آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: ہسپتال سے بیٹے کی لاش وصول کرنے کے لیے عوام سے بھیک مانگنے والا جوڑا
انڈیا میں ایک ایسی ویڈیو نے معاشرے میں غصے کو جنم دیا ہے جس میں ایک جوڑے کو بیٹے کی میت وصول کرنے کی غرض سے لوگوں کی منت سماجت کرتے اور بھیک مانگتے دیکھا جا سکتا ہے۔
شمالی ریاست بہار کے سمستی پور شہر میں بنائی جانے والی ویڈیو میں ایک ادھیڑ عمر شخص اور عورت کو لوگوں سے مدد مانگتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس جوڑے نے بتایا کہ وہ بھیک مانگنے پر اُس وقت مجبور ہوئے جب ہسپتال کے ایک ملازم نے اُن کے بیٹے کی موت کے بعد اس کی لاش حوالے کرنے کے عوض مبینہ طور پر بھاری رشوت کا مطالبہ کیا۔
ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ اس ملازم کے خلاف کارروائی کریں گے۔
لیکن اس ادھیڑ عمر جوڑے کی مایوسی اور اُن کی آپ بیتی انڈیا کے ان ہزاروں غریب خاندانوں کی کشمکش کی کہانی ہے جن کو ہسپتالوں میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معمولی کام کے لیے بھی بعض اوقات مبینہ طور پر رشوت دینی پڑتی ہے۔
’ہسپتال سے بیٹے کی لاش چاہیے تو پچاس ہزار روپے کا بندوبست کرو‘
مہیش ٹھاکر اور اُن کی اہلیہ نے انڈیا کے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ان کا بیٹا چند دن قبل لاپتہ ہو گیا تھا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں مہیش ٹھاکر کو ایک فون کال موصول ہوئی کہ ان کے بیٹے کی موت واقع ہو چکی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موت کی وجہ کیا تھی لیکن ان کو بتایا گیا کہ اس کی لاش شہر کے صدر ہسپتال میں موجود ہے۔
جب مہیش ٹھاکر ہسپتال پہنچے تو ایک ملازم نے مبینہ طور پر ان کو کہا کہ ان کے بیٹے کی لاش اسی صورت میں ان کے حوالے کی جائے گی اگر وہ پچاس ہزار روپے بطور رشوت ادا کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں مہیش ٹھاکر اور ان کی اہلیہ بے یارومددگار تھے اور یہ رقم ادا نہیں کر سکتے تھے چنانچہ انھوں نے بھیک مانگنے کا فیصلہ کیا۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے مہیش ٹھاکر نے کہا کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، اتنے پیسے کیسے دے سکتے ہیں؟‘
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی آخری رسومات ادا کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
مہیش ٹھاکر اور ان کی اہلیہ کی بھیک مانگتے ہوئے بنائی جانے والی ویڈیو آگ کی طرح ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور عوام میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔
صدر ہسپتال کے سول سرجن ایس کے چوہدری نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔
انڈیا کے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایس کے چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے میں جو کوئی بھی ذمہ دار پایا گیا اس کو معافی نہیں ملے گی۔ یہ تو انسانیت پر ایک دھبہ ہے، شرمناک بات ہے۔‘