انڈین رکن اسمبلی کی ریپ اور قتل کو روکنے کے لیے بھنگ اور گانجے کے فروغ کی اپیل

،تصویر کا ذریعہunknown
انڈیا کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ریپ اور قتل جیسے جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انوکھی تجویز پیش کی ہے۔
ان کے مطابق شراب کے نشے کی وجہ سے یہ چیزیں ہوتی ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر کمیٹیاں بھی قائم ہیں۔
خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ڈاکٹر کرشنا مورتی باندھی نے کہا کہ ان کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ شراب کے نشے کی جگہ بھنگ اور گانجے کے استعمال کو فروغ دیں تاکہ ریپ اور قتل کے جرائم میں کمی آئے۔
اگرچہ انھوں نے یہ باتیں دو روز قبل کی ہیں لیکن ان پر رد عمل ان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آ رہا ہے۔
انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر شرینواس بی وی نے ان کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: 'بھنگ اور گانجے کے استعمال سے ریپ اور قتل نہیں ہوتے۔ حکومت اور کمیٹیوں کو چاہے کہ بھنگ اور گانجے کے استعمال کو فروغ دینے پر توجہ دیں۔۔۔ چھتیس گڑھ سے بی جے پی کے ایم ایل اے ڈاکٹر کرشنامورتی باندھی'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ویڈیو میں انھوں نے کیا کہا؟
سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے ایک ویڈیو میں انھیں یہ باتیں کہتے سنا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ میری ذاتی رائے ہے، کبھی میں نے اسمبلی میں صدر سے اپنی ایک جذباتی بات کہی تھی کہ جو ریپ ہو رہے ہیں، جو قتل ہو رہے ہیں، جو جھگڑا ہو رہا ہے یہ کہیں نہ کہیں ہماری ذہنیت اور شراب کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔'
ڈاکٹر کرشنا مورتی نے مزید کہا: 'لیکن میں نے اسمبلی میں پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ کیا کبھی بھنگ کھانے والے نے کوئی قتل کیا ہو؟ کبھی بھنگ کھانے والے لوگوں نے کسی کا ریپ کیا ہو، ڈکیتی کی ہو، مار پیٹ کی ہو تو بتا دینا۔ تو ہمیں اگر نشے کی ضرورت ہے تو اسے پورا کیسے کیا جائے اس کے لیے اور دارو کو کیسے بند کیا جائے اس کے لیے ایوان میں کمیٹیاں بھی بنی ہوئی ہیں۔ تو ان کمیٹیوں کو بھی چاہیے کہ کہ وہ اس جانب توجہ دیں کہ ہم بھنگ اور گانجے کی جانب کیسے بڑھیں۔ لوگوں کو اگر نشہ چاہیے تو ایک ایسا نشہ دیا جائے جس میں قتل نہ ہو، ریپ نہ ہو، جرائم نہ ہو اور ایسی ذہنیت بنے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے یہ بیان ریاست چھتیس گڑھ کے گوریلا-پیندرا-مرواہی ضلع میں ایک پروگرام کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے دیا تھا جس کے بعد ریاست میں حکمراں جماعت کانگریس کے حلقے میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ ایک عوامی نمائندہ کس طرح نشے کو فروغ دینے کی بات کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ انڈیا میں گانجے کی فروخت اور استعمال پر نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی دفعات کے تحت پابندی عائد ہے، جبکہ بھنگ، جو بھنگ کے پودے کے پتوں کا استعمال کرتے ہوئے کھانے کے قابل مرکب ہے، اس کی ایک حد تک قانون کے تحت اجازت ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق ریاست میں شراب پر پابندی کے کانگریس کے انتخابی وعدے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے، مستوری اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر باندھی نے کہا: 'ہم نے پہلے بھی ریاستی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور یہ 27 جولائی کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔'
خیال رہے کہ ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے کانگریس حکومت کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد چلا رکھی ہے جس پر اسی دن بحث ہونی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس کے بلاس پور ضلعے کے ترجمان ابھے نارائن رائے نے کہا کہ تین بار ایم ایل اے منتخب ہونے والے اور ریاست میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہنے والے مسٹر باندھی سماج کو نشے سے چھٹکارا دلانے کے بجائے کس طرح نشے کی لت کو فروغ دینے والا بیان دے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک نشے کو چھڑانے کے لیے دوسرے نشے کا آپشن جیسا بچکانہ خیال کسی بھی مہذب سماج میں ناقابل قبول ہے۔
بہرحال جب اس کے متعلق ریاست کے وزیر اعلی اور کانگریس رہنما بھوپیش بگھیل سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر وہ گانجے کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں تو انھیں مرکز سے مطالبہ کرنا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب مرکزی ایجنسیاں ممبئی میں 10 گرام گانجے کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو ایسے میں بی جے پی کے سینیئر لیڈر گانجے کے استعمال کی بات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نشے کی لت کسی بھی صورت اچھی چیز نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر تنقید
سوشل میڈیا پر اس کے بعد بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
نریش آہوجہ نامی ایک صارف نے لکھا: 'لگتا ہے مودی جی اس مشن پر رات دن کام کر رہے ہیں کہ دارو بند کرکے بھنگ-گانجے کا منصوبہ نافذ کیا جائے۔ تبھی تو میں کہوں کہ گجرات کی بندرگاہوں سے بڑی مقدار میں ہزاروں کروڑ کے ڈرگس آئے دن کس طرح پہنچ رہے ہیں۔ پکڑے بھی جا رہے ہیں، مگر سب خاموش! شاید چپکے سے یہ منصوبہ نافذ کریں گے مودی جی۔'
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
کئی لوگوں نے اس حوالے سے مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما سمرتی ایرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ خیال رہے کہ گانگریس کے کئی رہنماؤں نے دعوی کیا تھا کہ سمرتی ایرانی کی 18 سالہ بیٹی کے نام پر بار چلایا جا رہا ہے جس کے جواب میں ایرانی نے ان لوگوں سے غیرمشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
























