انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیغمبرِ اسلام سے متعلق متنازع بیان کو منظرعام پر لانے والے صحافی محمد زبیر کو رہا کرنے کا حکم

وقت اشاعت

انڈیا کی سپریم کورٹ نے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو ریاست اتر پردیش میں درج تمام چھ مقدمات میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔

جسٹس چندر چور کی سربراہی والی بینچ نے محمد زبیر کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اچھا ہو گا کہ تمام ایف آئی آر ایک ساتھ لائی جائیں اور ان کی تحقیقات ایک ایجنسی سے کروائی جائے۔

اگر بعد میں مزید ایف آئی آر درج ہوئیں تو ان کی تفتیش بھی ساتھ ہی کی جائے گی۔ عدالت نے دلی کی تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو محمد زبیر کو آج شام 6 بجے تک رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران جج جسٹس ڈی وائی چندرچور نے کہا، 'انہیں دہلی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ضمانت مل گئی ہے اور اتر پردیش کے سیتا پور ایف آئی آر میں ہم نےضمانت منظور کر دی ہے۔

زبیر کی وکیل نے کا دلائل دیں

اتر پردیش میں درج دیگر مقدمات کے بارے میں محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے سپریم کورٹ کو بتایا، 'انہیں ہاتھرس میں درج مقدمے میں عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب لکھیم پور کھیڑی کیس میں پولیس ریمانڈ کی درخواست کی سماعت آج ہوگی۔

ایڈوکیٹ گروور نے مزید کہا، 'براہ کرم، ان کے ٹوئٹس دیکھیں، اس میں اکسانے والی کوئی بات نہیں ہے'۔

انہوں نے سدرشن ٹی وی کی طرف سے دائر کیس کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، 'حقائق کی تحقیقات کرنے والے کے طور پر، انہوں نے سدرشن ٹی وی کے گرافکس میں سے ایک میں غلط مسجد کی تصویر دکھانے کا مسئلہ اٹھایا۔ بطور فیکٹ چیکر انہوں نے غزہ بم دھماکے میں اصل مسجد کی تصاویر پیش کیں'۔

ورندا گروور کے مطابق 'اس معاملے کو دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے لیکن سدرشن چینل نے ان پر 153 اے ، 295 اے کے تحت کیس درج کروایا ہے، یہ انہیں چپ کرانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے وہ کارروائی کریں گے ، اصل میں کون اکسا رہا ہے'۔

زبیر کی ٹوئٹ، گرفتاری اور مقدمات

گزشتہ 20 جون کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے محمد زبیر کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ان کے خلاف یہ ایف آئی آر 1983 کی فلم 'کسی سے نہ کہنا' کی ایک تصویر پوسٹ کرنے کے معاملے میں تھی جسے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) نے 2018 میں کلیئر کیا تھا۔

اس میں دکھایا گیا تھا کہ ہنی مون ہوٹل کا نام بدل کر ہنومان ہوٹل کر دیا گیا ہے۔ 'ہنومان بھکت' نامی ٹوئٹر صارف نے اس تصویر کے بارے میں شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

اسی تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے زبیر نے لکھا، '2014 سے پہلے ہنی مون ہوٹل، 2014 کے بعد ہنومان ہوٹل'۔ نریندر مودی 2014 میں وزیر اعظم بنے تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ محمد زبیر نے اس تصویر کے ذریعے پی ایم مودی پر طنز کیا تھا۔

محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے عدالت میں سوال اٹھایا اور کہا کہ اس مخصوص ٹوئٹ کی بنیاد پر پولیس محمد زبیر کو ان کے چار سال پرانے ٹوئٹ پر اچانک کیسے گرفتار کر سکتی ہے۔

اس کیس میں زبیر کو پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی۔

بعد میں محمد زبیر کے خلاف اتر پردیش میں چھ ایف آئی آر درج کی گئیں۔ بدھ کو سپریم کورٹ نے ان چھ مقدمات میں عبوری ضمانت بھی دے دی۔

اس سے قبل بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ ریمارکس کی وجہ سے انڈیا کو سفارتی سطح پر کافی پریشانی کا سامنا رہا تھا۔

کئی اسلامی ممالک نے انڈیا کے بارے میں بیانات جاری کرکے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ قطر نے انڈیا سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں نوپور شرما کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارٹی کی رکنیت سے معطل کر دیا تھا۔

دراصل نوپور شرما کا معاملہ محمد زبیر نے زور و شور سے اٹھایا تھا۔ بعد میں یہ معاملہ دیگر ممالک تک پہنچا اور پھر ایک ایک کر کے اسلامی ممالک نے انڈیا کے خلاف بیانات جاری کئے۔ بعد ازاں محمد زبیر کو مذہبی جذبات مجروح کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا۔

زبیر کون ہیں

39 سالہ زبیر ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئر ہیں جن کا تعلق بنگلور سے ہے۔ سنہ 2017 میں انھوں نے سافٹ وییر انجنیئر پرتِک سِنہا کے ساتھ مل کر آلٹ نیوز ویب سائٹ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کو حقائق کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کا بھانڈا پھوڑنا تھا۔

پچھلے پانچ سالوں کے دوران اس ویب سائٹ نے کئی ایسے دعووں کی قلعی کھولی جن کا مقصد مذہب اور ذات پات کے بارے میں گمراہ کن اور غیر سائنسی حقائق کو فروغ دینا تھا۔

آلٹ 2017 میں اپنے آغاز سے ہی حکومت کے نشانے پر رہی ہے۔ اس میں 3,000 سے زیادہ آرٹیکل شائع ہوئے ہیں جنھیں 60 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ ان میں ان ویڈیوز اور پیغامات کی حقیقت کو سامنے لایا گیا ہے جن میں خاص طور سے انڈیا کی مسلم اکثریت کا ہدف بنایا گیا تھا۔

زبیر سوشل میڈیا اور ٹی ویژن پر نشر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت تک پہنچنے کے ماہر ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے 'ان ہیٹ' کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا تھا جس کا مقصد نفرت پھیلانے والے بیانات کی دستاویزبندی ہے۔

زبیر ٹوئٹر پر نہایت سرگرم ہیں جہاں ان کے پانچ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ انھیں خود کو ہندو قوم پرست کہلانے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی جانب سے ٹرولنگ اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ زبیر کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے الزام کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ زبیر اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

حزب اختلاف، صحافیوں اور ایکیٹیوسٹ نے انھیں گرفتار کرنے پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔