وہ شہری جنھیں انڈیا ’شرم‘ کے باعث برطانیہ جانے سے روکتا تھا

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
  • وقت اشاعت

سنہ 1976 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پاسپورٹ رکھنا اور بیرون ملک سفر کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا کیونکہ اس وقت تک پاسپورٹ کو زیادہ تر خصوصی حیثیت کا دستاویز سمجھا جاتا تھا اور یہ صرف ان لوگوں کو دیا جاتا تھا جن کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ وہ ’قابل احترام‘ ہیں اور جو انڈیا کی نمائندگی کرنے اور ’اس کی عزت برقرار رکھنے‘ کے اہل ہیں۔

دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ایک تاریخ دان رادھیکا سنگھا کے مطابق طویل عرصے تک پاسپورٹ کو ایک ’شہری سند‘ کے طور پر سمجھا جاتا رہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ صرف ان شہریوں کے لیے ہے جن کے پاس ’وسائل، تعلیم اور حیثیت‘ ہے۔

’اس لیے یہ ان مزدوروں کو نہیں دیا جاتا تھا جو ملایا، سیلون (اب سری لنکا) اور برما (اب میانمار) میں کام کرتے تھے اور ’قلیوں‘ کو بھی نہیں دیا جاتا تھا جن کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ تھی اور جو سلطنت برطانیہ کے طول و عرض میں کام کی خاطر ہجرت کر گئے۔

ایگزیٹر یونیورسٹی کی ایک مؤرخ کلتھمیکا نٹراجن نے پاسپورٹ دینے کے انڈیا کے امتیازی نظام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آرکائیوز کھنگال ڈالے۔

وہ کہتی ہیں کہ برطانوی حکمرانی سے آزادی نے چیزوں کو تبدیل نہیں کیا اور نوآبادیاتی دور کے بعد کی نئی ریاست نے ’اپنے ہی ناپسندیدہ‘ شہریوں کے ایک مخصوص طبقے کے ساتھ نوآبادیاتی ریاست کی طرح ہی درجہ بندی کے تحت امتیازی عینک کے ساتھ سلوک روا رکھا۔‘

ڈاکٹر نٹراجن نے کہا کہ یہ امتیاز اس ذہنیت میں گہرا پیوست تھا کہ بیرون ملک سفر میں انڈیا کی ’خود داری اور عزت‘ شامل تھی اور کہنے کے لیے اسے صرف ’انڈیا میں حق‘ رکھنے والے ہی نبھا سکتے تھے۔‘

چنانچہ پاسپورٹ دینے کے معاملے میں حکومت نے واضح طور پر افسران سے یہ کہہ رکھا تھا کہ وہ ایسے شہریوں کی شناخت کریں جو بیرون ملک انڈیا کو ’شرمندہ‘ نہیں کریں گے۔

زیادہ تر لوگوں کو پاسپورٹ دینے سے انکار کرتے ہوئے انڈیا نے کوشش کی کہ ایسے ہی افراد کو پاسپورٹ دیے جائیں جو غیر ملکی معاشروں کے لیے زیادہ قابل قبول ہوں۔

نٹراجن جیسے سکالرز نے اپنی تحقیق کے دوران یہ پایا کہ ایسا برطانوی حکام کے ساتھ مل کر سنہ 1947 کے بعد برطانیہ ہجرت کرنے والے نچلی ذات اور طبقے کے شہریوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا (برطانیہ کے شہریت کے قانون 1948 کے مطابق انڈیا کے مہاجر برطانیہ میں آزادی کے ساتھ آ جا سکتے تھے کیونکہ وہ برطانوی رعایا تھے)۔

دونوں ممالک کے عہدیداروں نے انڈین شہریوں کا ایک زمرہ تیار کیا جس میں مختلف درجات تھے اور انڈیا اور برطانیہ دونوں ہی کی طرف سے انھیں برطانیہ میں داخلے کے لیے ’ناپسندیدہ‘ سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس معاملے پر دونوں ممالک فائدہ اٹھانے کے لیے ساتھ کھڑے تھے۔ انڈیا کے لیے اس کا مطلب ’غیر موزوں، نچلی ذات اور غریب پسماندہ‘ شہریوں کی نقل و حرکت کو روکنا تھا جو ممکنہ طور پر ’مغرب میں انڈیا کو شرمندہ‘ کریں گے۔

ڈاکٹر نٹراجن کے مطابق برطانیہ کے لیے یہ اس لیے فائدہ مند تھا کہ اس سے ’سیاہ فام تارکین وطن‘ کی برطانیہ میں آمد کو روکنے میں مدد ملے گی۔

غیر سفید فام تارکین وطن کی آمد سے پیدا ہونے والے ’مسائل‘ کے بارے میں برطانیہ میں سنہ 1958 کی ایک رپورٹ میں مغربی انڈیا کے تارکین وطن اور دیگر انڈین اور پاکستانی تارکین وطن کے فرق کو واضح کیا گیا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ مغربی انڈیا کے تارکین وطن ’زیادہ تر اچھی قسم کے ہیں جو برطانوی معاشرے میں کافی آسانی سے فٹ ہو جاتے ہیں‘ جبکہ باقی دوسرے انگریزی بولنے سے قاصر ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی مہارت کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ برطانیہ کے معاشرے میں فٹ نہیں ہو پاتے۔

ڈاکٹر نٹراجن کا کہنا ہے کہ برصغیر سے برطانیہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے طبقاتی پس منظر کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ’زیادہ تر غیر ہنر مند، سادہ کسان جو انگریزی نہیں جانتے تھے‘ انھیں انگریزوں کے لیے برا شگون سمجھا گیا۔

1950 کی دہائی کے اوائل میں کامن ویلتھ ریلیشنز آفس سے تعلق رکھنے والے ایک برطانوی اہلکار نے ایک خط میں کہا تھا کہ انڈیا کے حکام نے ’غیر مخفی خوشی کا اظہار کیا‘ کہ ہوم آفس نے ’بعض مہاجرین کو واپس بھیج دیا۔‘

سب سے زیادہ پسماندہ برادریاں جیسے ’شیڈول‘ ذاتیں یا دلت جو آج انڈیا کی 1.4 ارب آبادی میں سے 23 کروڑ سے زیادہ ہیں، کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر ’ناپسندیدہ‘ یعنی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کو بھی پاسپورٹ دینے سے انکار کیا جاتا رہا۔

1960 کی دہائی میں اراکین پارلیمنٹ، قانون سازوں اور کونسلرز کو مالی ضمانتوں اور سکیورٹی چیک کے بغیر پاسپورٹ فراہم کرنے کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں کیونکہ سابقہ علیحدگی پسند علاقائی جماعتوں جیسے دراودا مننیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے اراکین کو پاسپورٹ دینے سے انکار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاسپورٹ کو محدود کرنے کے کئی طریقے تھے۔ درخواست دہندگان کو انگریزی کا ٹیسٹ دینا پڑتا تھا، ان کے پاس کافی رقم ہونی چاہیے تھی اور یہ دیکھا جاتا تھا کہ آيا وہ صحت عامہ کے ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں یا نہیں۔

برٹش انڈین مصنف دلیپ ہیرو نے بتایا کہ سنہ 1957 میں ’اچھی تعلیمی قابلیت اور مالی حوالہ جات کے باوجود‘ انھیں انڈیا میں پاسپورٹ حاصل کرنے میں چھ مہینے لگے۔

اس طرح کے جابرانہ کنٹرول کے غیر متوقع نتائج سامنے آئے: بہت سے انڈین شہریوں نے جعلی پاسپورٹ حاصل کر لیے۔

ایک ایسے ہی سکینڈل کے بعد ’ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے انڈین‘ جو انگریزی نہیں جانتے تھے انھیں سنہ 1959 اور 1960 کے درمیان مختصر مدت کے لیے پاسپورٹ کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔

واضح طور پر تقریباً دو دہائیوں تک انڈیا کا پاسپورٹ کا نظام ان لوگوں کے لیے جو مغرب کا سفر کرنا چاہتے تھے، خصوصی اور امتیازی درجے کا حامل رہا۔

سنہ 2018 میں اس کی اچانک بازگشت اس وقت سنائی دی جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے انڈیا کے گہرے نیلے رنگ کے پاسپورٹ کے ساتھ نارنجی رنگ یعنی ’اورینج‘ پاسپورٹ کی ایک نئی قسم کے منصوبوں کا اعلان کیا جو محدود تعلیم کے حامل غیر ہنر مند شہریوں کے لیے تھا تاکہ ترجیحی بنیاد پر ان کی مدد کی جا سکے۔

اس کے خلاف شور نے حکومت کو اس تجویز کو رد کرنے پر مجبور کیا۔

نٹراجن کہتی ہیں کہ اس طرح کی سکیم انڈیا کے دیرینہ نظریہ کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت ’دوسرے ممالک کو ایک ایسی جگہ کے طور پر سمجھنا ہے، جس کے لیے انڈیا کی اعلیٰ ذات اور طبقے کے لوگ ہی زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔‘