر فیلکس راج نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا کمیٹی نے انھیں برخاست کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن انھوں نے یونیورسٹی اور خود پر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔

انھوں نے کہا: ’ہم تعلیم و تدریس کا ایک مقدس ادارہ ہیں۔ اس کے سینیئر اور یونیورسٹی کے سربراہ ہونے کے ناطے، میں نے ان سے کہا کہ انھیں یہ تصویریں نہیں لگانی چاہیے تھیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود انھوں نے ’استعفیٰ دینے پر انھیں مجبور نہیں کیا اور وہ اپنی مرضی سے وہاں سے چلی گئیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’انھوں نے 8 اکتوبر (2021) کو ایک معافی نامہ دیا تھا۔ ہم نے اسے قبول کر لیا۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھی علامت ہے۔ لیکن پھر 25 اکتوبر کو جس دن پوجا تہوار کی چھٹی کے بعد یونیورسٹی دوبارہ کھلی تو انھوں نے اپنا استعفیٰ بھیج دیا۔

’میں توقع کرتا تھا کہ وہ چھٹیوں کے بعد کام پر واپس آجائیں گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان دو ہفتوں میں کیا ہوا۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں ’اس سے کوئی رنجش نہیں ہے‘ اور یہ کہ ’ہم نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔‘

حب ہم نے ان کے اس دعوے کے بارے میں پوچھا کہ یونیورسٹی میں شمولیت کے بعد تصاویر ان کے انسٹاگرام فیڈ پر دستیاب نہیں ہو سکتی تھیں اور ایک فیکلٹی ممبر کی طرف سے انھوں نے سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا ہے تو فادر فیلکس راج نے کہا کہ وہ ’ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں ہیں۔‘

اخلاقی سرزنش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اخلاقی پولیسنگ کی ایک وحشی شکل

استاد کے خلاف کارروائی کو بہت سے طلباء اور سابق طلباء نے ’رجعت پسندانہ‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چینج ڈاٹ اورگ (change.org) پر ایک پٹیشن بھی جاری کی گئی ہے جو یونیورسٹی کے سابق طالب علم گورو بنرجی نے شروع کی تھی اور اس میں مغربی بنگال کی ریاست کے وزیر تعلیم کو مخاطب کیا گیا تھا۔ اس پر 25,000 سے زیادہ دستخط موصول ہوئے ہیں۔

مسٹر بنرجی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی پروفیسر سے معافی مانگے اور حکومت سے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس سخت رویے کے لیے کمیٹی کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ میری طرح بہت سے لوگ اس پر خوفزدہ ہیں کہ یونیورسٹی ایسا کچھ کر سکتی ہے۔‘

حال ہی میں یونیورسٹی کے درجنوں طلباء نے سیاہ لباس پہن کر پروفیسر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یونیورسٹی کینٹین کے باہر اچانک خاموش احتجاج کیا۔

شرکاء میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ ’ہمیں اخلاقی پولیسنگ کی اس وحشیانہ شکل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ایک پروفیسر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

’یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ میں اپنی نجی جگہ میں جو کچھ کر رہا ہوں اس سے کسی کو کوئی دقت کیوں ہونی چاہیے؟ ہماری ذاتی جگہ ناقابل تسخیر ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’خوفناک بات یہ ہے کہ کمیٹی کے ممبران جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں، انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ اخلاقی پولیسنگ ہے؟‘

شاید میں جیت نہ سکوں۔۔۔

اس تنازعے کے مرکز میں جو استاد ہیں انھوں نے کہا کہ وہ ’اس قدر حمایت سے مغلوب ہیں اور ان کی شکر گزار ہیں جنھوں نے ان کی حمایت کی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’مہینوں کی احساس کمتری کے بعد، میں اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ لوگ اسے مضحکہ خیز سمجھ رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ رازداری اور اظہار رائے کا حق ناقابلِ تسخیر ہے جو انڈیا کے آئین نے ہمیں دیا ہے اور یہ ’نگرانی‘ کام کی جگہ سے آگے بڑھ چکی ہے۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’ادارے میں شامل ہونے سے پہلے کا میرا طرز عمل ان کے سوشل میڈیا پروٹوکول یا رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کیسے کرتا ہے؟‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا پختہ یقین ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ میں شاید یہ لڑائی جیت نہ سکوں لیکن میرے لیے یہ ایک اہم لڑائی ہے۔‘