آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: پولیس سٹیشن میں صحافیوں کے کپڑے اتروانے اور تصویر وائرل ہونے کا معاملہ
- مصنف, دلنواز پاشا
- عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے سدھی ضلع کے ایک پولیس سٹیشن کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں کچھ نیم برہنہ لوگ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تصویر میں موجود یہ لوگ مقامی صحافی ہیں۔
بی بی سی نے اس پورے واقعے کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی۔
معاملہ کیا ہے؟
یہ تصویر 2 اپریل کی رات تقریباً 8.30 بجے سدھی کوتوالی کی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والے آٹھ نیم برہنہ لوگوں میں سے دو مقامی صحافی اور باقی ڈرامہ آرٹسٹ ہیں۔
یہ لوگ ایک مقامی تھیٹر آرٹسٹ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس کے بعد مبینہ طور پر پولیس نے ان سب کو پکڑا اور ان کے کپڑے اتار کر تھانے میں پریڈ کرائی۔
تاہم پولیس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والے صحافی کنشک تیواری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر میں نظر آنے والے لوگوں میں ’ہم دو صحافی ہیں، ایک میں اور ایک میرا کیمرہ مین۔ باقی مقامی تھیٹر ورکرز اور آر ٹی آئی کارکن ہیں، جو ایک معاملے میں تھیٹر آرٹسٹ نیرج کندیر کی گرفتاری کی مخالفت کر رہے تھے۔‘
معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کنشک نے دعوی کیا کہ 'مقامی پولیس نے نیرج کندیر کو مقامی ایم ایل اے کیدار ناتھ شکلا کے خلاف جعلی فیس بک پروفائل بنا کر توہین آمیز ریمارکس کے الزام میں گرفتار کیا۔ تھیٹر کے کارکن اس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ میں اپنے کیمرہ مین کے ساتھ وہاں کوریج کے لیے گیا تھا۔'
کنشک نے الزام لگایا کہ وہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے کیدارناتھ شکلا کے خلاف لکھتے رہے ہیں، اس لیے ان کے اشارے پر ہی پولیس نے تھیٹر کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی حراست میں لے لیا اور ان کی پٹائی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کنشک نے الزام لگایا کہ 'تھیٹر کے کارکن احتجاج کر رہے تھے۔ جب پولیس نے انہیں حراست میں لیا تو میں ان کی کوریج کر رہا تھا۔ پولس نے مجھے میرے کیمرہ مین سمیت پکڑ لیا۔ ہم سب کو نیم برہنہ کر کے تھانے میں جلوس میں نکالا گیا۔ بعد میں تھانہ انچارج کے کیمرے میں یہ تصویر لی گئی۔‘
کنشک کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے کئی بار پولیس کے اس سلوک کی شکایت کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے سدھی ضلع کے ایس ایس پی مکیش کمار کا کہنا ہے کہ 'نیرج کندیر ایک تھیٹر آرٹسٹ ہیں جن کی گرفتاری کے بعد لوگ احتجاج کرنے آئے اور تھانے کے باہر قابل اعتراض نعرے لگا رہے تھے، پولیس نے ان کو سمجھایا لیکن انھوں نے پولیس کی ایک نہ سنی۔'
رات گئے مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا اور انہیں 151 کے تحت قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔
مکیش کمار کا کہنا ہے کہ 'ان لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔'
گرفتار شدہ لوگوں کو برہنہ کرنے کی تحقیقات
حراست میں لیے گئے افراد کو نیم برہنہ کرنے اور ان کی تصاویر لینے کے سوال پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ تصاویر میرے علم میں ہیں اور ان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ تصاویر کن حالات میں لی گئیں۔'
جو تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اس میں صحافی اور دیگر افراد نیم برہنہ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تصویر انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔ تاہم، براہ راست پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ 'کس اصول کے تحت' ہوا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ مکیش کمار کا کہنا ہے کہ 'یہ کن حالات میں ہوا ہے، کن اصولوں کے تحت کیا گیا ہے، ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، اگر یہ اصول کے خلاف ہے تو ہم سٹیشن انچارج سمیت دیگر پولیس والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔'
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ اگر رپورٹ میں پولیس اہلکار قصور وار پائے گئے تو سخت کارروائی کریں گے۔
’کنِشک صحافی نہیں‘
اس سوال پر کہ کیا تصویروں میں موجود لوگ صحافی ہیں، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ 'جہاں تک میں جانتا ہوں کہ کنِشک مقامی یوٹیوبر ہیں جو یوٹیوب پر خبریں ڈالتے ہیں۔'
کنشک تیواری کا الزام ہے کہ پولیس نے مقامی ایم ایل اے کے کہنے پر ایسا کیا۔ اس سوال پر کہ کیا پولیس نے کسی اثر و رسوخ میں یہ کارروائی کی، پولیس سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ 'یہ الزام بے بنیاد ہے۔ کنشک تیواری کے خلاف پہلے سے ہی ایک کیس ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ 2021 میں وہ ایک ہاسٹل میں گھس گیا تھا اور اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 452 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے، تاہم انہیں کسی بھی معاملے میں گرفتار نہیں کیا گیا۔'
کنشک تیواری نے مقامی بی جے پی ایم ایل اے کیدارناتھ شکلا پر پولیس کو استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کنشک کا الزام ہے کہ وہ اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے ایم ایل اے کے خلاف خبریں دیتے ہیں، اسی لیے ان کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم کیدارناتھ شکلا ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے شکلا نے کہا کہ 'صحافیوں کے خلاف کوئی واقعہ نہیں ہوا، کسی صحافی نے الزامات نہیں لگائے، وہ شخص صحافی نہیں ہے، آپ اسے صحافی نہ کہیں۔ اس سے زیادہ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کہوں گا۔'
جب بی بی سی نے ایم ایل اے سے پوچھا کہ کیا یہ واقعہ تھانے میں ہوا ہے یا نہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہوا ہے لیکن کسی صحافی کے ساتھ نہیں ہوا۔
دوسری جانب کنشک کا دعویٰ ہے کہ وہ 'ایم پی سندیش نیوز' کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتے ہیں جس کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ کنشک کا دعویٰ ہے کہ وہ قومی میڈیا سے بھی وابستہ رہے ہیں۔