آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مذہبی و انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی تشویش سے انڈیا کو فرق کیوں نہیں پڑتا؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
- وقت اشاعت
دنیا میں مذہبی آزادی پر نظر رکھنے والے ایک امریکی ادارے ’یو ایس آئی سی آر ایف‘ نے امریکی انتظامیہ سے سفارش کی ہے کہ وہ حقوق انسانی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انڈیا کو ‘گہری تشویش‘ والے ممالک کے زمرے میں شامل کرے۔
یاد رہے کہ مذہبی آزادی کے کمیشن نے انڈیا، چین، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ گیارہ اور ملکوں کو ’گہری تشویش‘ والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
یہ مسلسل تیسرا سال ہے جب امریکی کانگریس کے مقرر کردہ کمیشن نے انڈیا میں حقوق انسانی کی صورتحال پر تنقید کی ہے اور اسے تشویش کے زمرے میں رکھنے کی سفارش کی ہے۔ لیکن گذشتہ دو برس بائیڈن انتظامیہ نے اس کمیشن کی سفارشات کو ماننے سے انکار دیا تھا۔
اس کمیشن کی حیثیت نیم سرکاری ہے۔ امریکی حکومت اس کی سفارشات پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔ انڈیا نے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ گذشتہ برس کمیشن کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ‘کسی غیر ملکی ادارے کو ہمارے شہریوں کے آئینی حقوق کے بارے میں لیکچر دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔‘
’ہمارے یہاں بحث و مباحثے کے لیے پارلیمنٹ ہے۔ آئین کے تحت قائم کیے گئے ادارے ہیں، جو مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی کے ضامن ہیں۔‘
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی حکمراں بی جے پی اور اس کی اتحادی ہندو تنظیمیں ’اکثریتی ہندو راشٹر کے قیام کے لیے فرقہ واریت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس صورتحال سے مذہبی اقلیتوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔‘
رپورٹ میں انڈیا کے خلاف ’ٹارگٹڈ سینکشن‘ (پابندیاں عائد کرنے) کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں مذہبی رواداری تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظالم کو نظرانداز کر رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مزید کہا گیا کہ بی جے پی کی حکومت نے شہریت کا ترمیمی قانون سی اے اے منظور کیا ہے، جس کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلم تارکین جو پہلے سے ہی انڈیا میں مقیم ہیں انھیں تیزی سے شہریت دی جا سکے گی۔ اس کے نتییجے میں شہریت کا اندراج ’این آر سی‘ کا عمل مکمل ہونے کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی شہریت کھونے اور بے وطن ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
انڈیا کی طرف سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا ہے لیکن کئی ٹی وی چینلوں پر ایک انڈین نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن پر امریکہ کے ’اسلام پرستوں‘ کا غلبہ ہے اور ان کے زیر اثر یہ کمیشن انڈیا کے بارے میں منفی رپورٹ پیش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ہندوؤں کو بدنام کرنے کی ایک عالمی سازش کا حصہ ہے۔
اس رپورٹ میں امریکہ میں واقع انڈین امریکن مسلم تنظیم کا نام لیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں مقیم انڈین مسلمانوں کی یہ تنظیم اںڈیا میں جمہوریت اور حقوق انسانی اور قانون کی بالادستی کے نظام کی حمایت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
چند مہینے پہلے انڈین سکیورٹی ایجنسیوں نے اس تنظیم کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ کچھ عرصے پہلے اس تنظیم نے ملک کے سابق نائب صدر حامد انصاری کو انڈیا کی صورتحال پر ایک لیکچر کے لیے بلایا تھا، جس پر انڈیا میں کافی تنقید ہوئی تھی۔
اس بات کے امکان کم ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ مذہبی آزادی کے کمیشن کی سفارشات پر عمل کرے گی۔ انڈیا کی حکومت بھی اس رپورٹ کو ماضی کی طرح شدت سے مسترد کرے گی۔ حکومت اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کی رپورٹ، یورپی یونین کی رپورٹ، ’جینوسائڈ واچ‘ اور اس طرح دیگر تنظیموں کی سفارشات، مشاہدات اور رپورٹوں کو مسترد کرتی رہی ہے۔
یہی نہیں اںڈیا نے مذہبی آزادی کے امریکی کانگریس کے کمیشن کے کئی ارکان کو کئی برس سے انڈیا آنے کا ویزا بھی نہیں دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل کے سابق سربراہ آکار پٹیل نے ایک ٹویٹ پیغام میں یاد دلایا ہے کہ سنہ 2002 میں گجرات فسادات کے لیے اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی پر امریکہ آنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ کمیشن کے دو ارکان نے اس کی محالفت کی تھی۔
لیکن لگاتار دو برس سے یہ کمیشن انڈیا کے خلاف پابندیاں لگانے کی سفارش کر رہا ہے لیکن بائیڈن انتطامیہ ان کی سفارشات کو مسترد کر رہی ہے۔
امریکی اور یورپی اہلکار بھی انڈین رہنماؤں سے اپنی ملاقوں میں حقوق انسانی کے معاملات کا محض سرسری ذکر کرتے ہیں۔
حال ہی میں برطانیہ کے وزیر اعظم سے جب پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے وزیر اعظم مودی سے اپنی ملاقات میں انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور تفریق کا ذکر کیا تھا تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ایسی ملاقاتوں میں سبھی پہلوؤں پر بات چیت ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی غیر ممالک میں اپنی شبیہ کے بارے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ملک کے اندرونی حالات سے نہ صرف یہ کہ پوری دنیا میں انڈیا کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ان کا ذاتی امیج بھی اس سے مجروح ہوا ہے۔ معروف دانشور غزالہ وہاب کہتی ہیں کہ امریکہ اور یورپ سے انڈیا کے اقتصادی اور سیاسی تعلقات تیزی سے وسیع ہو رہے ہیں۔
امریکہ کو انڈیا کی ضرورت ہے، یورپ کو انڈیا کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک انڈیا کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ ان حالات میں انڈیا کو پتا ہے کہ حقوق انسانی اور اقلیتوں کا سوال اہمیت نہیں رکھتا۔
’ان سوالوں پر رسمی بات چیت ہوتی ہے لیکن کوئی مشکل نہیں پیدا ہوتی۔‘
انڈیا میں گزرے ہوئے برسوں میں حقوق انسانی کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور حکومت پر تنقید کرنے والے دانشور اور ادارے کافی کمزور ہوئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے ملک میں انسانی حقو ق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔
انڈیا ایک متحرک اور فعال جمہوریت ہے اور یہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ اسی لیے مذہبی آزادی اور تفریق اور تشدد پر اس طرح کی بین الاقوامی رپورٹیں حکومت کے لیے مشکل اور سبکی کا باعث ہیں۔