جوان بیٹے کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شوہر کی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں موت: ’میں اب روز محشر ہی حساب لوں گی‘

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

    • مصنف, ماجد جہانگير
    • عہدہ, کشمیر سے بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک خاندان کی کمر 26 ماہ کے اندر ایک باپ اور بیٹے کی ہلاکت نے توڑ کر رکھ دی ہے۔

یہ ہلاکتیں بھلے ہی گولی لگنے کے باعث ہوئی ہوں مگر فرق یہ ہے کہ جہاں والد کی لاش مبینہ عسکریت پسندوں کی گولی سے ہوئی تو بیٹے کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کی گولی سے۔

کشمیر کے علاقے کلگام کا یہ لون خاندان اب تک دو سال قبل سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ مقابلے میں اپنے بیٹے کی ہلاکت سے ہی نہیں نکل پایا تھا کہ اب اس خاندان کے سربراہ کو بھی مار دیا گیا ہے۔

لائن

منگل کو جمّوں و کشمیر پولیس کے 55 سالہ اے ایس آئی مشتاق احمد لون سرینگر کے لال بازار میں اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے۔

بازار میں کافی چہل پہل تھی اور شام ہو جانے کے باعث اب لوگ گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔ اسی دوران مبینہ عسکریت پسندوں نے وہاں تعینات اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں اے ایس آئی مشتاق بھی تھے جو بعد میں ہلاک ہو گئے۔

اب مشتاق احمد لون کے گھر میں ماتم کی فضا ہے۔ اُن کی اہلیہ شکیلہ اختر کو ہم نے اُن کے گھر کے صحن میں روتے ہوئے دیکھا۔ وہ کبھی اپنے ہلاک بیٹے کو پکارتیں تو کبھی اپنے شوہر کو۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

اپنے شوہر کی موت سے قبل اُن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’اُنھوں نے عید ہمارے ساتھ گھر پر منائی تھی۔ اگلے دن اُنھیں دفتر سے فون آیا کہ اُنھیں ڈیوٹی پر آنا ہے۔ پھر وہ چلے گئے۔ حملے سے قبل میں نے اُن سے فون پر بات کی تھی۔ اُنھوں نے گھر والوں کی خیریت دریافت کی تھی۔‘

’شام سات بجے فیس بک پر اُن پر حملے کی خبر سامنے آنے لگی تو لوگ ہمارے گھر کے سامنے جمع ہو گئے۔ مجھے نہیں یاد اس کے بعد کیا ہوا۔ یہ دو برس میں دوسری مرتبہ ہے کہ ہمارے خاندان پر ایسی مصیبت آئی ہو۔ پہلے میرے بیٹے کو مار دیا گیا اور اب شوہر کو۔‘

مشتاق احمد لون کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ اُن کے بیٹے کے جنازے میں یہاں 150 کلومیٹر دور صرف خاندان کے افراد ہی شریک ہو پائے تھے۔

مشتاق کو مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔

جب پولیس کنٹرول روم میں مشتاق کی بیٹیاں اور بہنیں اُن کے تابوت کے پاس پہنچیں تو یہ مناظر نہایت تکلیف دہ تھے۔ ایک خاتون وہیں روتے روتے بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئیں۔ اُن کے بیٹے آصف لون کافی دیر تک اپنے والد کے تابوت کے ساتھ مجسم غم بنے بیٹھے رہے۔

عسکریت پسندوں نے منگل کو ہونے والے اس حملے کے اگلے روز 39 سیکنڈ کی حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں نے یہ ویڈیو خود ہی ریکارڈ کی تھی۔ اس میں عسکریت پسندوں کو پولیس پر مسلسل گولیاں برساتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ پولیس نے کہا کہ اس واقعے میں تین حملہ آور ملوث تھے۔ سینیئر پولیس عہدیدار وجے کمار نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

’میں روزِ محشر حساب لوں گی‘

جب شکیلہ اپنے شوہر مشتاق کی موت کے بارے میں بی بی سی سے بات کر رہی تھیں تو وہ بار بار اپنے بیٹے عاقب کی موت کی بات کرنے لگتیں۔

دو سال قبل اپریل 2020 میں لون خاندان کو فون پر پولیس نے اطلاع دی کہ اُن کے بیٹے ایک مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور وہ آ کر اُن کا چہرہ دیکھ لیں۔

’دو سال قبل ہمارا بیٹا مارا گیا اور اب میرے شوہر بھی۔ مشکلات کا ایک پہاڑ ہم پر ٹوٹا ہے۔ جب میرے بیٹے کو مارا گیا تو پولیس نے کہا کہ ہمیں خفیہ طور پر آ کر اس کا چہرہ دیکھنا ہو گا۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ ہم اسے تدفین کے لیے بارہ مولہ لے جائیں۔ میں نے پولیس سے کہا کہ دنیا میں آپ لوگوں کی اجارہ داری ہے، آخرت میں میں آپ سے حساب لوں گی۔‘

’پھر ہمیں گاڑی میں بارہ مولہ لے جایا گیا۔ سنہ 2020 میں کووڈ کی وجہ سے حالات خراب تھے اور ہم بھوکے پیاسے بارہ مولہ پہنچے۔‘

جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ اس دن کیا ہوا تھا تو اُنھوں نے بتایا کہ ’میرا بیٹا اس شام گھر سے بال کٹوانے کے لیے گیا تھا۔ پھر ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، اسے جنگجو ساتھ لے گئے، پولیس ٹاسک فورس یا کوئی اور۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اگلی صبح ہمیں پولیس کنٹرول روم (پی سی آر) نے فون کر کے کہا کہ ہم بیٹے کا چہرہ دیکھنے آ جائیں۔ میرے دوست کا فون پوری رات بجتا رہا تھا۔ ہم پوری رات جاگتے رہے۔ ہم سمجھے تھے شاید اس نے فون کہیں گرا دیا ہے۔ ہم سرینگر گئے اور پولیس سے مدد بھی مانگی مگر ڈی جی پولیس نے ہماری مدد نہیں کی۔‘

شکیلہ نے کہا: ’ہم نے پولیس سے کہا کہ ہمیں اس کی لاش دے دیں مگر پولیس نے ہماری مدد نہیں کی۔ خود کو بچانے کے لیے اُنھوں نے میرے بیٹے کے سینے پر ایک گرینیڈ اور پستول بھی رکھ دیا۔ اب میرے شوہر کے ساتھ ظلم ہو گیا ہے۔ ہم کس کو اپنا درد بتائیں۔ ہم تو ختم ہو چکے ہیں۔ میرے پاس اور کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

پولیس کا دعویٰ

سنہ 2020 میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ عاقب مشتاق کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مقابلے کے دوران چار عسکریت پسند مقابلے کی جگہ سے فرار ہو گئے تھے اور سرچ آپریشن کے دوران اُنھیں عاقب کی لاش ملی۔

اس وقت پولیس نے کہا تھا کہ عاقب مشتاق ’انتہاپسندوں کے ساتھی‘ تھے جنھوں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔

پولیس نے بعد میں یہ بھی کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں مگر اب تک ان تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔

خاندان کے ارکان نے اس وقت بھی پولیس کے دعوؤں کی تردید کی تھی اور وہ اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

عاقب کو اُن کے گھر سے 150 کلومیٹر دور ضلع بارہ مولہ میں دفنایا گیا جبکہ اُن کی ہلاکت اُن کے گھر سے دور ایک اور ضلع میں ہوئی تھی۔

عاقب کے بڑے بھائی آصف مشتاق گھر کے اندر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نیم دراز تھے۔ وہ نہ کسی سے بات کرنا چاہتے تھے اور بظاہر نہ ایسی حالت میں تھے۔ عاقب کی طرح اُنھوں نے بھی انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

ہم نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو اُنھوں نے بمشکل ایک یا دو باتوں کا ہی جواب دیا۔

جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ اُن کے گھر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے تو اُنھوں نے کہا کہ ’یہ سب کچھ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہے گا۔ لوگ گولیوں سے مارے جاتے رہیں گے۔ یہ گولیاں یہاں صرف لوگوں کو مارنے کے لیے ہی ہیں چاہے عسکریت پسندوں کی گولیاں ہوں یا سکیورٹی فورسز کی۔‘

جب اُن سے اُن کے بھائی کی ہلاکت کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا: ’ہم نہیں کہہ سکتے کہ اُس رات کیا ہوا تھا۔‘

ساتھ ہی اُنھوں نے ہم سے سوال کیا کہ ’وہ گھر سے نکلتے ہی ایک ہی رات میں عسکریت پسند کیسے بن گیا؟‘

خاندان کے دیگر تمام افراد بھی صدمے کی کیفیت میں تھے اور ہم سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ رشتے داروں اور پڑوسیوں نے بھی ہم سے بات کرنے سے معذرت کر لی۔ سب لوگ بظاہر خوفزدہ تھے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir

دونوں اطراف سے خوف

مشتاق احمد لون کے ایک پڑوسی حاجی مشتاق احمد ٹھاکر جو ان کے ساتھ پولیس میں کام کر چکے ہیں، نے بتایا کہ پہلے عاقب اور اب مشتاق کی ہلاکت نے اس خاندان کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا: ’پورا گاؤں ساری رات مشتاق احمد کے گھر پر جمع رہا۔ وہ میرے بیٹے کی طرح تھا۔ مشتاق احمد کی موت کی خبر سُننے کے بعد ہم ساری رات سو نہیں سکے۔ یہ اس گھرانے کے لیے بہت افسوسناک موقع ہے۔ باپ بھی گیا اور بیٹا بھی۔ مشتاق احمد نے اپنے پیچھے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔ بیٹا ان دو واقعات کی وجہ سے ذہنی طور پر ٹوٹ چکا ہے۔‘

ایک پڑوسی نے ہم سے کہا کہ آپ (میڈیا کے لوگوں) کے پاس تمام معلومات ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہاں کوئی بھی کھلے عام بات نہیں کرے گا کیونکہ ایک طرف اُنھیں عسکریت پسندوں کا اور دوسری طرف سکیورٹی فورسز کا ڈر ہے۔